اصلاح کی درخواست

امان زرگر

محفلین
بالخصوص ردیف کے حوالے سے مشورہ دیں. درست ہے یا مزید بہتر ردیف کیا ہو سکتی ہے؟

روا دل پر مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو

لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو

ملی منزل بھٹکتے دل کے جذبوں کو
جبیں نے پا لیا نقشِ قدم دیکھو

مری سب حسرتیں خوں ہو گئیں دل میں
محبت نے روا رکھا ستم دیکھو

نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپاتے ہیں جنوں پرور جو غم دیکھو

بنا لیں یادگار اک پیار کی ہم بھی
سدھاریں جا کے پھر کوئے عدم دیکھو
(بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سدھارو جا کے پھر کوئے عدم دیکھو)

گنہ گاری بھلا کیا؟‎ پارسائی کیا؟
کبھی ٹوٹے نہ ہستی کا بھرم دیکھو!​
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
امان بھائی،
ماشااللہ غزل اچھی ہے۔

کہاں آپ مجھے اساتذہ کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں؟
میں تو خود ابھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔
خیر،اپنی رائے پیش کر دیتا ہوں۔
روا دل پر مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو
روا کا استعمال مجھے عجیب لگ رہا ہے۔
روا رکھو پڑھا ہے۔
ممکن ہے میری کم علمی اور کج فہمی ہو۔

نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپاتے ہیں جنوں پرور جو غم دیکھو
"جو" کی تکرار سے مفہوم مبہم ہو گیا ہے میرے خیال میں
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سدھارو جا کے پھر کوئے عدم دیکھو
یہاں ردیف "دیکھو" اضافی لگ رہی۔
کہاں آنکھوں سے ہو اظہار حال دل
جنوں پرور چھپا لیتے ہیں غم دیکھو
یہ اچھا لگا۔
باقی اشعار مجھے درست لگ رہے ہیں۔
اور یہ میری ذاتی رائے ہے۔آپ اس کو بلاجھجک رد کر دیں۔
اور اساتذہ بہتر بتائیں گے۔ان کی رائے کا انتظار کر لیجیے۔
ایک بار پھر ایک اچھی غزل پر داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔
 
آخری تدوین:

امان زرگر

محفلین
امان بھائی،
ماشااللہ غزل اچھی ہے۔

کہاں آپ مجھے اساتذہ کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں؟
میں تو خود ابھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔
خیر،اپنی رائے پیش کر دیتا ہوں۔

روا کا استعمال مجھے عجیب لگ رہا ہے۔
روا رکھو پڑھا ہے۔
ممکن ہے میری کم علمی و کج فہمی ہو۔


"جو" کی تکرار سے مفہوم مبہم ہو گیا ہے میرے خیال میں

یہاں ردیف "دیکھو" اضافی لگ رہی۔

یہ اچھا لگا۔
باقی اشعار مجھے درست لگ رہے ہیں۔
اور یہ میری ذاتی رائے ہے۔آپ اس کو بلاجھجک رد کر دیں۔
اور اساتذہ بہتر بتائیں گے۔ان کی رائے کا انتظار کر لیجیے۔
ایک بار پھر ایک اچھی غزل پر داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔
شکر گزار ہوں بھائی جی. آپ نے رائے اور مشوروں سے سے نوازا
 

الف عین

لائبریرین
@عاطگ ملک کے ارتراضات درست ہیں۔ ان کے علاوہ
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
’دیں ہر گز‘ اگر شیخ کے لیے استعمال کیا ہے، تو بہتر ہو کہ ’ہٹنے نہیں دیتے‘ استعمال کیا جائے۔ اگر، اگرچہ پھر میں مطلب نہیں سمجھ سکا،
’دیں‘ سے مراد ’دیجئے‘ ہے تو یہ خلاف صیغہ نہیں ہو گیا؟ یہاں ’دو ہر گز‘ ہونا تھا۔
ویسے ’تازہ‘ بھی بھرتی کا ہی ہے!!
 

امان زرگر

محفلین
@عاطگ ملک کے ارتراضات درست ہیں۔ ان کے علاوہ
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
’دیں ہر گز‘ اگر شیخ کے لیے استعمال کیا ہے، تو بہتر ہو کہ ’ہٹنے نہیں دیتے‘ استعمال کیا جائے۔ اگر، اگرچہ پھر میں مطلب نہیں سمجھ سکا،
’دیں‘ سے مراد ’دیجئے‘ ہے تو یہ خلاف صیغہ نہیں ہو گیا؟ یہاں ’دو ہر گز‘ ہونا تھا۔
ویسے ’تازہ‘ بھی بھرتی کا ہی ہے!!
سر مئے تازہ نئے زمانے کی شراب کے معانی میں لیا ہے . ’ہٹنے نہیں دیتے‘ سے شعر خوبصورت ہو گیا، تازہ کا متبادل اور عاطف ملک کے اعتراضات کا 'حل' سوچتا ہوں سر.
 

امان زرگر

محفلین
@عاطگ ملک کے ارتراضات درست ہیں۔ ان کے علاوہ
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
’دیں ہر گز‘ اگر شیخ کے لیے استعمال کیا ہے، تو بہتر ہو کہ ’ہٹنے نہیں دیتے‘ استعمال کیا جائے۔ اگر، اگرچہ پھر میں مطلب نہیں سمجھ سکا،
’دیں‘ سے مراد ’دیجئے‘ ہے تو یہ خلاف صیغہ نہیں ہو گیا؟ یہاں ’دو ہر گز‘ ہونا تھا۔
ویسے ’تازہ‘ بھی بھرتی کا ہی ہے!!
لبوں کو جام سے ہٹنے نہیں دیتے
مئے گل گوں پئیں شیخِ حرم دیکھو
(مئے کوثر پیئں شیخِ حرم دیکھو)
(سراپا عیش اب شیخِ حرم دیکھو)
بھائی عاطف ملک
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سدھارو یہ جہاں، کوئے عدم دیکھو
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپاتے ہیں جنوں پرور یوں غم دیکھو
چھپا/ چھپے دل میں مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
محاورے کے لحاظ سے ’سدھارو اس جہاں سے‘ ہونا چاہئے۔ محض سِدھارو یہ جہاں‘ نا مکمل ہے۔ یعنی اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو۔ ورنہ ممکن ہے یہ پیش سے سُدھارو ہو!!!
مئے گل گوں درست اضافہ ہے

چھپاتے ہیں جنوں پرور یوں غم دیکھو
اگر یوں کہیں تو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم۔۔۔۔۔ تو؟؟
 

امان زرگر

محفلین
آخری تدوین:

امان زرگر

محفلین
چھپاتے ہیں جنوں پرور یوں غم دیکھو
اگر یوں کہیں تو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم۔۔۔۔۔ تو؟؟
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم دیکھو

چھپا/ چھپے دل میں مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو​
 
Top