غزل برائے اصلاح ( فاعلاتن مفاعلن فعلن)

نوید ناظم

محفلین
بس مرے یار کم نہیں ہوتے
دل کے آزار کم نہیں ہوتے

ہم کو سایہ نہ مل سکا یاں پر
ورنہ اشجار کم نہیں ہوتے

یہ بڑھاتے ہیں اور مرے غم کو
کیوں یہ غمخوار کم نہیں ہوتے

دب کے رہ جاتے ہیں مرے کندھے
دکھ کے انبار کم نہیں ہوتے

جھوٹ لکھا ہے جھوٹ چھاپا ہے
پھر بھی اخبار کم نہیں ہوتے

تم نوید ان کو چھیڑ کر دیکھو
دل کے یہ تار کم نہیں ہوتے
 

فاخر رضا

محفلین
بھائی اساتذہ کی آراء تو آہی جائے گی، سب سے پہلے ہماری مبارکباد قبول کریں. بہت پیارے اشعار. سمپل مگر بیوٹیفل.

تم نوید ان کو چھیڑ کر دیکھو
دل کے یہ تار کم نہیں ہوتے
اگر وقت ملے تو تفصیل سے دل کے تاروں کے بارے میں بتائیے گا. ہم نے تو تاروں کے کرنٹ کو بھی چھوا ہے. اور کاغذ پر تصویر بھی اتاری ہے. باقاعدہ ایک جینیریٹر لگا ہوتا ہے دل میں. اسی سے بجلی بنتی ہے، روشنی ہوتی ہے اور ساز بھی بجتے ہیں. بس کوئی کوئی ہی سن اور سمجھ پاتا ہے
 

الف عین

لائبریرین
آخر کے تینوں اشعار خوب ہیں، اصلاح سے ماورا، لیکن پہلے تین پسند نہیں آئے۔ مطلع دو لخت ہے، باقی اشعار میں بھی ردیف درست نہیں لگتی۔ ’یاں پر‘ بھی اچھا نہیں لگتا۔ ’ہم کو سایہ بھی مل سکا نہ یہاں‘ کیا جا سکتا ہے۔
 

نوید ناظم

محفلین
آخر کے تینوں اشعار خوب ہیں، اصلاح سے ماورا، لیکن پہلے تین پسند نہیں آئے۔ مطلع دو لخت ہے، باقی اشعار میں بھی ردیف درست نہیں لگتی۔ ’یاں پر‘ بھی اچھا نہیں لگتا۔ ’ہم کو سایہ بھی مل سکا نہ یہاں‘ کیا جا سکتا ہے۔
سر آپ کی شفقتوں کا بے حد شکریہ۔۔۔۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور آپ یوں ہی اپنے علم کی زکوٰۃ نکالتے رہیں۔
پہلا مصرعہ بعد میں لے آیا ہوں' کیا اس سے شعر کے دو لخت ہونے میں کمی واقع ہوئی۔۔
دل کے آزار کم نہیں ہوتے
بس مرے یار کم نہیں ہوتے

دوسرے شعر کے لیے خوب مصرعہ عطا کیا آپ نے۔۔۔ وہ اَیز اِٹ اِز وصول کر لیا۔

''یہ بڑھاتے ہیں اور مرے غم کو'' ۔۔۔یہ والا شعر اگر قابلِ قبول ہے تو ٹھیک' اگرچہ کمزور ہے' ورنہ حذف کیے دیتا ہوں ؟

سر ردیف کا غلط ہونا ضرور بتا دیں کہ کیسے ہوئی۔۔۔ یہ تو ایک بڑی غلطی ہے۔
 

نوید ناظم

محفلین
بھائی اساتذہ کی آراء تو آہی جائے گی، سب سے پہلے ہماری مبارکباد قبول کریں. بہت پیارے اشعار. سمپل مگر بیوٹیفل.

تم نوید ان کو چھیڑ کر دیکھو
دل کے یہ تار کم نہیں ہوتے
اگر وقت ملے تو تفصیل سے دل کے تاروں کے بارے میں بتائیے گا. ہم نے تو تاروں کے کرنٹ کو بھی چھوا ہے. اور کاغذ پر تصویر بھی اتاری ہے. باقاعدہ ایک جینیریٹر لگا ہوتا ہے دل میں. اسی سے بجلی بنتی ہے، روشنی ہوتی ہے اور ساز بھی بجتے ہیں. بس کوئی کوئی ہی سن اور سمجھ پاتا ہے
ممنون ہوں آپ نے حوصلہ افزائی کی۔۔۔ بڑا اسرار و رموز والا موضوع ہے جی یہ تو۔۔۔ یہ تو کچھ ایسا سفر ہے جیسے فرمایا فرمانے والوں نے ۔۔۔۔
چلے ہو ساتھ تو ہمت نہ ہارنا واصف
کہ منزلوں کا تصور مرے سفر میں نہیں۔
 

فاخر رضا

محفلین
ممنون ہوں آپ نے حوصلہ افزائی کی۔۔۔ بڑا اسرار و رموز والا موضوع ہے جی یہ تو۔۔۔ یہ تو کچھ ایسا سفر ہے جیسے فرمایا فرمانے والوں نے ۔۔۔۔
چلے ہو ساتھ تو ہمت نہ ہارنا واصف
کہ منزلوں کا تصور مرے سفر میں نہیں۔
ایک نالائق ڈاکٹر ایسے ہی تعریف کرسکتا ہے. مگر دل کی تاروں کا ذکر پڑھ کر رہا نہیں گیا اس لئے جو دل میں آیا لکھ دیا
 

نوید ناظم

محفلین
ایک نالائق ڈاکٹر ایسے ہی تعریف کرسکتا ہے. مگر دل کی تاروں کا ذکر پڑھ کر رہا نہیں گیا اس لئے جو دل میں آیا لکھ دیا
ڈاکٹرصاحب آپ خوش رہیں۔۔۔ 'نالائق' کسی کی تعریف نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ صرف حسد کرتا ہے۔۔'دل' اور 'دلبری' اس کا شعبہ ہی نہیں وہ سنگ و خشت کو ہی فضل سمجھتا ہے اسے گداز دل کی کارفرمائیاں کیا پتہ۔۔۔ آپ کے پاس تو ماشاءاللہ لطیف دل ہے وہ بھی اس قدر کہ ادھر کسی نے دل کے تاروں کو چھیڑنے کی بات کی اُدھر دل کے تار چھڑنے لگے۔۔۔آپ کی عاجزی اپنی جگہ مگر یوں خود کے لیے 'نالائق' کا لفظ استعمال کر کے اس طالب علم کو شرمندہ تو نہ کریں۔۔۔ آپ نے جو تعریف کی تو یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ ایک مبتدی کی بات کے اندر سے بھی لطف ڈھونڈ نکالا۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک سلامت رکھے!!
 

الف عین

لائبریرین
مطلع قبول کیا جا سکتا ہے۔
یہ بڑھا دیتے ہیں مرے غم کو
بہتر مصرع ہو جاتا ہے، اگرچہ اس میں ’اور‘ شامل نہیں۔
 
بہت اچھے، بھیا۔ ہمیں تو بس ایک شعر پر اعتراض ہے فی الحال۔
یہ بڑھاتے ہیں اور مرے غم کو
کیوں یہ غمخوار کم نہیں ہوتے
پہلے مصرع میں "اور" کو سببِ خفیف یعنی فع کے وزن پر باندھا گیا ہے۔ قاعدہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ اور کا لفظ اگر حرفِ عطف (ایسا حرف جو دو کلموں یا جملوں کو جوڑتا ہے) کے طور پر آئے تو اسے سببِ خفیف (فع) اور وتدِ مفروق (فاع) دونوں کے وزن پر باندھا جا سکتا ہے۔
مثال دیکھیے:
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
(فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

ادب ہے اور یہی کش مکش تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو؟
(مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن)​
تقطیع کریں گے تو معلوم ہو گا کہ پہلے شعر کے مصرعِ ثانی میں حرفِ عطف کو سببِ خفیف کے وزن پر باندھا گیا ہے اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں میں وتدِ مفروق کے وزن پر۔ دونوں طرح درست ہے۔
لیکن اگر "اور" بمعنیٰ مزید یا مختلف آئے یا اس قسم کی دلالتیں رکھتا ہو تو لازم ہے کہ اسے وتدِ مفروق کے وزن پر باندھا جائے۔ اساتذہ کے ہاں تو خیر اس کا التزام رہا ہی ہے مگر مستند معاصر شعرا نے بھی اس روایت کا کماحقہٗ لحاظ کیا ہے۔ لہٰذا اس کی رعایت نہ کرنے کو عیب گننا چاہیے۔
مثال ملاحظہ ہو:
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
(مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل/فعولن)​
مصرعِ اولیٰ میں اور کا لفظ مزید کے معنیٰ میں ہے اور مصرعِ ثانی میں مختلف کے معنیٰ میں۔ دونوں جگہ اس کا وزن وتدِ مفروق یعنی فاع ہی کا ہے۔
 
آخری تدوین:

نوید ناظم

محفلین
بہت اچھے، بھیا۔ ہمیں تو بس ایک شعر پر اعتراض ہے فی الحال۔

پہلے مصرع میں "اور" کو سببِ خفیف یعنی فع کے وزن پر باندھا گیا ہے۔ قاعدہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ اور کا لفظ اگر حرفِ عطف (ایسا حرف جو دو کلموں یا جملوں کو جوڑتا ہے) کے طور پر آئے تو اسے سببِ خفیف (فع) اور وتدِ مفروق (فاع) دونوں کے وزن پر باندھا جا سکتا ہے۔
مثال دیکھیے:
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
(فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

ادب ہے اور یہی کش مکش تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو؟
(مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن)​
تقطیع کریں گے تو معلوم ہو گا کہ پہلے شعر کے مصرعِ ثانی میں حرفِ عطف کو سببِ خفیف کے وزن پر باندھا گیا ہے اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں میں وتدِ مفروق کے وزن پر۔ دونوں طرح درست ہے۔
لیکن اگر "اور" بمعنیٰ مزید یا مختلف آئے یا اس قسم کی دلالتیں رکھتا ہو تو لازم ہے کہ اسے وتدِ مفروق کے وزن پر باندھا جائے۔ اساتذہ کے ہاں تو خیر اس کا التزام رہا ہی ہے مگر مستند معاصر شعرا نے بھی اس روایت کا کماحقہٗ لحاظ کیا ہے۔ لہٰذا اس کی رعایت نہ کرنے کو عیب گننا چاہیے۔
مثال ملاحظہ ہو:
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
(مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل/فعولن)​
مصرعِ اولیٰ میں اور کا لفظ مزید کے معنیٰ میں ہے اور مصرعِ ثانی میں مختلف کے معنیٰ میں۔ دونوں جگہ اس کا وزن وتدِ مفروق یعنی فاع ہی کا ہے۔
بے حد شکریہ راحیل بھائی۔۔۔۔ بہت خوبصورت انداز میں بات کو سمجھا دیا آپ نے۔
 
Top