lucky winner

anwarjamal

محفلین
،،، لکی ونر ،،،

مجھے خوابوں سے عشق اور میری بیوی کو ان سے نفرت ہے ،،
وہ کہتی ہے ، کیا کرنے ہیں آنکھوں میں خواب سجا کر ؟ بس جو ہے سو ہے ، حقیقت پر نظر رکھنی چاہئے ،،

یہ بات کہتے وقت وہ کچھ تلخ سی ہو جاتی ہے ،،

ایسا نہیں ہے کہ وہ زندگی سے بیزار کوئی غیر جذباتی اور مردہ دل قسم کی خاتون ہے ،،
میں جانتا ہوں پہلے وہ بہت خواب دیکھتی تھی ،، زندگی سے بھرپور خواب ،، آنے والے دنوں میں ملنے والی خوشیوں کے خواب ،،
مگر ایک دن شومئی قسمت سے اس کے کچھ خواب چکنا چور ہو گئے اور وہ کھڑی سب کا منہ ہی دیکھتی رہ گئی ،،

دراصل اس دن اس کی بارات آ رہی تھی ،، میں اپنے ہاتھ سے مہمانوں کے لیے کرسیاں لگا رہا تھا ،، وہ میرے ایک دوست کی بہن تھی ، کئی بار میں اسے اس کے گھر کے دروازے پر دیکھ چکا تھا ،، اور یہ تسلیم بھی کر چکا تھا اپنی گلی میں اس سے زیادہ حسین لڑکی اور کوئی نہیں,,

ہم نے باراتیوں کے استقبال کیلئے ساری تیاریاں مکمل کر لی تھیں ،،دلہا دلہن کے بیٹھنے کیلئے خوبصورت اسٹیج تیار تھی ،، کھانے میں بھی تین چار قسم کے آئٹم تھے ،، جنریٹر کا انتظام بھی کر لیا گیا تھا ،، تا کہ عین وقت پر اگر لائٹ چلی جائے تو مہمانوں کو کوئی پریشانی نہ ہو ،،

جملہ انتظامات سے مطمئن ہونے کے بعد میں اٹھا اور اجازت چاہی کہ میں ذرا گھر کا چکر لگا کے آتا ہوں ،،
میرے دوستوں نے پہلے تو روکا ،،مگر میرے اصرار پر کہا کہ اچھا جاؤ مگر جلدی آ جانا ،،

میرا ماننا ہے کہ جیسے دعاؤں کی قبولیت کا ایک وقت ہوتا ہے ایسے ہی خوابوں کی تعبیر کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ،،
میں نے واپس مڑتے ہوئے ایک دوست کے کان میں سرگوشی کی ،،کہا کہ دیکھ بھائی میں تو جا رہا ہوں اسنوکر کھیلنے ،اگر بارات آ کر واپس لوٹ جائے تو مجھے بلا لینا ، میں کر لوں گا شادی ،،
میں بن جاؤں گا دلہا ،،

دوست میرے ہاتھ پر ہاتھ مار کے ہنسا ،، ظاہر ہے یہ معمول کا ایک مزاق تھا ،،

لیکن ہوا بالکل وہی ،،

بارات آئی تو جانے کس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا گیا ،،
لڑکے کے باپ نے دھمکی دے دی ،،
اوئے میں برات واپس لے جاواں گا ،،

باراتی جو خوش گپیوں میں مشغول تھے ،،جھگڑے کی آواز سن کر سٹپٹا گئے ،،

بارات واپس لے جاؤ گے ؟ ،، لے جاؤ

لڑکی کا باپ بھی اشتعال میں آ گیا ،،
دراصل دونوں ہی باپ بڑے دبنگ قسم کے تھے ،،ان کے آگے کسی کی مجال نہیں تھی کہ چوں بھی کر جائے ،،
عورتوں کے دل اچھل کر حلق میں آ گئے ،،،ے ،،

لڑکی کے باپ کی دھاڑنے کی آواز ایک مرتبہ پھر سنائی دی ،،

لے جاؤ واپس بارات ،، تم کیا سمجھتے ہو تمہارے جانے سے میری بیٹی کی شادی رک جائے گی ، وہ زندگی بھر کنواری رہ جائے گی ،، انہوں نے کف اڑاتے ہوئے کہا ،،

صاف پتہ چل رہا تھا کہ ان کا میٹر ضرورت سے زیادہ شاٹ ہو چکا ہے ،،

اور بارات واپس چلی گئی ،،

سچ مچ واپس چلی گئی

انا کی اس جنگ میں میری بیوی کے دل پر کیا گزری ہو گی یہ وہی بہتر جانتی ہے
وہ اس لڑکے سے محبت کرتی تھی جو اس رات بینڈ باجے کے ساتھ اسے لینے آیا تھا

اس کے بعد یہی ہوا کہ رشتہ داروں یا دوستوں میں پتہ کرو شاید کوئی فوری شادی کا خواہشمند مل جائے ،،

میرے اس دوست کو میری کہی ہوئی بات یاد آگئی ،،

اس نے کہا ایک شخص ایسا ہے جو خاص طور پر فرما کے گیا ہے کہ اگر بارات واپس چلی جائے تو مجھے بلا لینا ،،

میں نے کب تسلیم کیا تھا کہ حقیقت میں ایسا ہو سکتا ہے ، میں نے تو صرف خواب دیکھا تھا ،، میں ایک غریب اور عسرت زدہ شخص اس کے قابل کہاں تھا ،،
پہلی بار پتہ چلا کہ کبھی کبھی حقیقت نامراد پڑی رہ جاتی ہے اور خواب آرزو کے دامن کو خوشیوں سے بھر دیتا ہے ،،،،

مگر میری تمام خوشیاں اس کی اداسیاں دیکھ کر نقش بر آب کی طرح مٹ گئیں ،،
وہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ میرے پاس آئی تھی ،، جسے بد قسمتی سے اب تک میں جوڑ نہیں سکا تھا ،
فریب وقت نے اس کے لبوں سے مسکراہٹ چھین لی تھی ،،میری آرزو تھی کہ میں اسے کبھی ہنستا ہوا دیکھوں ،،
لیکن ایک چھوٹا سا گھر وہ بھی کرائے کا اور اس میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہوئے لوگ اسے کوئی قابل ذکر خوشی نہ دے سکے ،،

دوسری طرف جس لڑکے سے اس کی شادی ہونے والی تھی پیسوں میں کھیل رہا تھا ،،اس کا چھوٹا سا کاروبار کافی وسیع ہو چکا تھا ،،
ایک دن اتفاق سے ہم لوگ کہیں جانے کیلئے اسٹاپ پر کھڑے ایک رکشہ والے سے بحث کر رہے تھے جب اس کی کار ہماری نظروں کے سامنے سے گزری ،،
وہ خود ڈرائونگ کر رہا تھا ، اس کے ساتھ کوئی عورت بھی تھی ، ضرور اسکی بیوی ہو گی قریب سے گزرتے ہوئے اس نے ہماری طرف اشارہ کر کے کچھ کہا بھی تھا جس پر اس عورت نے پلٹ کر ہمیں دیکھا بھی ،،

میں سوچتا ہوں کاش میری بیوی نے وہ سب نہ دیکھا ہوتا ،،
کیا اس کے دل میں خیال نہیں آیا ہو گا کہ اگر تقدیر ساتھ دیتی تو آج اس عورت کی جگہ وہ کار میں ہوتی ،،ایک ایسے شخص کے ساتھ روڈ پر نہ کھڑی ہوتی جو کرایہ کم کروانے کیلئے رکشہ ڈرائیور سے جھگڑ رہا تھا

خیر ،،وقت کٹتا رہا ،،
امیر لوگ کاروبار میں انویسٹ کرتے رہے ، غربت بچے پیدا کرتی رہی ،،
ہمارے ہاں ایک کے بعد ایک پانچ بچے پیدا ہوئے جن کی کفالت کیلئے وہ محلے والوں کے کپڑے سینے لگی ،،
میں جب بھی کام پر سے گھر آتا اسے سلائی مشین کے ساتھ الجھا ہوا ہی دیکھتا ،،
جب وہ مجھے رات کا کھانا دے کر ایک بار پھر سلائی کرنے بیٹھ جاتی تو میں اسے چوری چوری دیکھتا اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ،،

اپنی بیوی کے ساتھ میں نے بھی اب اچھے دنوں کے خواب دیکھنے بند کر دیے تھے ،،اور اسی کی طرح یہ جملہ دھرایا کرتا کہ کیا کرنے ہیں خواب دیکھ کر بس جو ہے سو ہے ،،
مگر ،،،
ایک دن ایک انعامی اسکیم میں میرا نام نکل آیا ،،اور بالآخر زندگی پر میرا اعتماد بحال ہوا ،،

مختلف مراحل سے گزر کر جب وہ انعامی رقم حاصل ہو گئی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا ،،

میں نے جب بھاری مالیت کے نوٹ اپنی بیوی کو دکھائے تو اسے یقین نہ آیا وہ خالی خالی نظروں سے انہیں تکتی رہی جیسے وہ نقلی نوٹ ہوں ،،جیسے وہ حقیقت نہ ہوں سراب ہوں ،،جیسے وہ ابھی دھواں بن کر اڑنے والے ہوں ،،

وہ ایک لمحے کیلئے اس دلہن کی طرح خوش ہو گئی جس کی بارات آ پہنچی ہو لیکن دوسرے ہی لمحے وہ یوں بجھ گئی جیسے اس کا وجود ایک زندہ لاش سے زیادہ کچھ نہ ہو ،،

میں نے کہا ہم پہلے مری اور اسلام آباد سیر کرنے جائیں گے ،،بچوں کی اسکول سے چھٹیاں بھی ہیں ،،پھر واپس آ کر اپنا کوئی چھوٹا موٹا سا کاروبار شروع کریں گے ،، اب دیکھنا تم انشاءاللہ ہمارے حالات بدل جائیں گے

اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر انکار بھی نہیں کیا ،،

پلیٹ فارم پر ہماری مطلوبہ ٹرین دس منٹ لیٹ آئی ،،
ہمارے بچے مسرت سے چیخ رہے تھے ،،
ہم نے ٹرین میں اپنی ریزرو سیٹیں تلاش کیں ،،
جب سب لوگ اچھی طرح بیٹھ گئے ،، سامان سوٹ کیس وغیرہ ترتیب سے رکھ دیے گئے ،،تو میں ٹرین سے باہر نکلا اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں اور منرل واٹر خریدنے لگا ،،
مجھے واپسی میں دیر ہو گئی ،،
ٹرین نے سرکنا شروع کر دیا ،،
کھڑکی سے سر نکال کر بچوں نے پکارا ،، پاپا جلدی آئیں ،،

میں کھڑکی کے پاس گیا اور یونہی مذاق میں کہنے لگا ،، تم لوگ جاؤ میں یہیں رہ جاتا ہوں ،،

آؤ نا اندر ،،، میری بیوی نے مصنوعی غصے سے کہا ،، اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی ،،

آؤ نا ،، ایک بار پھر یہ بازگشت سنائی دی ،، مجھے یوں لگا جیسے وہ اپنے دل میں بلا رہی ہے ، اپنی زندگی میں پہلی بار مجھے ویلکم کہہ رہی ہے ،،

میں چلتی ہوئی ٹرین پر سوار ہوگیا ،،

پھر یوں ہوا کہ ٹرین کے ساتھ ہماری زندگی بھی آگے بڑھ گئی ،،اور ہم نے پلکوں سے کچھ نئے خواب تراش لیے ،،

___________
انور جمال انور
 
Top