یہ کس نے کہا اب کوئی دلگیر نہ ہوگا - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
یہ کس نے کہا اب کوئی دلگیر نہ ہوگا​
یہ خواب ہے شرمندۂ تعبیر نہ ہو گا​
​
نسخہ جو سیاست کا ہمیں اس نے دیا ہے​
نسخہ یہ کسی طور بھی اکسیر نہ ہو گا​
​
اے کاش ہو آئین میں اس کی بھی ضمانت​
یہ ملک کسی ایک کی جاگیر نہ ہو گا​
​
اس ملک کی چاہت میں جو دکھ جھیلے ہیں ہم نے​
وہ درد کسی اور سے تحریر نہ ہو گا​
​
یہ وقت اگر کھو دیا پچھتانا پڑے گا!​
یہ وقت ہے اور وقت تو زنجیر نہ ہو گا​
​
مخلص نہ ہو جو قوم سے اور ارضِ وطن سے​
وہ کوئی بھی ہو لائقِ توقیر نہ ہو گا​
​
لفظوں کی صداقت کا بھرم جس نے رکھا ہے​
شاعر وہ کبھی لائقِ تعزیر نہ ہو گا​
​
جو منظرِ غمناک مری آنکھوں نے دیکھے​
منظر وہ کسی اور سے تصویر نہ ہو گا​
​
ہم اہلِ قلم ظلم جو سہتے رہے ریحان​
وہ ظلم کسی اور کی تقدیر نہ ہو گا​
​
(ریحان اعظمی)​
 

طارق شاہ

محفلین
لفظوں کی صداقت کا بھرم جس نے ہے رکھا​
شاعر وہ کبھی لائقِ تعزیر نہ ہو گا​
​
اس عمدہ انتخاب اور پیش کش پر بہت سی داد آپ کی نذر​
بہت خوش رہیں​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top