یہ سانسوں کے رشتے بھی نبھائے نہیں جاتے

---------------------------------------------------------------------------------
یہ سانسوں کے رشتے بھی نبھائے نہیں جاتے
اب ناز یہ لاشے کے اُٹھائے نہیں جاتے

کچھ لوگ زمانے میں، موزوں ہی نہیں ہوتے
اندازِ جہاں اُن کو سکھائے نہیں جاتے!

زَردار ہی آدابِ حکومت سے ہیں واقف
عوام سے سردار اُٹھائے نہیں جاتے

کرِدار تو حالات کے گرداب سے اُبھریں
مٹی سے تو افکار بنائے نہیں جاتے

مسافر کی لگن آنچ کو جانچنے خاطر
کچھ رستے منازل سے ملائے نہیں جاتے

لفظوں سے مرے کرب کی آتش کو چھُوﺅ ناں
دل کھول کے وائے کہ دکھائے نہیں جاتے

ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
 
کچھ مصرعے بحر سے خارج ہیں اور کچھ اشعار معنوی و مفہوم کے اعتبار سے ابہام رکھتے ہیں ، غزل نظر ثانی چاہتی ہے
مسافر کی لگن آنچ کو جانچنے خاطر ؟
کچھ لوگ زمانے میں، موزوں ہی نہیں ہوتے ؟
 
Top