یہ درندئے ہیں درندئے

تاریخ: 19 مارچ ، 2015
یہ درندئے ہیں درندئے
تحریر: سید انور محمود

پشاور میں 22 ستمبر 2013ء کوکوہاٹی گیٹ چرچ پر دو خودکش حملے ہوئے تو بغیر کسی مذہبی تفریق کے عوام کا جو رویہ تھا وہ دہشت گردوں کےلیے ایک کھلا پیغام تھا کہ "پشاورکے چرچ دھماکے میں تراسی پاکستانی عیسائی ہلاک ہوگئے، مسلمانوں اور دوسرئے مذاہب کے عام لوگوں نے اُن کے غم کو اپنا سمجھا اور آگے بڑھکر اُن کا ساتھ دیا، مساجد میں اعلانات ہورہے تھے کہ کالو محلے میں مدد کرنے پہنچو اور جو جوان ہیں وہ قبرستان پہنچیں تاکہ قبریں کھودی جاسکیں۔ یہ سارے مقامی لوگ اور جوان دھماکہ ہونے سے لیکر رات گئے تدفین تک لواحقین کے ہمراہ موجود رہے اور میتیں دفنا کر ہی اپنے گھروں کو لوٹے۔ مسلمانوں نے قبرستان پہنچ کر قبریں تیار کیں، مذہب اپنا اپنا مگر انسانیت زندہ ہے۔ اس سارئے عمل نے پاکستان کو اقلیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دئےدیا ہے۔ اُو وحشی درندوں تم مسلمانوں کو مارو یا عیسائیوں کومگر یقین کرو دہشتگردوں تم انسانیت کو نہیں مار سکتے"۔

اتوار 15 مارچ 2015ء کو دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر چرچ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا اورایک مرتبہ پھردہشتگرد کامیاب رہے۔ لاہور کے علاقے یوحناآباد میں فیروزپور روڈ پر واقع دو گرجاگھروں میں چند منٹ کے فرق سے دو دھماکے ہوئے۔ اتوارکی دعائیہ تقریبات جاری تھیں کہ اچانک ایک حملہ آور نے کیتھولک چرچ میں داخل ہوکر دعائیہ تقریب میں دھماکا کر دیا جبکہ دوسرے نے کرائسٹ چرچ میں داخلے کی کوشش میں ناکامی پر گیٹ پر دھماکا کیا۔ پندرہ مارچ کو یوحنا آباد میں دہشتگردی کے دو واقعات ہوئے، پہلا واقعہ جس میں دو دہشتگردوں نے دو گرجا گھروں پر خودکش حملے کیے اور نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 80 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے، جبکہ اُسی مقام پر جہاں لاشیں بکھری پڑی تھیں اور امداد کے منتظر زخمی آہ و بکاہ کررہے تھے پولیس کے قبضے سے دو افراد کو چھڑاکرلایا گیا اور مشتعل ہجوم کو بتایا گیا کہ یہ دہشتگردوں کے ساتھی ہیں، اسکے بعد اُن دو بےگناہ افراد کے ساتھ جو سلوک ہوا اسکو بدترین دہشتگردی سے کم کوئی نام دینا ناممکن ہے۔ دو عام انسانوں کو جو مسلمان تھے صرف اس لیے کہ اُن کے چہرئے پر داڑھی تھی دہشتگردوں کا ساتھی قرا دیکر پہلے مارا گیا اور پھر جلایا گیا، سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی تصاویر بے حسی اور درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یوحنا آباد میں طالبان دہشتگرد نہ صرف دہشتگردی میں کامیاب رہے بلکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھ گئے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ ’گرجا گھر پر حملے بدترین دہشت گردی تھی لیکن دو انسانوں کو جس طریقے سے جلایا گیا یہ بھی بدترین دہشت گردی ہے۔‘ یوحنا آباد میں اتوار کو گرجا گھروں پر دو خودکش حملوں میں 17 افراد مارے گئے تھے اور ان کے بعد مسیحی برادری کے پرتشدد احتجاج میں دو افراد کو حملہ آوروں کے ساتھی ہونے کے شبے میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ خودکش دھماکوں میں بھی جو 17 افراد ہلاک ہوئے ان میں سے 12 عیسائی اور پانچ مسلمان تھے۔چوہدری نثار نے کہا کہ ماضی میں اقلیتیں دہشت گردی کے بڑے واقعات کا نشانہ بنیں اور اس وقت ان کا صبر اور ضبط مثالی تھا، تاہم لاہور میں دھماکوں کے ردعمل میں جو ہوا اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والا ردعمل ملک، قانون اور جمہوریت کے لیے باعثِ تضحیک اور اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ ’ایک طرف دہشت گرد ہمارے گھروں کو آگ لگائیں اور پھر ہم نکل پڑیں اور خود یہ کام کریں۔‘ چوہدری نثار کے اس بیان سے کوئی اختلاف نہیں لیکن جب ریاستی حکمران اپنے فرائض بھول کر اقتدار میں اندھے، گونگے اور بہرے بن جائیں اور عدلیہ انصاف کو بھول کر حکومتی طبقہ کو تحفظ دے تو اس وقت ملک میں لاقانونیت کینسربنکر قوم کے خون میں تیزی سے پھیل جاتی ہے، اور یہ ہی لاقانونیت یوحنا آباد میں واضع طور پر دیکھی گئی۔

پیر 16 مارچ کی صبح یوحنا آباد کے ایک چرچ میں ایک دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسیحی برادری کے نمائندوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس علاقے سے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والے موجودہ صوبائی وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ یہ حلقہ شہباز شریف کا ہے مسیحیوں نے بھی انہیں ووٹ دیا ہو گا مگر ایک مسیحی روتے ہوئے کہہ رہا تھا ہمیشہ نواز شریف کی حکومت میں ہم زیادہ تکلیف میں ہوتے ہیں۔ ایک مقامی مسیحی رہنما سیمسن سلامت نے سانحہ یوحنا آباد کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ پرتشدد مظاہروں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کا پرتشدد رنگ پاکستانی مسیحی برادری کے ماضی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے بقول ہو سکتا ہے کہ کوئی قوت اپنے مقاصد کے لیے سانحہ یوحنا آباد کے احتجاج کو اپنی مرضی کا رخ دینے کے لیے کام کر رہی ہو۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بڑے سانحے سے بچنے کے لیے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے یوحنا آباد میں گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اقلیتوں کا تحفظ کرے اور ذمہ داروں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاکستان کی مسلمان اکثریت مسیحی سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے، وہ بھی مسلمانوں کا ساتھ دیں، اس وقت مسلمان بھی مظلوم ہیں اور پریشان ہیں۔ بم دھماکوں میں مسلمان سب سے زیادہ جاں بحق ہوئے ہیں۔

لاہور میں دو افراد کے زندہ جلاۓ جانے پر عام پاکستانی رنج اور غصہ میں ہے لیکن طالبان کے ہمدرد کچھ زیادہ ہی سیخ پا نظر آتے ہیں جو ابتک ہونے والی دہشت گردی اور تمام مظالم کا کسی نہ کسی طرح دفاع کرتے رہے ہیں ۔ لاہور میں دو افراد کا زندہ جلاۓجانا ایک انسانیت سوزفعل ہے، لیکن ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا۔ اس سے قبل ایک مسیحی جوڑۓ کو بھٹے میں جلاۓ جانے کا واقعہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے۔ جوزف کالونی میں جو کچھ ہوا وہ بھی ایک بھیانک تاریخ ہے۔ اس سے پہلے مسیحی برادری کے ساتھ جو کچھ گوجرہ میں ہوا وہ بھی ہمارۓ بدنما چہرۓ پر ثبت ہے۔لاہور میں جنہوں نے دو افراد کو زندہ جلایا اور جن طالبان دہشتگردوں نے گرجاگھروں پر دہشتگردی کی یلغار کی دونوں ہی جہنم کا ایدھن ہیں۔ لیکن طالبان کے ہمدرد جو دہشتگردی کے حامی رہے ہیں اچانک کیسے بیدار ہو گئے؟ آج اُنکو انسانیت بھی یاد آرہی ہے اورظلم کی تعریف بھی سمجھ میں آگئی۔ اس سے پہلے بھی یہ ہی سب کچھ ہوتا رہا ہے اور زیادہ تر نام نہاد ڈالرمجاہدین یہ فعل انجام دیتے رہے ہیں۔ یوحنا آباد کے دردناک واقعات پرہمیں اس بات کا اقرار بغیر اگر مگر آئیں بائیں شائیں کے کرنا اور سمجھنا ہوگا کہ نہ چرچ پر حملہ کرنے والے دہشتگرد حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے واقف ہیں اورنہ ہی زنده بےگناہ انسانوں کوجلانے والے دہشتگرد حضرت عیسی علیہ اسلام کی تعلیمات سے۔ یہ نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی عیسائی، یہ تو انسان کہلانے کے لایق بھی نہیں ہیں ، یہ درندئے ہیں درندئے۔
 

ابن عادل

محفلین
روزناموں کے کالم نگار کاسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے وقت مقررہ پر کچھ نہ کچھ لکھنا ہے اب اگر اس کا مطالعہ وتحقیق سے مس ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی فکر کو کسی سانچے میں ڈھال چکا ہے تو الفاظ بہر حال کچھ نہ کچھ مفہوم کے حامل ہوتے ہیں ۔ ورنہ تو آج کل کالم کچھ نہ لکھنے کے لیے لکھے جاتے ہیں ۔ اس کالموں کے سمندر میں بہت کم ہیں جو حالات و واقعات کی گہرائی کا پتہ دے سکیں اکثر سطح آب پر ڈولتے ہیں ۔ مذکورہ تحریر بھی اپنے انداز میں "کالمانہ " تھی "عالمانہ " ہوتی تو بات بھی ہوتی ۔
آپ نے چھیڑا ہے تو کچھ بات کرلیتے ہیں
کالم نگار نے سانحہ یوحنا پر ہونے والے رد عمل کو ایک متوقع رد عمل قرار دیا حالانکہ وہ بالکل غیر متوقع تھا ۔ بم دھماکے تو اس سے قبل بھی اس سے بڑے ہوتے رہے ہیں لیکن ایسا رد عمل کہیں نہیں آیا ۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ خاص منصوبہ بندی کے تحت کچھ کیا گیا جیسا کہ سانحہ سیالکوٹ فرق صرف یہ ہے وہاں منصوبہ بندی میں مقتولین ہدف تھے اور یہاں حالات ۔
حکومت نے بیانات تو خوب دیے لیکن عملا کچھ نہ کیا ۔ بلوائی دو دن تک سڑکوں پر گھومتے رہے ، ٹی پر کچھ مشرقی تیمور کا سا منظر نظر آتا تھا ۔حکومت کہاں تھی ؟
بم دھماکے نہایت افسوس ناک تھے لیکن اس سے افسوسناک وہ منصوبہ بند رد عمل تھا ۔ پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم کا واویلا کیا جاتا ہے لیکن یہ واقعہ اس کی تردید کے لیے کافی ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ فریق ثانی جو حقیقی مظلوم ہے اس کا تذکرہ تک نہیں ہے ۔ حقیقی مظلوم اس لیے کہ طالبان کے بم دھماکوں کا شکار تو ہم سب ہیں وہ دومقتول تو ان کا شکار ہیں جو ہمارے معاشرے میں مظلومیت کی علامت ہیں ۔
اہم یہ ہے کہ یہ رویہ اگر اسی طرح پروان چڑھتا رہا تو پھر طالبان کے دھماکوں کے بعد ہم سب آپس میں دست وگریباں ہوں گے ۔ گویا دانستہ و نادانستہ طالبان ہی کا ایجنڈا مکمل ہوگا ۔
کالم نگار نے ان تمام پہلووں کو نظر انداز کرکے طالبان کے ہمدردوں پر نظر کرم ضرور فرمائی اور کوئی وضاحت نہیں کی کون سا ہمدرد کس طرح ہمدردی کررہا ہے ؟ کوئی بیان ،کوئی خبر ۔۔۔۔ گویا وہ خود قوم کو تقسیم کررہے ہیں ۔
 
Top