یومِ پاکستان - رحمٰن کیانی

حسان خان

لائبریرین
یومِ پاکستان​
۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء​
​
ربِ کعبہ کی قسم، روحِ محمد کی قسم​
دوستو! یاد دلا دوں، یہ وہی دن ہے کہ ہم​
برِّ کوچک کے ہر اک شہر سے ابنائے حرم​
توڑ کر نسل کے بت اور زبانوں کے صنم​
نعرہ زن جانبِ لاہور چلے آئے تھے​
زینتِ دوش نہیں ہاتھ پہ سپر لائے تھے​
​
شہرِ لاہور میں ہم مسجدِ شاہی کے قریں​
وہ جو اک باغ ہے میدان ہے یا سطحِ زمیں​
جس سے دربار بھی داتا کا بہت دور نہیں​
متحد ہو کے چلے آئے تھے اُس روز وہیں​
یک زباں نعرۂ تکبیر لگانے کے لیے​
اپنی زنجیر کو شمشیر بنانے کے لیے​
​
یہ وہی دن ہے عزیزو! کہ اٹھا کر قرآں​
ہم نے قائد کی گواہی میں کیا تھا اعلاں​
ہے جداگانہ وطن آج سے جزوِ ایماں​
اور ہم لوگ پکاریں گے اسے پاکستاں​
سچ کہو کتنا بڑا کام کیا تھا ہم نے​
خوابِ اقبال کو جب نام دیا تھا ہم نے​
​
اور اُسی روز سے اس ملک کے آقاؤں سے​
وسعتِ ہند میں کفار کے نیتاؤں سے​
حیف صد حیف خریدے ہوئے ملاؤں سے×​
اٹھ کے اک ساتھ ہر اک شہر سے ہر گاؤں سے​
دوستو! سات برس کی تھی لڑائی ہم نے​
اور یہ مملکتِ پاک بنائی ہم نے​
× جمعیت العلمائے ہند​
​
عہدِ رفتہ کے چراغوں کو بجھا کر اپنے​
لاکھ کے گھر بھی کھڑے ہو کے لٹا کر اپنے​
ظلم کی تیغ کو سینے سے لگا کر اپنے​
دوستو! دیدہ ورو! خوں میں نہا کر اپنے​
ہم نے ہر طرح سے چاہا کہ سحر ہو جائے​
اور یہ ملکِ خداداد اَمَر ہو جائے​
​
(رحمٰن کیانی)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top