ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت

سحر کائنات

محفلین
تحریر : سحر شعیل

اکبر الہ آبادی کہتے ہیں:

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اگر اس شعر میں توپ سے مراد معاشرتی اور سماجی مسائل لیے جائیں تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اخبار ی صحافت بشمول الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے معاشرے کے ان مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہےجسے تیر اور تلوار سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
آج ایسے ہی ایک عنوان پر چند مشاہدات حاضرِ خدمت ہیں۔
نوجوانوں کی روٹین پر ایک نظر ڈالیے ۔سکول اور کالج کے اوقات کے بعد ان کی دنیا موبائل فون اور کمپیوٹر تک محدود ہے گھر میں کون آیا،کون گیا،کیا ہوا کچھ خبر نہیں ۔ ان کی توجہ صرف اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ انسٹا،فیس بک اور ٹک ٹاک پر کتنے فالورز ہیں اور کتنے لائک ہیں۔کسی ہسپتال ،بس سٹاپ،ریلوے سٹیشن ،دورانِ سفر اور کسی انتظار گاہ میں نوجوانوں کو دیکھیے ،موبائل فون میں سر گھسائے نظر آئیں گے ۔اس عہد میں والدین کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ موبائل فون ہے۔سوال یہ ہے کہ بچوں کے پاس یہ ٹیکنالوجی آئی کہاں سے؟
یقیناً والدین نے لے کر دی۔ایک والد کا جملہ " کیا کریں اب بچوں کو یہ سب لے کر بھی دینا پڑتا ہے ورنہ وہ اپنے ہم عمر کزنز سے احساسِ کمتری کا شکار ہو جائیں گے" یعنی ہم والدین اس طرف سے بھی مجبور ہیں ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ احساسِ کمتری یا احساسِ برتری کا یہ معیار کس نے سیٹ کیا۔جواب پھر یہی یقیناً ہم والدین نے۔
کچھ عرصہ پہلے ایک عزیز کے ہاں ایک جنازے میں شرکت کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔اب اس گھر میں بزرگ اور ادھیڑ عمر کے لوگ میت کے ارد گرد جمع ہیں۔بچے یا تو ماؤں کو تنگ کرنے میں مصروف تھے یا پھر سہمے ہوئے ماؤں سے چمٹے ہوئے تھے۔اسی گھرمیں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سب سے الگ تھلگ تھے۔سپاٹ چہرے لیے ،ہر قسم کے احساسات سے عاری یہاں وہاں نظر آئے ۔ایک نوجوان تو بار بار جیب سے موبائل نکالتے دیکھا جو ہر بار فون دیکھنے کے بعد اپنی والدہ کو جانے کا اشارہ بھی کر رہا تھا۔افسوس یہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا ایک المناک پہلو ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس بے تحاشا استعمال نے ہمیں بحیثیت انسان رشتوں سے دور کر دیا ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ کو اگر ڈیجیٹل فتنہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔اس فتنے نے انسان سے اس کی وہ تمام خوبیاں چھین لی ہیں جو اس کے اشرف المخلوقات ہونے کی دلیل تھیں۔ہماری نوجوان نسل اسی فتنے کی بدولت آج ذہنی دباؤ ،الجھنوں،ڈپریشن اور ذہنی و جسمانی پسماندگی کا شکار ہو رہی ہے۔آج کے نوجوان کے پاس ہزاروں فیس بک دوست ہیں مگر ایسا ایک بھی سچا دوست نہیں جو مشکل میں اسے اور کچھ نہیں کم از کم درست مشورہ ہی دے سکے۔دوستوں کی محفلیں،معلوماتی تبصرے،صحت مندانہ تنقید،ادبی ذوق سے بھرپور محافل اب خواب بن کر رہ گئی ہیں۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے بچے خاص کر نوجوان ان سب چیزوں سے نا آشنا ہیں ۔مجھ سے ایک بار جماعت میں ایک طالب علم نے سوال کیا " کیا آج کے دور میں شاعر ہوتے ہیں؟؟"یہ درحقیقت بحیثیت والدین اور بحیثیت استاد مجھ پر اور ہم سب پر ایک سوالیہ نشان تھا۔
اس سوال کے پس منظر میں اگر وجوہات پر غور کریں تو وجہ پھر وہی ٹیکنالوجی ،انٹرنیٹ،موبائل اور کمپیوٹر ۔ہمارے بچوں کے پاس انٹرنیٹ گیمز،بلاگ اور اس قسم کی دوسری مصروفیات ہیں اس لئے اخلاقی،تحقیقی،اصلاحی پہلو تک ان کی رسائی نہیں ہے۔
صد افسوس کہ آج بچوں کے ہیروز وہی ناچ گانے والے ہیں ۔اب یہاں تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے۔نوجوانوں کو بہترین مستقبل اور پیسے کمانے کے ذرائع کے طور پر بھی یہ سب اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے بلکہ ایک ٹی وی شو نظر سے گزرا جس میں لوگ ٹک ٹاک ویڈیوز بنا کر بھیجتے تھے اور بہترین ویڈیو بنانے والے کو انعام میں لاکھوں روپے دئے جا رہے تھے۔آہ ! ہم اپنے نوجوانوں کو کس راہ پر لگا رہے ہیں ؟؟کون سی روایات دے رہے ہیں؟؟؟مشینوں کے دور میں یہ بھی مشین بن جائیں گے اور مشینوں میں جذبات نہیں ہوتے ۔مستقبل میں ہم کیسا معاشرہ توقع کر سکتے ہیں اس کا جواب آپ سب جانتے ہیں۔
اگر ہم اس سب کی وجوہات پر غور کریں تو میری ناقص رائےکے مطابق جو نتیجہ نکلتا ہے اس میں قصور وار ہم والدین یعنی میری طرح وہ تمام والدین جن کی عمریں تیس کے ہندسے میں ہیں اور یا پھر ان کے بچے نوجوانی کی عمر کی طرف رواں دواں ہیں۔معذرت کےساتھ اس وقت ان تمام مسائل کی وجہ اس جنریشن (والدین) کی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔مثال کے طور پر یاد کیجیے جب ہم بچے تھے تو ہمارے دادا دادی کے پاس بہت سی باتیں تھیں ہمیں سنانے کے لئے۔ان کے بچپن کے قصے ،آزادی کی جنگ ،وغیرہ وغیرہ۔ہم ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور سینکڑوں بار سنے ہوئے انہی قصوں کو بہت شوق سے سنتے تھے۔اسں طرح ان کے ساتھ وقت بھی گزرتا تھا اور محبت کا ایک رشتہ بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا تھا۔تب اپنے امی ابو سے ڈانٹ پڑتی تھی تو دادی کی گود میں پناہ مل جاتی تھی۔اب ذرا اس کا موازنہ آج کی زندگی سے کیجیے۔ہمارے بچے اپنے دادا دادی کے پاس بیٹھنا نہیں چاہتے کیوں کہ ہم اپنے بزرگوں کے پاس نہیں بیٹھتے۔بچے وہ خود بخود سیکھ جاتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔اب ایک اور نکتہ کہ ہم کیوں ایسے ہو گئے۔اصل میں ہم وہ جنریشن ہیں جو اس طرزِ عمل کی وجہ سے آدھی تیتر آدھی بٹیر بن رہی ہے۔ماڈرن ہونے کے چکر میں،زمانے سے قدم ملا کر چلنے کی دوڑ نے ہمیں ہماری روایات سے دور کیا۔اس ٹیکنالوجی کو پہلےہم نے اپنایا اور نئی دنیا کی روشنیوں میں کھو کر اپنے ہی آنگن کے چراغوں کی لو ہمیں بوجھ لگنے لگی۔آج کی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں بارود ہم نے تھمایا اور پھر سب سے بڑی خطا یہ کی کہ انہیں بے مہار چھوڑ دیا ۔اب صورت حال یہ ہے کہ بچے اپنے اپنے انداز میں جینا چاہتے ہیں،نصیحت سننے کے قائل نہیں ہیں اور اپنی زندگی میں ماں باپ کی روک ٹوک بھی نہیں چاہتے۔
یہ بہت نازک موڑ ہے۔ٹیکنالوجی یا کوئی بھی ایجاد بری نہیں ہوتی ۔انسان کی ان تھک محنت اور ذہانت اس کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔اس ٹیکنالوجی کااستعمال ہمارے ہاتھوں میں ہے ۔یہ بیڑا ہمیں اٹھانا ہے ۔ان نونہالوں کی تربیت ہمیں کرنی ہے۔ان کے سامنے وہ نمونہ بنیں ،وہ مثال پیش کریں کہ وہ خود بخود ہمارے رنگ میں ڈھل جائیں وگرنہ اس کا جواب دہ اگلی دنیا میں بھی ہونا پڑے گا۔ہم وہ آخری جنریشن ہیں جو ان بزرگوں کی روایات ورثے کے طور پر سنبھالے ہوئے ہیں اگر ہم نے ان اخلاقی قدروں کو اگلی نسل میں منتقل نہ کیا تو ان روایات کا وجود ختم ہو جائے گا اور یہ اس کائنات کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے ہولناک ثابت ہو گا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اگر ہم اس سب کی وجوہات پر غور کریں تو میری ناقص رائےکے مطابق جو نتیجہ نکلتا ہے اس میں قصور وار ہم والدین یعنی میری طرح وہ تمام والدین جن کی عمریں تیس کے ہندسے میں ہیں اور یا پھر ان کے بچے نوجوانی کی عمر کی طرف رواں دواں ہیں۔معذرت کےساتھ اس وقت ان تمام مسائل کی وجہ اس جنریشن (والدین) کی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔مثال کے طور پر یاد کیجیے جب ہم بچے تھے تو ہمارے دادا دادی کے پاس بہت سی باتیں تھیں ہمیں سنانے کے لئے۔ان کے بچپن کے قصے ،آزادی کی جنگ ،وغیرہ وغیرہ۔ہم ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور سینکڑوں بار سنے ہوئے انہی قصوں کو بہت شوق سے سنتے تھے۔اسں طرح ان کے ساتھ وقت بھی گزرتا تھا اور محبت کا ایک رشتہ بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا تھا۔

یہ اچھا نکتہ اُٹھایا آپ نے۔

پچھلے دنوں میں ایک صاحب کی بات سن رہا تھا اُنہوں نے کہا کہ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ اپنی ہر بات ماں باپ سے کہتے ہیں اور ماں باپ کے پاس سننے کا وقت نہیں ہوتا۔ ماں باپ اپنے کاموں میں یا مشغلوں (بشمول موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال) میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ وہ بچوں کی بات کو سنی ان سُنی کر دیتے ہیں۔

پھر جب بچے اسکول کالج جانے لگتے ہیں تو ماں باپ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے بچے تو ہم سے بات ہی نہیں کرتے۔ ہم کچھ پوچھیں بھی تو مختصر جواب دے کر الگ ہو جاتے ہیں۔

بات دراصل یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے بچوں کے ساتھ وہ ربط و ضبط بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنا ہمدرد اور دوست سمجھتے ہوئے ہر بات بتائیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنا کل (یعنی اپنےبچوں کا مستقبل) بچا لیں تو ہمیں اپنا آج قربان کرنا پڑے گا۔ بچوں کی باتوں کو اہمیت دینی ہوگی۔ اور غیر موجود دنیا سے کٹ کر بچوں کے ساتھ زندگی گزارنی ہوگی۔
 
Top