گزری میں موتی مسجد کے سامنے دھماکہ، خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق،30 زخمی، وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کر لی

گزری میں موتی مسجد کے سامنے دھماکہ، خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق،30 زخمی، وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کر لی

25 اپریل 2014 (14:34)

C:\Users\user116\AppData\Local\Temp\msohtmlclip1\01\clip_image001.jpg


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیفنس فیز 4 کے علاقے گزری کے علاقے میں زور دار دھماکے سے خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق اور 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزری کے علاقے دہلی کالونی میں موجود موتی مسجد کے سامنے دھماکہ ہوا جہاں جمعہ کی نماز کے وقت خاصا رش ہوتا ہے اور نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے کے سڑک پر بھی صفیں بچھائی جاتی ہیں اور سڑک کو آمدورفت کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زوردار تھی کہ اس کی آواز دور دراز کے علاقوں میں سنی گئی اور دھویں کے بادل اٹھنے لگے جبکہ دھماکے کی جگہ پر گڑھا پڑ گیا۔ ایک موٹر سائیکل کے پرخچے اڑ گئے اور 3 سرکاری گاڑیوں سمیت 10 گاڑیاں تباہ ہو گئیں جبکہ کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ قریب موجود ایک اپارٹمنٹ کی دیوار بھی مکمل طور پر منہدم ہو گئی۔ دھماکے کے وقت وہاں سے گزرنے والا ایک رکشہ بھی تباہ ہوا اور اس کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔ سندھ کے وزیر صحت ڈاکٹر صغیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں ایک خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق اور 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 5 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے کی جگہ پر 3 سرکاری گاڑیاں کھڑی تھیں جو تباہ ہو گئیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور کا نشانہ یہی گاڑیاں ہو سکتی ہیں۔ ڈی آئی جی ساﺅتھ کے مطابق جب دھماکہ ہوا تو وہاں سے سرکاری گاڑیوں کا قافلہ گزر رہا تھا اور حملہ آور نے اسی قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ گاڑی میں سوار افراد سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکہ رکشے کے ذریعے کیا گیا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن دھماکے کی جگہ پر پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد تمام لوگ دھمکیوں کی زد میں ہیں لیکن ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ حملہ آوروں نے سرکاری گاڑیاں دیکھ کر حملہ کیا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ شدت پسندوں کا ٹارگٹ سرکاری حکام ہے، پہلے لوگ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا، عوام کو کسی صورت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔۔
http://www.dailypakistan.com.pk/karachi/25-Apr-2014/96337
 
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے،50 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔طالبان کے خوف کی وجہ سے عبادت گزاروں کی مساجد میں حاضری کم ہوچکی ہے کیونکہ عبادت کے دوران عبادت گزاروں کو اپنی جان کےلالے پڑے ہوتے ہیں۔طالبان سے زیادہ اسلام کا خیر خواہ اور کون ہو سکتا ہے؟

اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔۔ بچے قیامت کے روز سوال کریں گے کہ انہیں ناحق کس جرم کی پاداش مین قتل کیا گیا۔

جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور لشکر جھنگوی ، دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ طالبان ،لشکر جھنگوی اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں.

..........................................................................................

کابل میں ڈاکٹروں کا لرزہ خیز قتل
http://awazepakistan.wordpress.com
 
Top