کہاں یہ رنگ تھے، اشک تبسم زاد سے پہلے۔اسلم کولسری

کہاں یہ رنگ تھے، اشک تبسم زاد سے پہلے
بہت ویران تھیں آنکھیں غمِ دل شاد سے پہلے
ستاروں سے ذرا پہلے، دیے روشن تھے پلکوں پر
کسی کی یاد آئی تھی تمہاری یاد سے پہلے
اور اب یہ آہ زاری بھی تمہیں اچھی نہیں لگتی
میرے لہجے میں کتنا زعم تھا ، فریاد سے پہلے
بہر صورت ستم سہنا، کسے مرغوب ہے، لیکن
کوئی احسان کر دیتے ہیں وہ بیداد سے پہلے
ابھی تک اس لیے بھی دل سلامت ہے کہ اس دل پر
قیامت ٹوٹ پڑتی ہے کسی افتاد سے پہلے
اسے جب نیند میں دیکھا، یہی پہلا خیال آیا
اسی عالم میں تھی شاید غزل، ایجاد سے پہلے
اسے آنکھوں میں رکھنے کا ارادہ نیک ہے اسلمؔ
مگر یہ بات کر لیتے، دلِ برباد سے پہلے
 
Top