کہاں ہو گم شدہ دوستو، آؤ اپنی لگائی ہوئی آگ کے مزے لوٹو

زیرک

محفلین
کہاں ہو گم شدہ دوستو، آؤ اپنی لگائی ہوئی آگ کے مزے لوٹو
میرے وہ دوست جو کل پی ٹی آئی میں چھلانگ مار کر گئے، آج نجانے کہاں گم ہیں؟ مجھے وہ وقت یاد ہے جب میرے جیسے ہمدرد پاکستانی ان کو کہا کرتے تھے "خدا کا واسطہ ہے، اس ملک میں نفرتوں کی دکانیں مت سجاؤ"، مگر تم نے میری بات نہیں مانی۔ میں کہتا تھا "تشدد کا کلچر مت اپناؤ"، مگر تم ریاستی اداروں پر جتھے بھیج دیتے تھے (پی ٹی وی حملہ یاد کرو) میں کہتا تھا "اشتعال آمیز زبان کو لگام دو"، لیکن تم ببانگ دھل حریفوں کو پھانسیاں دینے کے اعلان کیا کرتے تھے۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ "یہ پتھر جو تم مخالفین پر پھینک رہے ہو کل کلاں ربڑ کی گیند کی طرح تم پر ہی واپس آ کر گریں گے"۔ کل جب فیاض الحسن چوہان کو تھپڑ لگ رہے تھے تو کئی دوستوں کو میسج کیا کہ "آؤ، اب اپنی لگائی ہوئی آگ کو سینکو، جشن مناؤ کہ تمہاری لگائی آگ بھڑک رہی ہے"۔ دوستو! یاد ہے نا وہ منظر کہ جب عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر کہا تھا "پھینٹا لگا دو، بل جلا دو، پیسے ہُنڈی کے ذریعے رقم بھیجو، تیکس ادا مت کرو، سول نافرمانی شروع کر دو، راستے بلاک کر دو اور ملک کو مفلوج کر دو، ماردو، جلادو، ان کے تھانے پر دھاوا بول کر گرفتار کارکنوں کو چھڑانے اور مخالفین کو اپنے ہاتھ سے پھانسی دینے جیسے اعلانات پر تنبیہ نہیں کیا تھا"؟ کہا نہیں تھا کہ "یہ آگ مت بھڑکاؤ کیونکہ اگر یہ بے قابو ہو گئی تو سب کو جلا کر رکھ کر دے گی"۔ مگر تم نہ مانے "پھر پچھلے ماہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اسی ڈرامے کا پارٹ ٹو کھیلا اور ویسے ہی مطالبات دھرائے اور نعرے بلند کیے، کیا تمہارے کانوں میں ان کی گونج نہیں گونج رہی؟" دھرنے کے دوران عمران خان نواز شریف کو کہتا تھا "پٹرول سستا کرو ،گیس سستی کرو روٹی سستی کرو"۔ مجھے اب کہنے کی ضرورت نہیں رہی کہ اب خود اقتدار میں آ کر کیا کر رہا ہے، نام لیا جا رہا ہے مدینے کی ریاست بنانے کا اور ہر گھر میں کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں کیونکہ اشیائے صرف کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ خریدار ان کو دیکھ تو سکتا ہے لیکن خریدنے کی استطاعت نہیں رکھنا۔ قصہ مختصر بادشاہ گروں نے تو اس بار جسے عنان اقتدار سونپی ہے وہ تو اپنی دم کو آگ لگا کر ملک بھر میں گھوم رہا ہے اور ہر گھر کو آگ لگاتا پھر رہا ہے اور میرے دوست جو پی ٹی آئی کو پیارے ہوئے تھے اب کہیں نظر نہیں آتے۔
 

زیرک

محفلین
حکومت میں آنے کہ بعد جب ایسے ہی دو چار مخالفین کا سامنا کرنا پڑا تو عمران خان چیں بول گئے اور شہبازشریف کی طرح بھولے خان بن کر فرماتے ہیں "اگر یہ لوگ سڑکوں پہ نکلیں گے تو ملک کیسے چلے گا؟ اس طرح تو یہ ملک کا نقصان کر رہے ہیں"۔ جی خان صاحب جیسے کل آپ کر رہے تھے یہ ویسا ہی نقصان ہے۔
 
Top