کچھ تو دعائے نیم شبی کا اثر ہوا - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
کچھ تو دعائے نیم شبی کا اثر ہوا​
روشن کسی کے آنے سے دل کا نگر ہوا​
​
فرقت کی شب نے جس کو جلایا تھا ایک عمر​
وہ اک دیا بھی آج سپردِ سحر ہوا​
​
جس کو یہ زعم تھا کہ بھلا دے گا وہ مجھے​
اک پل مرے بغیر نہ اُس سے بسر ہوا​
​
میں بھی تو اس کے ہجر میں روتا رہا بہت​
اس دل کا حال اُس کے ہی غم میں دِگر ہوا​
​
منہ پھیر کے گذر گئے اک دوسرے سے ہم​
طے اس طرح بھی زیست کا اکثر سفر ہوا​
​
کس سے لپٹ کے روئیں سنائیں کسے یہ بات​
اس شہر میں جو عیب ہے کارِ ہنر ہوا​
​
فکرِ معاش لے گئی ریحان کُو بہ کو​
میں گوشہ گیر شخص بھی کیا در بدر ہوا

(ریحان اعظمی)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top