کرنل وحید الدین کی کتاب" روزگار فقیر" سے ایک اقتباس

سید زبیر

محفلین
کرنل وحید الدین کی کتاب" روزگار فقیر" سے ایک اقتباس ۔ کرنل وحید الدین علامہ اقبال کے زیر سایہ رہے ان کے خاندان کے چند افراد بھاٹی گیٹ میں ایشیا کے بڑے ذاتی عجا ئب گھروں میں سے ایک "فقیر خانہ" میں رہتے ہیں​
" ایک واقعہ مجھے اب تک یو ںیاد ہے جیسے اس گھڑی سنن میں آیا ہو۔ایک شام والد صاحب علام مرحوم کے ہاں سے لوٹے اور آتے ہی یہ عجیب حکایت بیان کی ۔​
ایک عجیب بات سنو ۔کل صبح میں اقبال کے ہاں گیا تو وہ گویا میرے منتظر بیٹھے تھے ۔دیکھتے ہی کھل گئے اور کہا اچھا ہو فقیر تم آگئے سنا ہے گنج بخش ؒ کی درگاہ میں آج کل کوئی بہت روشن ضمیر بزرگ قیام رکھتے ہیں ان سے ایک سوال کا جواب چاہتا ہوں سوال یہ ہے کہ جب مسلمانوں سے یہ وعدہ ایزدی ہے کہ و اقوام عالم میں سرفراز اور سربلند ہون گے تو ُج کل یہ قوم ذلیل و خوار کیوں ہے ؟ اچھا ہے تم بھی ساتھ چلو اکیلے یہ زحمت کون کرے ۔ میں نے ہامی بھرلی اور چلنی کی تیاریاں شروع ہوءیں۔علامہ ہاتھ پاوں ہلانے میں ہمیشہ تامل کرتے تھے ۔دو قدم چلنا ہو تو اس کے لیے گھنٹوں پہلے تیاری کی ضرورت پڑتی تھی چنانچہ داتا گنج بخش ؒ کے سفر کا فیصلہ ہوتے ہی انہوں نے علی بخش کو آواز دی اور کہا دیکھو ہم باہر جارہے ہیں ۔ذرا جلدی سے فقیر کے لیے حقہ بھرو اور بھاگ کر کچھ سوڈا لیمن وغیرہ لے آو۔ اس اہتمام میں حسب معمول جانے کتنا وقت نکل گیا جب صبح سے دوپہر ہوگئی تو میں نے کہا ۔بھئی اقبال تمہارا کہیں جانے وانے کا ارادہ تو ہے نہیں یونہی وقت ضائع کر رہے ہو میں تو اب گھر چلا ۔اقبال اس پہ کچھ چونک سے پڑے اور کہا ہاں بھئی اب تو واقعی دھوپ تیز ہو گئی ہے تم جانا چاہتے ہو تو جاو لیکن یہ وعدہ کرو کہ شام کو ضرور آوگے ۔کچھ بھی ہو ہمیں ان بزرگ کے پاس ضرور جانا ہے ۔میں وعدہ کرکے چلا آیا سہ پہر کو پھر پہنچا لیکن پھر اسی طرح حقہ اور سوڈا لیمن میں ڈھل گیا میں نے اقبال سے اس تساہل کا شکوہ کیا تو اقبال بہت ہی انکسار سے کہنے لگے بھئی اس دفعہ اور معاف کرد صبح ضرور چلیں گے​
اگلی صبح میں عمداً دیر سے پہنچا کوئی گیارہ بجے کا وقت ہو گا اقبال کو دیکھا تو انکی عجیب کیفیت تھی ۔رنگ زرد ، چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی ےھیں ۔تفکر اور اضطراب کا یہ عالم کہ جیسے کوئی شدید سانحہ گزر گیا ہو میں نے پوچھا خیر تو ہے ؟کہنے لگے فقیر میرے قریب آکر بیٹھو ۔تو کہوں آج صبح میں یہیں بیٹھا تھا کہ علی بخش نے آکراطلاع دی کہ کوئی درویش صورت آدمی ملنا چاہتا ہے میں نے کہا بلا لو ۔ایک درویش صورت اجنبی میرے سامنے خاموش آ کھڑا ہوا کچھ وقفے کے بعد میں نے کہا فرمائیے ؟ آپ کو مجھ سے کچھ کہنا ہے اجنبی بولا ہاں ! تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے تھے میں تمہارے سوال کا جواب دینے آیا ہو اور اس کے بعد مثنوی کا مشہور شعر پڑھا​
گفت رومی ہر بنائے کہنہ کا باداں کنند​
تو ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند​
کچھ پوچھو نہیں مجھ پر کیا گزرگئی چند لمحوں کے لیے مجھے قطعی اپنے گردو پیش کا کا احساس جاتا رہا ذرا حواس ٹھکانے ہوئے تو بزرگ سے مخاظب ہونے کے لیے دوبارہ نظر اٹھائی لیکن وہاں کوئی بھی نہ تھا ۔علی بخش کو ہر طرف داڑایا لیکن کہیں سراغ نہیں ملا "​
 

باباجی

محفلین
خود اقبال ہی کہتے ہیں َ
اہلِ ایمان کے بارے میں

ادھر ڈوبے اُدھر نکلے
اُد ھر ڈوبے ادھر نکلے
 
Top