چند اشعار برائے تنقید و تجویز۔ ”تم بھی حسرتؔ کے محبوب کی طرح ہو“

چاندنی رات میں یاد آتے ہو تم​
اٹھتا طوفاں ہے جب مسکراتے ہو تم​
​
زلف جیسے گھٹا کوئی برسات کی​
ابر چلتا ہے پیچھے جب آتے ہو تم​
​
ایک رس گھلتا جاتا ہے کانوں میں یوں​
بلبلوں کو بھلا کیوں جلاتے ہو تم؟​
​
ایک تل گال پر یوں نمایاں ہے گو​
کوئی ٹیکہ نظر کا لگاتے ہو تم​
​
شمعِ محفل ہوں میں، لو ہو تم جانِ جاں​
روتا رہتا ہوں میں، جگمگاتے ہو تم​
​
تم بھی حسرؔت کے محبوب کی طرح ہو​
ترکِ الفت پہ کیوں یاد آتے ہو تم؟​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top