ٹاور سے سرجانی تک

علمدار

محفلین
لو جی جن کو ضیا محی الدین صاحب پسند نہیں وہ باذوق ہونے لگے :?
ان جیسی کمپیئرنگ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں‌ ہوتی- تھوڑے عرصے پہلے سنا تھا ایک شو کرنے کے جتنے پیسے وہ لیتے ہیں اتنے پورے ملک کا کوئی اور ہوسٹ نہیں لیتا- بہت ہی باکمال شخصیت ہیں-
عمار بھائی یہ نک چینج کرنے والی کہانی کہیں سنائی ہے تو ربط دیں- جیہ کی وجہ سے چینج کیا ہے تو کوئی نک نیم بھی سوچ لیں جلد یہ بھی تبدیل کرنا پڑے گا :)
 
ہاں نا! دیکھیں تو ذرا۔ اتنی باکمال شخصیت کو بہن صاحبہ ایسے کہہ رہی ہیں۔۔۔ :)
نِک تبدیل کرنے کی وجہ باقاعدہ طور پر ابھی کہیں نہیں لکھی ہے۔
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں :p
سوچ رہا ہوں کہ بلاگ پر کچھ لکھوں۔۔۔۔! :wink:
 

علمدار

محفلین
کہیں باقاعدہ طور پر دیں یا بے قاعدہ طور پر بتائیے گا ضرور- بلکہ بلاگ پر لکھیں راہبر سے نادان تک :)
 

جیہ

لائبریرین
آپ کی باتیں میری سمجھ سے اس طرح باہر ہیں جیسے غالب کا یہ شعر

اسد ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجہء مژگان آہو پشت خار اپنا
 
جیہ نے کہا:
آپ کی باتیں میری سمجھ سے اس طرح باہر ہیں جیسے غالب کا یہ شعر

اسد ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجہء مژگان آہو پشت خار اپنا
میں نے شاہِ سخن چچا غالب کے اس شعر کو اپنے پر طاری کرلیا ہے کہ
بک رہا ہوں جنون میں کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
 
پھر برہمی؟؟؟
ویسے یہ قتیل غالب سے آپ کا تو کوئی تعلق نہیں؟ آپ ہی کی طرح شیدائی لگتے ہیں غالب کے۔۔۔۔ :wink: ۔
مجھے تو پہلے گمان ہوا کہ شاید آپ غصہ میں نئی شناخت لے کر آگئیں۔۔۔۔۔۔۔ :p
 

علمدار

محفلین
لوگوں کو ستانے کا غالب یہ خیال اچھا ہے :D

عمار بھائی! راہبر پر واپس آنے کی وجہ کہیں بیان کی تو ربط مہیا فرمائیں-
 

جیہ

لائبریرین
راہبر نے کہا:
پھر برہمی؟؟؟
ویسے یہ قتیل غالب سے آپ کا تو کوئی تعلق نہیں؟ آپ ہی کی طرح شیدائی لگتے ہیں غالب کے۔۔۔۔ :wink: ۔
مجھے تو پہلے گمان ہوا کہ شاید آپ غصہ میں نئی شناخت لے کر آگئیں۔۔۔۔۔۔۔ :p

بقول انشاءاللہ خاں انشاء

اندھے جو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی :p
 
علمدار نے کہا:
جیہ نے کہا:
بقول انشاءاللہ خاں انشاء

اندھے جو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی :p

اندھے “جو“۔۔۔۔۔؟
جو کی آنکھیں بھی ہوتی ہیں؟ :)
علمدار بھائی! یہ جیہ بہن کی ٹائپو ہے۔۔۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔۔ اصل مصرعہ یہ ہے:
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی


:!:
 
Top