وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اُترتے ہیں -- ارشد ناشاد

الف نظامی

لائبریرین
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اُترتے ہیں​
وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اُترتے ہیں​
​
ترے چمن سے خزاں کا گزر نہیں ہوتا​
ترے چمن میں گلِ جاوداں اُترتے ہیں​
​
بس ایک بار و ہ شہرِ جمال دیکھنا ہے​
جہاں پہ مہر و مہ و کہکشاں اُترتے ہیں​
​
نگاہ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے​
بیاضِ دل سے وہ منظر کہاں اُترتے ہیں​
​
اگر خیال میں شامل ہو تیرے ذکر کا نم​
ورق ورق پہ کئی گلستاں اُترتے ہیں​
​
خدا کا شکر ہے نسبت ہے اُس دیار کے ساتھ​
پئے سلام ملائک جہاں اُترتے ہیں​
(ڈاکٹر ارشد ناشاد)​
 

طارق شاہ

محفلین
نگاہِ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے​
بیاضِ دل سے وہ منظر کہاں اُترتے ہیں​
کیا ہی خوب شعر ہے ، کیا کہنے صاحب!​
تشکّر شیئر کرنے پر​
بہت شاد رہیں​
​
 
نگاہ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے​
بیاضِ دل سے وہ منظر کہاں اُترتے ہیں۔
واہ واہ بےحد خوبصورت انتخاب ہے۔کیا کہنے
​
 

حسن نظامی

لائبریرین
وہ کیا جہاں ہے جہاں ؛ ۔ (سب جہاں اترتے ہیں)
بابیو !!
یہ جہاں کیسے اترتے ہیں۔
خالصتا طالب علمانہ سوال ہے۔
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top