وہ مرنا چاہتی تھی

anwarjamal

محفلین
انا کے خول کے اندر وہ مرنا چاہتی تھی

اسے کیوں روکتا انور وہ مرنا چاہتی تھی

مجھے تم سے محبت ہے ، محبت ہے ، وہ کہتی

یہی اک بات کہہ کہہ کر وہ مرنا چاہتی تھی

وہ کمسن عشق کے آداب سے واقف کہاں تھی

ذرا سی ایک رنجش پر وہ مرنا چاہتی تھی

اسے رسوائیوں بدنامیوں کا ڈر نہیں تھا

چلی آتی تھی ننگے سر وہ مرنا چاہتی تھی

وہ تھی اک کانچ کی گڑیا اور اک دن راہ چلتے

کہیں سے آ لگا پتھر ، وہ مرنا چاہتی تھی

درون ِ جسم تھی اک آگ کے مانند ، اس پر

اسے قابو نہ تھا خود پر وہ مرنا چاہتی تھی

میں حد سے بڑھ کے تھا خود سر میں جینا چاہتا تھا

وہ حد سے بڑھ کے تھی مضطر وہ مرنا چاہتی تھی

میں اس کی خودکشی پر سوچتا رہتا ہوں اکثر

کہے گی کیا سر ِ محشر ، وہ مرنا چاہتی تھی ؟

انور جمال انور
 
Top