حبیب جالب وطن سے الفت ہے جرم اپنا یہ جرم تا زندگی کریں گے

مہ جبین

محفلین
وطن سے الفت ہے جرم اپنا یہ جرم تا زندگی کریں گے​
ہے کس کی گردن پہ خونِ ناحق یہ فیصلہ لوگ ہی کریں گے​
​
وطن پرستوں کو کہہ رہے ہو وطن کا دشمن ڈرو خدا سے​
جو آج ہم سے خطا ہوئی ہے ، یہی خطا کل سبھی کریں گے​
​
وظیفہ خواروں سے کیا شکایت ہزار دیں شاہ کو دعائیں ​
مدار جن کا ہے نوکری پر وہ لوگ تو نوکری کریں گے ​
​
لئے جو پھرتے ہیں تمغہء فن ، رہے ہیں جو ہم خیالِ رہزن​
ہماری آزادیوں کے دشمن ہماری کیا رہبری کریں گے​
​
نہ خوفِ زنداں نہ دار کا غم یہ بات دہرارہے ہیں پھر ہم​
کہ آخری فیصلہ وہ ہوگا جو دس کروڑ آدمی کریں گے​
​
ستم گروں کے ستم کے آگے نہ سر جھکا ہے نہ جھک سکے گا​
شعارِ صادق پہ ہم ہیں نازاں جو کہہ رہے ہیں وہی کریں گے​
​
یہ لوگ کچھ کم نگاہ جن کو سمجھ رہے ہیں کہ ناسمجھ ہیں ​
یہی زمانے میں عام جالب شعور کی روشنی کریں گے​
​
​
حبیب جالب​
​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top