عزیز حامد مدنی نظم : تصویریں - عزیز حامد مدنی

تصویریں
میں نے سوچا ہے کہ خورشید کا ماتم نہ کروں
شب کی آغوش میں مے خانے ہیں ، سیّارے ہیں
جن کا پرتو مری بےخواب نگاہوں میں رہا
ابھی افلاک کی محراب میں وہ تارے ہیں
جو خلاؤں میں لٹاتے رہے کرنوں کی ضیا
آتشیں ہو کے شفق روز پگھل جاتی ہے
روز نظّاروں کی اک لاش سی جل جاتی ہے

دور کرنوں سے لپٹتا ہوا پُرپیچ دُھواں
رقص کرتا ہے دُھندلکوں کے سہارے اب بھی
میں نے جلتے ہوئے سورج کا محل دیکھا ہے
سرخ ہو جاتے ہیں گردوں کے کنارے اب بھی
ناگزشتہ ہی رہا شام کا غم ناک سکوت
کس کی غم خوار نگاہوں سے اٹھا یہ تابوت

روز اٹھتی ہے فضاؤں میں اُجالے کی فصیل
گرتی جاتی ہے کھنڈر ہوتی چلی جاتی ہے
موت تاریخ کے گرتے ہوئے ایوانوں میں
ابنِ آدم کا لہو چاٹ کے گھبراتی ہے
چھوڑ دوں دامنِ خورشید کو نظروں سے یہیں
شب کے خاموش اندھیرے بھی تو بے نور نہیں

رنگ لوں آج نگاہوں کے تحیّر کا خلا
آتشیں لب سے دہکتے ہوئے رخساروں سے
چاندنی رات کے خاموش سمن زاروں سے
صبح کا نور جہاں رقص کیا کرتا ہے
دُور ان دھند میں لپٹے ہوئے کہساروں سے
اجنبی دخترِ دہقاں کی نگاہوں سے کبھی
کارواں سو گئے جن پر انھیں راہوں سے کبھی

کچھ پرندوں کی جھجکتی ہوئی پروازوں سے
کھیلتی ہیں جو سرِ شام مرے رازوں سے
جو بُنا کرتی ہیں ہر لحظہ نئے گیت کے جال
ان پسِ پردہ لرزتی ہوئی آوازوں سے
لب و رخسار کے کھوئے ہوئے افسانوں سے
نیم خوابیدہ نگاہوں کے شبستانوں سے

نکہتِ زلفِ پریشاں کی کم آمیزی سے
عشق اور حسن کے ہنگامِ جنوں خیزی سے
دل کی اک لَو سے جو وابستہ رہی ہے برسوں
ایک بے باک تبسّم کی شرر ریزی سے

کتنے جلوے ابھی مجروح وپریشاں ہیں یہاں
رہ گزاروں کا سلگتا ہوا دامن ہے ابھی
آدمی اپنی ہی امید کا رہ زن ہے ابھی
ذہنِ انساں کہ جسے تابشِ خورشید ملی
تیرہ و تار روایات کا مسکن ہے ابھی
رزم گاہوں سے اُمڈتے ہوئے سیلاب بھی ہیں
بستیاں جلتی ہوئی خون کے گرداب بھی ہیں

کتنے بے نام جنازے ہیں ابھی راہوں پر
کتنے ناسور ہیں تہذیب کی ان بانہوں پر
آج تیور ہیں مگر تیرہ فضا کے کچھ اور
ایک پرتو سا لرزتا ہے سکوں گاہوں پر

وقت اس دشت میں ہے زمزمہِء بانگِ رحیل
جنبشِ دستِ تغیّر سے نہ منزل ہے نہ میل
یہ اندھیرا ہے اسیرِ غمِ خورشید تو کیا
کسی آنسو کسی امید کا ماتم نہ کروں
میں نے سوچا ہے کہ خورشید کا ماتم نہ کروں
عزیز حامد مدنی
1944ء​
 
آخری تدوین:
Top