میری پہلی نظم

میری پہلی نظم

"یونہی سہی"

چاند نکلے کہ نہ نکلے جاناں
درد کی رات گزر جائے گی
ٹیس ابھرے کہ نہ ابھرے دل میں
میری یہ آنکھ تو بھر جائے گی

اے مری جانِ تمنا ترے بعد
سہہ بھی جاؤں جو ملامت کا عذاب
مگر اک بات سے ڈر لگتا ہے
میرے اجڑے ہوئے خوابوں کی کبھی
کوئی تعبیر نظر آئے گی؟
یا سسکتے ہوئے لمحوں کا فسوں
میری آنکھوں میں اتر کر کسی شب
عکسِ جاناں کے مدھر لمحے کو
یادِ ماضی میں بدل ڈالے گا
اور پھر یہ مرا بے جان سا جسم
قرض کی طرح گزارے گا حیات

دوست آئیں گے دلاسہ دینے
اپنے الفاظ کے مرہم لے کر
میں کہ اجڑا ہوا شہزادہ ہوں
میری تسکیں کو پری اترے گی
یا کہ پھر چاک لبادہ اوڑھے
اک مسیحائے نفس آئے گا

لیکن ان سب سے مجھے کیا حاصل!
کون دے گا مجھے پرسہ جاناں
کس نے سمجھا مجھے اپنا جاناں

اگر اس میں بھی رضا ہے تیری
تو پھر اے جانِ جہاں، یونہی سہی
میری منزل ہے محبت تیری
چاہے جیسے بھی ہو، جس حال میں ہو
یوں نہیں تو چلو پھر یونہی سہی

استادِ محترم محمد یعقوب آسی صاحب

ایک عمدہ نظم۔
ڈھیروں داد۔
لکھتے رہیں۔
 
Top