مختلف جماعتوں میں بٹی مسلمانی

طاھر جاوید

محفلین
ہم دائروں کے درمیاں بنے دیکھو کتنےدائیرے ہیں
ہم نہ تو اپنےپاس ہیں نہ کِسی کے سنگ ہیں
ہماری نظر میں باقی سارے کسِقدر بے رنگ ہیں
ہم اپنی ہستی کی اھمیت کی سرخرونی میں
بہت زیادہ دبنگ ہیں
میں غور کروں تو سوچتا ہوں
ہم اپنی ہی روحوں کے آئینوں کی طرف بڑہتا ہوا زنگ ہیں
ہم بے نِشاں، بے گُماں، بے زُباں
پستی کے خوُفِ مہیب کی بے صدا آواز کے پابند ہیں
ہم ذات کی اصل منزل سے دُور
خوش فہمیوں میں بند ہیں
سوچ کی دوریاں برحق سہیں مگرہمارے کتنے اعمال
ہمارےاپنے بنائے دایئروں کی سوچ کی دُوریوں میں پھنسے
لفظوں کی نرم چھاوں میں بسے
مفہامت کے ہر عمل کو بھول چُکے ہیں
ہماری ذات کے داِئیروں میں
دیکھو بسے اورکتنے دائیرے ہیں
 
Top