مادیت پرستی کا آغاز!

arifkarim

معطل
ہمارے ہاں اکثریہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آخر آجکل کا انسان مادیت پرستی میں اتنا زیادہ کیوں کھو گیا ہے۔ جسکے مختلف جوابات مختلف مکاتب فکر سے آتے ہیں۔ مثلاً علما کرام کے مطابق اسکی وجہ خدا و مذہب سے دوری یا ریاکاری ہے۔ سیکولر حلقے سیاست دانوں اور حکمرانوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ عوام کی اخلاقی حالت پر توجہ نہیں کر رہے۔ وغیرہ۔ جبکہ خاکسار نے اس مادیت پرستی کو ہمیشہ ایک دوسری نظر سے دیکھا ہے جسکا میں نے خود بچپن سے مشاہدہ کیا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق یہ مادہ پرستی انسانی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ اس معاشرہ یا ماحول کے اثر کا رد عمل ہے جسمیں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔ ہم بہت چھوٹی عمر کے بچوں کو اسکریننگ کرواتے ہیں ، یہاں تک کے کتابیں بعد میں دی جاتی ہیں اور میڈیا و ٹی وی کا چسکا پہلے لگ جاتا ہے۔ یوں بچپن سے ہی اشتہارات اور خواہشات کی مادی دنیا سے آراستہ انسان ہمارے گھروں میں جوان ہوتا ہے۔ اور پھر جب حالات آپے سے باہر ہوجاتے ہیں تو وہی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں حالانکہ قصور ہمیشہ اپنا ہوتا ہے۔ اس اسکریننگ میں عام طور پر دکھائے جانے والے کارٹونز بھی شامل ہیں جنکو ہم عموماً بچوں کیلئے خطرہ نہیں سمجھتے!۔۔۔۔ ثبوت کیلئے دیکھئے یہ ہلا دینے والی ڈاکومنٹری:

باقی پارٹس یوٹیوب پر آتے جائیں گے!
 

عسکری

معطل
یار تم اگر کام کی پوسٹ کرو گے تو ہر کوئی پسند کرے گا لیکن اگر ایک ہی راگ الاپو گے جمہوریت اور سرمایہ کاری کا تو ڈیفینس منسٹر بور ہی ہو گا
 

شاہ حسین

محفلین
جسکا میں نے خود بچپن سے مشاہدہ کیا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق یہ مادہ پرستی انسانی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ اس معاشرہ یا ماحول کے اثر کا رد عمل ہے جسمیں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔ ہم بہت چھوٹی عمر کے بچوں کو اسکریننگ کرواتے ہیں ، یہاں تک کے کتابیں بعد میں دی جاتی ہیں اور میڈیا و ٹی وی کا چسکا پہلے لگ جاتا ہے۔ یوں بچپن سے ہی اشتہارات اور خواہشات کی مادی دنیا سے آراستہ انسان ہمارے گھروں میں جوان ہوتا ہے۔ !

انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بھی مادہ پرستی میں ہی شمار ہوتا ہے :rolleyes:;)


بہت عمدہ شراکت ہے شامل محفل کرنے کا بہت شکریہ
 

arifkarim

معطل
انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بھی مادہ پرستی میں ہی شمار ہوتا ہے :rolleyes:;)


بہت عمدہ شراکت ہے شامل محفل کرنے کا بہت شکریہ

انٹرنیٹ پر آپکے پاس مکمل اختیار ہے کہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں اور کیا نہیں۔ جبکہ میس میڈیا، اخبارات، رسائیل اور ٹی وی میں‌ایسا ممکن نہیں ہے!
 
Top