لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

اجمل خان

محفلین
ہر دور میں حکمراں اپنے مجرموں کو قید کرنے کیلئے بد ترین قید خانے بناتے رہے ہیں اور اِس دور کے گوانتاناما بے ‘ ابو غریب جیل ‘ بگرام جیل جیسے نہایت ہی بھیانک اور بد ترین قید خانوں یا جیل خانوں کے نام ہم سب نے سن رکھے ہیں۔ لیکن سائنس و ٹیکنولوجی کے اس دور میں کیا کویٴ ایسا قید خانہ بنا سکتا ہے جو مچھلی کے پیٹ میں ہو اور مچھلی قیدی کو لئے ہوئے ہزاروں میٹر پانی کے نیچے چلی جائے جہان اندھیرا ہی اندھیرا ہو‘ رات کا اندھیرا ‘ سمندر کی گہرایٴ کا اندھیرا اور پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور جہاں نہ ہوا ہو نہ آکسیجن لیکن قیدی پھر بھی صحیح سلامت اور زندہ رہے۔

جی کویٴ نہیں ۔ ایسا قید خانہ صرف ہمارا رب ہی بنا سکتا ہے کیونکہ
أَنَّ اللَّ۔هَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّ۔هَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا​
اللہ ہر چیز قدرت رکھتا ہے اور یہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،​
اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو موصل کے علاقے نینویٰ والوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو شرک و کفر کی ظلمتوں سے نکالنے اور توحید کی روشنی سے روشناش کرانے کی پوری کوشش کی لیکن انہونے آپ کی تکذیب کی اور کفر و عناد پر اڑے رہے۔ جب تبلیغ کرتے کرتے ایک طویل مدت گزر گئی لیکن قوم نہیں سدھری اور اللہ کے عذاب آنے کا وقت قریب آگیا تو یونس علیہ السلام اپنے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کئے بغیر بستی سے نکل گئے اور لوگوں کو فرما گئے کہ تین دن کے ا ندر اُن پر عذاب آ جائے گا۔
حضرت یونس علیہ السلام کو صرف یہ وحی کی گئی تھی کہ تین دن کے اندر بستی والوں پر عذاب آ جائے گا‘ اُنہیں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اس صورتِ حال میں اُنہیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں اپنے پروردگار کے حکم کا انتظار میں صبر نہیں کیا اور اس جرم میں اللہ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا۔​
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ﴿٤٨﴾ سورة القلم​
پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔​
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ ….سورة الأنبياء​
اورمچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔​
لیکن حضرت یونس علیہ السلام کو جوں ہی احساس ہوا کہ اُن سے غلطی ہو گئی ہے ، انہوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا اور مچھلی کے پیٹ کے اندھرے قید خانے سے اللہ کو پکارا ۔
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَ۔ٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿٨٧﴾ سورة الأنبياء
بالآ خر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں اپنے نفس پر ظلم کیا۔

نوٹ کیجئے حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ کی قید خانہ سے رہای ٴ کیلئے توحیدِ باری تعالیٰ کا ہی سہارا لیا اور اللہ کی ہی پاکی بیان کی ۔۔۔۔ کسی نبی ‘ ولی یا اللہ کے کسی اور برگزیدہ بندے کا وسیلہ نہیں لیا۔
حضرت یونس علیہ السلام نے کہا
’ لَّا إِلَ۔ٰهَ إِلَّا أَنتَ ‘ یعنی ’ لَّا إِلَ۔ٰهَ إِلَّا اللہ ‘ جو کہ کلمہٴ توحید ہے اور کہا ’ سُبْحَانَكَ ‘ یعنی ’ سبحان اللہ ‘ جو کہ ا لله تعالی کی تسبيح و تنزيہ ہے اور ’ پھر إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ‘ اپنے غلطیوں کا اقرار و اعتراف اِن لفظوں میں کیا کہ ’ بیشک میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔۔ اس جملے میں اِن باتوں کا اعتراف ہے کہ اے اللہ میں نے تیرے حکم کا انتظار نہ کرکے تیرا کچھ نہیں بگاڑ ا ا ور مجھے اس قید میں ڈال کر تو نے مجھ پر کویٴ ظلم نہیں کیا کیونکہ تو اس سے پاک ہے کہ کسی پر ظلم کرے‘ یہ تو ہم انسان ہی ہیں جو جلد باز ہیں نا شکرے ہیں اور نا صبرے ہیں اور اپنے ہی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔
تب ہمارے غفور الرحیم رب نے نہ صرف اپنے نبی کی دعا قبول کی اور انہیں غم (قید) سے نجات بخشی بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ جو بھی مومن بندہ یہ دعا مانگے گا ‘ اُسے نجات ملے گی:​
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ ﴿٨٨﴾ سورة الأنبياء​
پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں،​
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
ذوالنون ( یعنی یونس علیہ السلام ) کی وہ دعاء جو انہوں نے مچهلی کے پیٹ اندر کی تھی (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ) جو مسلمان اپنے کسی بهی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعاء کرے گا اللہ تعالی اس کو قبول فرمادیں گے ۔( رواه الترمذي والحاكم )​
لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ​
یہ دعا بھی ہے اور کلمہٴ توحید بھی ۔ اس کی برکتوں سے ایک طرف حضرت یونس علیہ السلام ایک ایسی قید خانے (مچھلی کی پیٹ ) سے آزاد ہوئے جس کا تصور بھی کویٴ انسان نہیں کر سکتا تو دوسری طرف ان کی مشرک قوم بھی شرک کی ظلمتوں سے آزاد ہو یٴ اور ایک اللہ پہ ایمان لے آیٴ ‘ ایک اللہ کی بندگی میں داخل ہو گیٴ۔

انسانی تاریخ میں واحد قوم ہے جنہیں اللہ کا عذاب آنے کے بعد نجات ملی۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے:​
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٩٨﴾ سورة يونس​
پس کوئی بستی ایمان نہ ﻻئی کہ ایمان ﻻنا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے۔ جب وه ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لیے زندگی سے فائده اٹھانے (کا موقع) دیا۔
اگر کویٴ بندہٴ مومن اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے اللہ سے اپنی مغفرت کا طلب گار ہو تو اُسے اس دعا کا سہارا لینا ہوگا۔ کیونکہ اس دعا میں ۔۔۔ کلمہ توحيد ( لا إله إلا أنت ) بھی ہے ......تسبیح و تنزيہ ( سبحانك ) بھی ہے ......اور استغفار ( إنى كنت من الظالمين ) بھی ہے۔​
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :
میں تمہیں وہ چيز نہ بتاؤں کہ اگرکسی پر کوئ مصیبت اور آزمائش آجائے تو وہ اسے پڑھے تو اسے اس سے نجات مل جا ئے گی وہ یونس علیہ السلام کی دعا ہے ( لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین )۔ مستد رک حاکم اور صحیح الجامع ( 2605 ) میں بھی یہ حدیث ہے ۔​
اس وقت پوری امت گوناگوں مصیبتوں‘ آزمائشوں اور پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے اور طرح طرح کے عذابات کا شکار ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ ہم سب اس دعا کی معنی مطلب کو سمجھیں اور
شرک و بدعت کی ہر فعل کو ترک کریں۔
ایک اللہ کی بندگی میں آئیں۔
اپنی کوتاہیوں پر نظر رکھیں۔
اور اِس دعا کو اپنی روزانہ کی معلومات میں شامل کریں تاکہ ہماری بھی بخشش ہو جائے اور اُمت بھی نجات پائے۔
اِس دعا سے قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے ‘ قوم پر آیٴ ہویٴ عذاب ٹل جاتی ہے۔​
 

x boy

محفلین
جزاک اللہ
بہت ہی اچھی طرح اس بات کو سمجھا گیا کہ
ہمیں اللہ کی ہی عبادت کرنی ہے سبحان اللہ تعالی کے احکامات کو نبی محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں سے ماننا چاہیے،

اس بارہ میں مختلف قول اس طریق سے بھی دیکھ سکتے ہیں
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فیصلہ کن قول
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں اگر کوئی شخص پہچان لے تو اس نے پورے دین کو پہچان لیا ۔ پورا دین اس کے پاس محفوظ ہوگیا ۔ ایک یہ کہ عبادت کس کی کرنی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ، کسی حجر و شجر کی نہیں ، قبے اور مزار کی نہیں اور نہ ہی کسی نبی ، ولی اور فرشتے کی ۔ دوسرا یہ کہ کس طرح کرنی ہے ؟ جیسے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ۔ پس جو شخص ان دو باتوں کو پہچان لے اس نے سارے دین کو پہچان لیا اور یہ پورے دین کی اساس و بنیاد ہے ۔ اس لئے ہمیں اپنا عقیدہ ، عمل ، منہج ، معیشت و معاشرت ، سیاست سمیت دیگر تمام امور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق بنانا ہوں گے تب اللہ رب العالمین انہیں شرف قبولیت سے نوازیں گے ۔ بصورت دیگر تمام اعمال ، عبادتیں اور ریاضتیں برباد ہو جائیں گی اور کسی عمل کا فائدہ نہ ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلیٰ ناراً حامیۃ ( الغاشیۃ : 1-4 )
قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل و رسوا ہونگے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ عمل نہیں کرتے تھے ، محبت اور کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ عمل کرتے تھے اور بہت زیادہ کرتے تھے عمل کرتے کرتے تھک جایا کرتے تھے لیکن یہ دھکتی ہوئی جہنم کی آگ کا لقمہ بن جائیں گے ۔ بے تحاشا عمل کرنے والے محنتیں اور ریاضتیں کرنے والے ، صبح و شام سفر کرنے والے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے ۔ کیوں ! اس لئے کہ ان کا عمل اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کے مطابق نہ تھا ۔ قرآن و حدیث کے مطابق نہ تھا ۔ اگر عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کو بلا جھجک اور بلا چوں و چراں تسلیم کر لیا جائے تو یہی کامیابی ہے اور یہی ایمان ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے ، عمل اور منہج کو کتاب و سنت کے مطابق بنا دے ۔ تا کہ ہم قرآن و حدیث کو ہی اپنا مرکز اطاعت ٹھہرا لیں ۔ ( آمین )۔

نیکی صرف اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی
اطاعت کا نام ہے
صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے کہ تین افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے ۔ انہوں نے پردے کے پیچھے سے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کے بارے میں پوچھا ، ان کی خواہش تھی کہ ہماری رات کی عبادت اس کا طریقہ اور اس کا وقت بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ اور وقت کے مطابق ہو ، بالکل ویسے کریں جیسے اللہ کے پیغمبر کیا کرتے تھے ۔
حدیث کے الفاظ ہیں : فلما اخبروا تقالوھا
جب انہیں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عبادت کے بارے میں بتلایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو تھوڑا سمجھا ۔ پھر خود ہی کہا کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ معاف کر دئیے ہیں اور ہم چونکہ گناہ گار ہیں لہٰذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئیے ۔ چنانچہ تینوں نے کھڑے کھڑے عزم کر لیا ۔

ایک نے کہا میں آج کے بعد رات کو کبھی نہیں سوؤں گا بلکہ پوری رات اللہ کی عبادت کرنے میں گزاروں گا ۔
دوسرے نے کہا میں آج کے بعد ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔
تیسرے نے کہا میں آج کے بعد اپنے گھر نہیں جاؤنگا اپنے گھر بار اور اہل و عیال سے علیحدہ ہو جاؤں گا تا کہ ہمہ وقت مسجد میں رہوں ۔ چنانچہ تینوں یہ بات کہہ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ تین افراد آئے تھے اور انہوں نے یوں عزم ظاہر کیا ۔
جب امام الانبیاءنے یہ بات سنی تو حدیث کے الفاظ ہیں : فاحمر وجہ النبی کانما فقع علی وجھہ حب الرمان ” نبی علیہ السلام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا یوں لگتا تھا گویا سرخ انار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نچوڑ دیا گیا ہے اتنے غصے کا اظہار فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے یہ کیا بات کی ؟ کیا کرنے کا ارادہ کیا ؟ پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنا عمل بتایا کہ میں تو رات کو سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں ، نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میرا گھر بار ہے اور میری بیویاں ہیں ۔ میں انہیں وقت بھی دیتا ہوں اور اللہ کے گھر میں بھی آتا ہوں ۔ یہ میرا طریقہ اور سنت ہے جس نے میرے اس طریقے سے اعراض کیا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہ ہے ۔ یعنی جس نے اپنے طریقے پر چلتے ہوئے پوری پوری رات قیام کیا ۔ زمانے بھر کے روزے رکھے اور پوری عمر مسجد میں گزار دی اس کا میرے دین سے میری جماعت سے میری امت سے کوئی تعلق نہ ہو گا ۔ وہ دین اسلام سے خارج ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی محنت کا نام نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نام نیکی ہے ۔ ایک عمل اس وقت تک ” عمل صالح نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تائید اور تصدیق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا ۔ کیونکہ وہ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور منہج کے خلاف تھا ۔ یاد رہے کہ کوئی راستہ بظاہر کتنا ہی اچھا لگتا ہو اس وقت تک اس کو اپنانا جائز نہیں جب تک اس کی تصدیق و تائید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔
 
Top