قائدِ اعظم - رحمٰن کیانی

حسان خان

لائبریرین
اے لوگو! میری بات سنو​
اور سوچ سمجھ کے ساتھ سنو​
​
وہ جن کے پیدا ہونے کا​
تن پیٹ کی ڈلیا ڈھونے کا​
​
سو سالہ جشن منانے کو​
تم لوگ یہاں مل بیٹھے ہو​
​
وہ سیدھے سچے راہنما​
کہتے ہیں زمانہ بیت چکا​
​
یہ پاپی دنیا چھوڑ چکے​
سب ناتے رشتے توڑ چکے​
​
اور کروٹ کروٹ جنت میں​
سکھ چین سے اپنی تربت میں​
​
اب پاؤں پسارے سوتے ہیں​
اور باپ تمہارے ہوتے ہیں​
​
میں آج انہی کے بارے میں​
من موج کے چڑھتے دھارے میں​
​
کچھ کہنے کو منہ کھولوں گا​
اور تاک دھنا دھن بولوں گا​
​
ماں باپ قسم، استاد قسم​
گھر بار قسم، اولاد قسم​
​
دل جان قسم، ایمان قسم​
اللہ قسم، قرآن قسم​
​
وہ بگلے جیسے پیر نہ تھے​
سچ مانو ٹیڑھی کھیر نہ تھے​
​
وہ مینا، مرغا، مور نہ تھے​
مولانا حلوہ خور نہ تھے​
​
وہ واعظ کلّا پھاڑ نہ تھے​
وہ ذاکر چیخم دھاڑ نہ تھے​
​
وہ مفتی فتنہ چھوڑ نہ تھے​
علامہ ملت توڑ نہ تھے​
​
وہ سودی ساہوکار نہ تھے​
وہ بنیئے ڈنڈی مار نہ تھے​
​
وہ سیٹھ ملاوٹ کار نہ تھے​
وہ قاتل بے تلوار نہ تھے​
​
وہ ناپ کے کرتے پاپ نہ تھے​
اور بنتے حاجی چھاپ نہ تھے​
​
وہ قومی چاقو گھونپ نہ تھے​
وہ کالے دھن کی توپ نہ تھے​
​
وہ نقلی انکل ٹام نہ تھے​
وہ گوروں کے گلفام نہ تھے​
​
وہ اپنوں کے خرکار نہ تھے​
اغیار کے خدمتگار نہ تھے​
​
وہ بے بس گھر داماد نہ تھے​
وہ افسر مادر زاد نہ تھے​
​
وہ منشی پھڈے باز نہ تھے​
وہ بابو حیلے ساز نہ تھے​
​
وہ دفتر کی مخلوق نہ تھے​
وہ افسر کی بندوق نہ تھے​
​
وہ نوکر رشوت خور نہ تھے​
سرکاری ڈاکو چور نہ تھے​
​
وہ صدیوں کا نقصان نہ تھے​
وہ پشتوں کا تاوان نہ تھے​
​
بیگار نہ تھے، بھگتان نہ تھے​
جن، بھوت، بلا، شیطان نہ تھے​
​
یرقان، دمہ، سرطان نہ تھے​
وہ ملک وڈیرے خان نہ تھے​
​
وہ حاکم کے قوال نہ تھے​
وہ ظالم کے فٹ بال نہ تھے​
​
وہ دشمن کے دلّال نہ تھے​
غڈار کے ہانڈی دال نہ تھے​
​
لچ پال تھے، گھوڑی پال نہ تھے​
ہر بھاؤ بکاؤ مال نہ تھے​
​
وہ مٹی کی دیوار نہ تھے​
وہ لکڑی کی تلوار نہ تھے​
​
وہ رستم مکھی مار نہ تھے​
وہ جھوٹے عزت دار نہ تھے​
​
سرخان نہ تھے، سردار نہ تھے​
نوّاب حماقت یار نہ تھے​
​
وہ منہ پر پہنے خول نہ تھے​
وہ باتیں کرتے گول نہ تھے​
​
افکار میں ان کے جھول نہ تھے​
کردار میں ڈانواں ڈول نہ تھے​
​
وہ ڈھم ڈھم بجتی ڈھول نہ تھے​
اور ڈھول کے اندر پول نہ تھے​
​
ہر ڈھولک کے بہلول نہ تھے​
ہر بیٹھک کے بغلول نہ تھے​
​
وہ کاٹ کپٹ کی پوٹ نہ تھے​
وہ دل میں رکھتے کھوٹ نہ تھے​
​
وہ دھونس سے لیتے ووٹ نہ تھے​
اور دیتے جعلی نوٹ نہ تھے​
​
اسلام سے وہ بیزار نہ تھے​
وہ نیّا بے پتوار نہ تھے​
​
بے دین سیاست کار نہ تھے​
وہ اندھے لاٹھی مار نہ تھے​
​
وہ اوپر سے کعبائی نہ تھے​
اور اندر سے عیسائی نہ تھے​
​
وہ گھوڑے کی چولائی نہ تھے​
وہ بستی کی بھوجائی نہ تھے​
​
وہ آنکھ لگی گھر لائی نہ تھے​
وہ پھاپھا کٹنی مائی نہ تھے​
​
وہ دانشور بے فیض نہ تھے​
اغیار کا ہم پر غیظ نہ تھے​
​
وہ شاعر ناہنجار نہ تھے​
وہ ایک کو کہتے چار نہ تھے​
​
وہ رند نہ تھے، مے خوار نہ تھے​
وہ زانی اور بدکار نہ تھے​
​
گھر کھود نہ تھے، خرگوش نہ تھے​
وہ سڑی کڑھی کا جوش نہ تھے​
​
وہ دہنے دادا گیر نہ تھے​
وہ قومی رسّہ گیر نہ تھے​
​
وہ چھپ کر کھاتے کھانڈ نہ تھے​
وہ کھل کر پیتے مانڈ نہ تھے​
​
وہ قوم کو سمجھے رانڈ نہ تھے​
وہ اللہ دینو سانڈ نہ تھے​
​
وہ بائیں بٹوا چور نہ تھے​
وہ چوروں کے بھی مور نہ تھے​
​
وہ محلوں کے جمہور نہ تھے​
قالینوں کے مزدور نہ تھے​
​
وہ بھیڑ کی اوڑھے کھال نہ تھے​
وہ دال میں کالا بال نہ تھے​
​
وہ گھی کے نیچے تیل نہ تھے​
وہ باغ کی امبر بیل نہ تھے​
​
وہ کھیت کے دشمن کاگ نہ تھے​
وہ پھول سے لپٹے ناگ نہ تھے​
​
وہ لگی لگائی لاگ نہ تھے​
گھر پھونک پرائی آگ نہ تھے​
​
وہ تِلیَر تیتر کوئی نہ تھے​
وہ کھٹمل مچھر کوئی نہ تھے​
​
وہ منہ کے اوپر اور نہ تھے​
اور دل کے اندر اور نہ تھے​
​
وہ حال میں اپنے مست نہ تھے​
وہ مال میں اپنے مست نہ تھے​
​
وہ چال میں اپنی مست نہ تھے​
وہ کھال میں اپنی مست نہ تھے​
​
وہ میں نے اب تک جو بھی کہا​
اور تم نے اب تک جو بھی سنا​
​
واللہ وہ اتنے پست نہ تھے​
وہ تم جیسے کم بخت نہ تھے​
​
اس بات کے آگے اے لوگو!​
فی الحال نہیں کچھ کہنے کو​
​
میں اپنی بولی ٹھولی میں​
اس جلسے، محفل، ٹولی میں​
​
الفاظ کے موتی رول چکا​
اور تالو چھوڑے بول چکا​
​
میں اپنی جیسی ہانک چکا​
ہل ہانک کے مٹی پھانک چکا​
​
اب باقی کام تمہارا ہے​
کر ڈالو تو پو بارہ ہے​
​
دو چار کہیں جب مل بیٹھو​
سر جوڑ کے سوچو اور سمجھو​
​
وہ فرطِ عقیدت سے جن کو​
تم قائدِ اعظم کہتے ہو​
​
وہ ایسے ایسے ایسے تھے​
یا ویسے ویسے ویسے تھے​
​
وہ کیسے کیسے کیسے تھے​
وہ جیسے جیسے جیسے تھے​
​
اللہ وہ کتنے اچھے تھے​
واللہ وہ کتنے سچے تھے​
​
کچھ تم بھی ان کے جیسے ہو؟​
یا بالکل کھوٹے پیسے ہو؟​
​
(رحمٰن کیانی)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top