اقتباسات فکر اقبال پر تنقیدی مطالعے کی ضرورت!

حسینی

محفلین
چونکہ ناچیز ابھی طفل مکتب ہوں اس لیے "اقبالیات" سیکشن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، لہذا اس اہم اور فکر انگیز تحریر کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے:

پاکستان میں اقبال پر بہت کام ہوا ہے اور سینکڑوں چھوٹی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن اگر ادبیات اقبال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابوں کی حیثیت توضیحی نوعیت کی ہے اور انہیں ہم زیادہ سے زیادہ تفہیم اقبال کے سلسلے میں"حواشی" کا نام دے سکتے ہیں۔ان حواشی سے خیالات اقبال کی تشہیر تو ہوتی ہے لیکن اس سے فکر اقبال کی روایت آگے نہیں بڑھتی۔ فکر تو جیسے آپ جانتے ہیں تنقید سے قدم قدم آگے بڑھتی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اقبال پر تنقید کا ذخیرہ بہت کم ہے۔

ضرورت اس بات کی تھی ہم فکر اقبال کا تنقیدی جائزہ لیتے ، اس سے آنکھیں چار کر کے اس طور پر چھان بین کرتے کہ فکر اقبال کی روایت وہاں سے آگے بڑھ سکتی جہاں خود اقبال نے چھوڑا تھا، لیکن ہمارے مزار پرست ذہن نے جھوٹے احترام کا ایسا مصنوعی ہالہ اس عظیم ہستی کے ارد گرد بنا دیا کہ اب اقبال سے بات کرتے ہوئے بھی اس لیے ڈر لگتا ہے کہ کہیں مزار اقبال کے مجاور اسے اقبال دشمنی کا نام نہ دے دیں، حالانکہ اگر غورسے دیکھا جائے تو اسی انداز نظر سے ہم اقبال او رفکر اقبال کو صحیح معنوں میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ۔ ۔

اقبال کو اسی طریقے سے حیات نو دے سکتے ہیں جس طرح انہوں نے اپنے اسلاف کے افکار وخیالات کا تنقیدی محاکمہ کیا تھا۔ صرف پھولوں کی چادر چڑھانے یا مزار اقبال پر قوالی کرانے سے اقبال کو زندہ نہیں رکھ سکتے۔ اقبال نے زندگی کے مسائل کے بطن کی گہرائیوں میں اتر کر سوچا سمجھا تھا اور کرب تخلیق سے گزر کر نئی مسلم تہذیب کی جہت مقرر کر کے ہمیں ایک راستہ دکھایا تھا جس پرچلنا اور اسے صاف وکشادہ کرنا ہمار ا فرض تھا، لیکن حسن اتفاق دیکھیے کہ ان کے اسی پہلو پر بہت کم کام اور بہت کم غور وفکر ہو اہے۔
"اقبال: فکر اسلامی کی تشکیل جدید" سیمینارمیں ڈاکٹر جمیل طالبی کے خطبہ صدارت سے اقتباس

کتاب : علامہ اقبال ، حیات ، فکر وفن ، ۱۰۱ مقالات
مرتبہ: ڈاکٹر سلیم اختر
ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور
 
Top