فلسفیانہ مقالہ: پھر مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہوا!

قسط ۳:
بقا (survival) سے آزادی!

انسان کے لیے بہت سی راہوں کے سد کھل سکتے ہیں اگر وہ اپنے وجود کو "بقا" (survival) سے بے نیاز کر لے۔ یہ بقا کی جنگ انسان کو کہیں نہیں پہنچنے دیتی۔ انسان اپنے لیے آسائش اور پیسہ جمع کرتا ہے، اس امید سے کہ جب یہ آسائشیں میسر آئیں تو انسانی ارتقا کی راہ میں کچھ قلمرو کو وسیع کرے، بالکل اسی طرح جس طرح ریشم کا کیڑا ریشم بنتا ہے، لیکن جب افادیت کی باری آتی ہے تو مقصد ہی (یعنی حیات) زائل ہو چکا ہوتا ہے، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے!
انسان کو اپنے وجود پر قدرت ہونا چاہیے! اگر مسائلِ بقا کو وہ حل کر پائے تو یقینا اس کی آخری منزل، وقت کے دھارے سے گزر کر ابتدا میں عروج پا سکتی ہے۔ کیا انسان اپنی جسمانی ضروریات کو کم سے کم (minimum) پر لانے پر قادر ہے؟ کیا انسان ۳ وقت کے ناغے کے بعد ایک وقت غذا لے کر زندہ رہنے میں اور بقا کی جنگ جیتنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ کیا انسان آسائشی مکانوں سے بے نیاز ہو کر کسی جھونپڑی یا اس سے کم میں گزر کر سکتا ہے؟ ہاں اگر وہ یہاں تک پہنچ سکتا ہے تو اسکے لیے ارتقا کے دروازے کھلے ہیں۔ اور کیوں نہیں!
انسان وہ کام کر سکتا ہے جو ملک نہ کر سکیں، جو خدا نہ کر سکے۔ تو پھر اس امتحان کے واسطے کیوں قدم نہیں بڑھاتا! شاید وہ انسان سے کچھ اور اوپر ارتقا پا جائے! اور اشرف الانسان کے رطبے کا حقدار مانا جائے!

اور یقینا یہی ہے نظریہ اقتصاد!
 
قسط ۴
مقصدِ حیات

یہ دنیا کسی غلک کی سی ہے، جس میں انسان اپنے بڑے اور چھوٹے کارناموں کو جمع کرتا ہے۔ بس یہی ہے مقصدِ حیات۔ اس فانی دنیا میں آؤ، کچھ نہیں تو کم از کم چھوٹا موٹا ہی ایسا کارنامہ کر جاؤ کہ اس غلک میں سنگینی کرے۔ اس کا وجود محسوب ہو۔ شاعر دو سطر شعر ہی لکھ جائے، لکھاری ایک مضمون ہی سہی، طبیب ایک معاینہ ہی کر لے، معمار ایک اینٹ ہی چن لے، باغبان ایک پھول ہی لگا جائے اور ہر اہم سے اہم اور ناچیز سے ناچیز انسان کچھ نہ کچھ اس دنیا میں اپنی طرف سے شریک کرے۔ بس۔ ہم اسی مقصد سے یہاں آئے ہیں۔
 
Top