فلسطین کے حوالے سے شاعری

جاسمن

لائبریرین
بیاد اقبال

شام و فلسطین
رندان فرانسیس کا مے خانہ سلامت
پُر ہے مے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب کا
ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

فلسطینی عرب سے!
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے ، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ ِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے

ذوق و شوق
( جس کے بیشتر اشعار فلسطین میں لکھے گئے)
کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومنات
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
 

یاسر شاہ

محفلین

ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے​

فیض احمد فیض


دلچسپ معلومات​

فیض کی یہ نظم انکی مشہور زمانہ نظم 'ہم دیکھیں گے' سے کافی ملتی جلتی ہے- یہ نظم انہوں نے فلسطین کے مجاہدوں کے نام ١٥ جون ١٩٨٣ کو لکھی تھی- یاسر عرفات سے فیض کی قریبی دوستی تھی-

ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے
کیا خوف ز یلغار اعدا
ہے سینہ سپر ہر غازی کا
کیا خوف ز یورش جیش قضا
صف بستہ ہیں ارواح الشہدا
ڈر کاہے کا
ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
قد جاء الحق و زھق الباطل
فرمودۂ رب اکبر
ہے جنت اپنے پاؤں تلے
اور سایۂ رحمت سر پر ہے
پھر کیا ڈر ہے
ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے
مأخذ:
ebookdefault.png

Nuskha-haa-e-Wafa (Kulliyat-e-Faiz) (Pg. 700)​

    • اشاعت: 2009
    • ناشر: Educational Publishing House
    • سن اشاعت: 2009
 
Top