انور شعور غزل ۔ ایسے دیکھا کہ دیکھا ہی نہ ہو ۔ انور شعورؔ

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
ایسے دیکھا کہ دیکھا ہی نہ ہو​
جیسے اُس کی مجھے پروا ہی نہ ہو​
​
یہ سمجھتا ہے ہَر آنے والا​
میں نہ آؤں تو تماشا ہی نہ ہو​
​
بعض گھر شہر میں ایسے دیکھے​
جیسے اُن میں کوئی رہتا ہی نہ ہو​
​
مجھ سے کترا کے بھلا کیوں جاتا​
شاید اُس نے مجھے دیکھا ہی نہ ہو​
​
رات ہر چاپ پہ آتا تھا خیال​
اُٹھ کے دیکھوں، کوئی آیا ہی نہ ہو​
​
کیسے چھوڑوں در و دیوار اپنے​
کیا خبر لوٹ کے آنا ہی نہ ہو​
​
ہیں سبھی غیر تو اپنا مسکن​
شہر کیوں ہو، کوئی صحرا ہی نہ ہو​
​
یوں تو کہنے کو بہت کچھ ہے شعورؔ​
کیا کہوں، جب کوئی سنتا ہی نہ ہو​
​
انور شعورؔ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top