عہدِ جہانگیری کا نوروز

حسان خان

لائبریرین
"جہانگیر اپنی تزک میں جشنِ نوروز کی زینت و آرایش کا حال بہت ہی لطف سے کرتا ہے۔ مثلاً گیارہویں سالِ جلوس میں لکھتا ہے کہ آفتاب جب برجِ حمل میں گیا، تو دیوانِ خاص اور دیوانِ عام کو خوب سجایا گیا، صحن میں بارگاہ اور شامیانے نصب کیے گئے، اور اُن کو فرنگی پردوں، مصوّر، زربفت اور نادر کپڑوں سے آراستہ کیا گیا، اور جب تخت پر آ کے بیٹھا تو شاہزادے، امراء اور ارکانِ دولت کورنش بجا لائے، اور مبارک باد پیش کیا۔ دربار کے مشہور ماہرِ موسیقی ناد علی سے کہا گیا کہ اس دن نذرانے میں جو نقد و جنس بھی پیش ہو گی، سب اسی کی ہو گی۔ دوسرے روز بھی نذرانے پیش ہوئے، چوتھے روز خواجہ جہان کا نذرانہ پیش ہوا، جو اُس نے آگرہ سے بھیجا تھا۔ اس میں ہیرے کے چند ٹکڑے اور کچھ دانے موتی کے تھے۔ مرصع آلات، کپڑے اور ہاتھی بھی تھے، جن کی مجموعی قیمت پچاس ہزار روپئے تھی۔ پانچویں دن کنور کرن نے ایک سو مہر، ایک ہزار روپئے، ایک زنجیر فیل، اور چار راس گھوڑے پیش کیے۔ ساتویں روز آصف خاں کے منصب میں ہزاری ذات و دو ہزار سوار کا اضافہ کیا گیا۔ نقارہ اور علًم بھی مرحمت کیا گیا۔ اسی روز جمال الدین حسین کا نذرانہ پیش ہوا، جو بہت عمدہ تھا۔ اس میں ایک مرصع خنجر تھا، جس کے اوپر ایک زرد یاقوت لگا ہوا تھا۔ اس کا حجم مرغی کے آدھے انڈے کے برابر تھا۔ اتنا لطیف اور بڑا زرد یاقوت پہلے دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ کچھ پرانے زمرّد بھی تھے۔ میر جمال پنج ہزاری ذات و سہ ہزاری تھا، اس کے منصب میں ہزار سوار کا اضافہ کیا گیا۔ آٹھویں دن صادق خان اور ارادت خاں کے منصب میں اضافہ ہوا۔ نویں روز خواجہ ابوالحسن نے جواہرات، مرصع آلات اور قیمتی کپڑے پیش کیے، جن کی قیمت چالیس ہزار روپیے ہو گی۔ تاتار خاں بکاول بیگی نے ایک قطعہ لعل، ایک قطعہ یاقوت، ایک عدد مرصع تختی، دو عدد انگوٹھیاں، اور کچھ کپڑے نذرانے میں گذرانے۔ دسویں روز راجہ مہا سنگھ دکن کے تین زنجیر فیل قبول کیے گئے۔ اسی روز مرتضیٰ خاں لاہور کا فرستادہ زربفت پیش کیا گیا، اور دیانت خاں نے موتی کی دو تسبیحیں، دو قطعہ لعل، چھ دانے بڑے موتی پیش کیے۔ اسی روز بہادر خاں حاکمِ قندہار نے سات راس عراقی گھوڑے اور کچھ قیمتی کپڑے بھیجے۔ ارادت خاں اور راجہ سورج مل ولد راجہ باسو کے نذرانے بھی پیش ہوئے۔ تیرہویں روز عبدالسبحان کے منصب میں اضافہ ہوا۔ پندرہویں روز مظفر خاں کو ٹھٹھ (کذا) کی ولایت دی گئی۔ سولہویں روز اعتقاد خان ولد اعتمادالدولہ کے نذرانے پیش ہوئے۔ سترہویں روز تربیت خاں نے نذر گذرانی۔ اٹھارہویں روز آصف خان کے گھر پر گیا، اُس کا گھر ایک کروہ کے فاصلے پر تھا، لیکن اُس نے نصف راستے پر مخمل اور زربفت وغیرہ بچھا دیے تھے۔ وہاں آدھی رات تک قیام رہا۔ اُس نے جو جواہرات، مرصع آلات اور کپڑے وغیرہ نذرانے میں دیے، اُن کی قیمت ایک لاکھ چودہ ہزار روپے تھی۔ ان کے علاوہ چار راس گھوڑے، ایک راس اونٹ، اور ایک طلائی خوانچہ بھی پیش کیے۔ گیارہویں روز اعتمادالدولہ کے گھر گیا، وہاں جو نذرانے پیش ہوئے ان میں بڑی نفاست تھی۔ دو موتی تھے، جن کی قیمت تیس ہزار روپے تھی، ایک قطعہ لعلِ قطبی تھا جو بائیس ہزار روپئے میں خریدا گیا تھا، دوسرے موتیوں اور لعل کی قیمت ملا کر ایک لاکھ دس ہزار روپے کے نذرانے تھے، اس میں کچھ قیمتی کپڑے بھی تھے، جن کی قیمت پندرہ ہزار روپے تھی۔ وہاں ایک پہر رات تک بڑی اچھی صحبت رہی۔ اسی روز نور محل بیگم کو نور جہاں بیگم کا لقب عطا کیا گیا۔ بارہویں روز اعتبار خاں کی پیشکش سامنے آئی، اس میں ایک برتن مچھلی کی شکل کا تھا، جس میں جواہرات لگے ہوئے تھے، اس کے علاوہ مرصع آلات اور کپڑے تھے، جن کی مجموعی قیمت چھپن ہزار روپے تھی۔ انیسویں روز آفتاب کا روزِ شرف تھا، اس لیے مجلسِ دولت خانہ اور بھی سجائی گئی۔ دو گھڑی دن گذرنے کے بعد تخت پر آ کر بیٹھا۔ خرّم نے اس وقت ایک لعل پیش کیا، جس میں بڑی صفائی اور آب و تاب تھی، اس کی قیمت اسّی ہزار روپئے تھی۔ اس فرزند کا منصبِ پانژدہ ہزاری ذات و ہشت ہزار سوار سے بڑھ کر بیست ہزار ذات و دہ ہزار سوار کیا گیا، اور اسی روز وزنِ قمری بھی لیا گیا۔
محل کے اندر نور جہاں بھی اسی دھوم دھام سے نوروز مناتی تھی۔ اس کی سرکار کے نجومی نوروز کے دن کا جو رنگ مبارک بتاتے، اسی رنگ کی مکان میں قلعی ہوتی، اسی رنگ کے فرش اور پردے ہوتے، اسی رنگ کی پوشاک تمام بیگمات اور کنیزیں پہنتیں۔ ہاتھی، گھوڑے، اونٹ اور دوسری سواریوں کی پوشش بھی اسی رنگ کی ہوتی۔ مخمل، مشجّر اور اطلس بھی اسی رنگ کی استعمال کی جاتی۔ ایک خاص وقت میں جہانگیر محل کے اندر جا کر نور جہان کے ساتھ ایک شہ نشیں پر بیٹھتا۔ نور جہاں روپئے تصدق کر کے فقیروں اور مسکینوں میں تقسیم کراتی۔ اس روز محل کے دروازے پر محتاجوں کا ہجوم ہوتا۔ نقار خانے سے شہنائی کی نوبت بھی بجتی رہتی۔ پھر نور جہاں اور جہانگیر دونوں بالا خانے پر آتے تو اُن کے سامنے سے جلوس گذرتا۔ فیل بان ہاتھیوں کے کرتب، شہسوار شہسواری کا کمال اور فوجی اپنے کرتب دکھاتے۔ پھر شہر اور سلطنت کے صنّاع اپنی صناعیوں کا مظاہرہ کرتے اور شہر کے مختلف حصوں میں نور جہاں کی طرف سے کھانے پینے کا انتظام ہوتا۔"

(سید صباح الدین عبدالرحمٰن کی کتاب 'ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی جلوے' سے مقتبس)
 
Top