عشق کیسا کہ بھروسہ بھی نہیں تھا شاید

Wasiq Khan

محفلین
عشق کیسا کہ بھروسہ بھی نہیں تھا شاید​
اس سے میرا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا شاید​

خلقتِ شہر میں جس ہار کے چرچے ہیں بہت​
میں وہ بازی کبھی کھیلا بھی نہیں تھا شاید​

زیست کرنے کے سب آداب اُسے ازبر تھے​
مجھ کو مرنے کا سلیقہ بھی نہیں تھا شاید​

خاک اُڑاتے ہوئے بازاروں میں دیکھا سب نے​
... میں کبھی گھر سے نکلا بھی نہیں تھا شاید​

اُس کی آنکھوں میں بشارت تھی نئے خوابوں کی​
میں اُسے دیکھ کے چونکا بھی نہیں تھا شاید​

ایک بادل کہ میرے نام سے منسُوب ہوا​
میرے صحرا میں تو برسا بھی نہیں تھا شاید​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top