شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چھ مشتبہ شدت پسند ہلاک

شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چھ مشتبہ شدت پسند ہلاک
ظاہر شاہ شیرازی تاریخ اشاعت 18 جون, 2014


53a1020685ddb.jpg

53a1020685ddb.jpg

فائل فوٹو—۔
پشاور: پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ صبح ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں کم سے کم چھ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

انٹیلیجنس ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی ڈرون حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ میں ہوا ہے، جہاں پر ایک مکان اور گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ حملہ اس وقت ہوا ہے، جبکہ شمالی وزیرستان پاک فوج کا آپریشن ضربِ عضب پہلے ہی جاری ہے۔

ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ رواں مہینے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں یہ تیسرا ڈرون حملہ ہے۔

اس سے قبل ہونے والے دو ڈرون حملوں میں کم سے کم 16 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

گیارہ جون کو ہونے والے ان دو مختلف ڈرون حملوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حملے کے نتیجے میں چار ازبک اور دو پنجابی طالبان ہلاک ہوئے۔

رواں سال پاکستانی حدود میں ڈرون حملوں کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ہوائی اڈے پر 8 جون کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف ایک مکمل فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کو 'ضربِ غضب' کا نام دیا گیا۔

شمالی وزیرستان میں جاری اس آپریشن میں گزشتہ روز بھی پاک فوج کے جیٹ طیاروں کی جانب سے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ منگل کے روز شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کی جانے والے کارروائی میں 25 کے قریب مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
http://urdu.dawn.com/news/1005985/
 
وزیرستان ،خصوصا شمالی وزیرستان ،القاعدہ اور طالبان کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر کے دہشت گرد یہاں موجود ہیں۔ ان لوگوں کا یہاں کیا کام ہے؟دہشت گردوں کا ختم ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ القاعدہ ،طالبان سمیت دیگر دوسرے شدت پسندگروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے. ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں.
ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو ہمیشہ کے لئے نکیل ڈالنی ہو گی اور ان کی بیخ کنی کرنا ہو گی.
 
Top