رضا سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

مہ جبین

محفلین
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
دل تھا ساجد ، نجدیا پھر تجھ کو کیا
بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے
یارسول اللہ کہا پھر تجھ کو کیا
یا غرض سے چُھٹ کے محض ذکر کو
نامِ پاک ان کا جَپا پھر تجھ کو کیا
بے خودی میں سجدہء در، یا طواف
جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا
اُن کو تملیکِ ملیک اَلملک سے
مالکِ عالم کہا پھر تجھ کو کیا
اُن کے نامِ پاک پر دل جان و مال
نجدیا سب تج دیا پھر تجھ کو کیا
یٰعبادی کہہ کے ہم کو شاہ نے
اپنا بندہ کر لیا پھر تجھ کو کیا
دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب
تُو نہ ان کا ہے نہ تھا پھر تجھ کو کیا
لاَ یَعوُدوُن آگے ہوگا بھی نہیں
تُو الگ ہے دائما پھر تجھ کو کیا
دشتِ گِردو پیش طیبہ کا ادب
مکہ سا تھا یا سِوا پھر تجھ کو کیا
نجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی
یہ ہمارا دین تھا پھر تجھ کو کیا
دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیا کریں
ہم سے راضی ہے خدا پھر تجھ کو کیا
دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض
ہم ہیں عبدِ مصطفےٰ پھر تجھ کو کیا
تیری دوزخ سے تو کچھ چھینا نہیں
خلد میں پہنچا رضا پھر تجھ کو کیا
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
 

مہ جبین

محفلین
محمد وارث بھائی آپکی مدد کی ضرورت پڑ گئی ہے مجھے یہاں
میں نے اوپر رضا لکھنے کے بجائے بے دھیانی میں ایاز صدیقی کا نام ڈال دیا ہے پلیز مدون کردیں

جزاک اللہ خیراً
 
Top