عدیم ہاشمی سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے

محمد بلال اعظم

لائبریرین
سرِصحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے​

میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے​
تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جا تی ہے​
ہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے​
محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی​
کسی نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے​
محبت میں جو ڈوبا ہوا سے ساحل سے کیا لینا​
کسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے​
بہت لہروں کو پکڑ ا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نے​
یہی بس ایک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے​
صدائیں ایک سی، یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں​
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یا د رہتا ہے​
میں کس تیزی سے زندہ ہوں ،میں یہ تو بھول جاتا ہوں​
نہیں آنا ہے دنیا میں دوبارہ یاد رہتا ہے​
 
Top