سرحد

نور وجدان

لائبریرین
کبھی کبھی سوچ کے دَر وا ہوتے ہیں ۔ مجھ پر اک دروازہ ایسے کُھلا کہ آہٹ سےچونک سی گئی ۔ سوچ تھی کہ خدا مذہب سے ماوراء ہے، سرحد سے ماوراء ہے. نیلے آکاش کی سرحد دیکھی کبھی؟ یہ سرحد حدِ احساس سے ماوراء ہے ۔

میرے من نے سوال کردیا کہ مذہب ضروری ہے

میں نے جواباً کہا کہ منکر کون ہے؟



میں تو فقط یہ کہنا چاہتی تھی خدا کو سب نے اپنے دل سے پہچانا ہے ۔ جب پہچان لیا تو سرحد کا تعین ہو گیا

کیسی سرحد؟
شریعت کی
 

سیما علی

لائبریرین
کبھی کبھی سوچ کے دَر وا ہوتے ہیں ۔ مجھ پر اک دروازہ ایسے کُھلا کہ آہٹ سےچونک سی گئی ۔ سوچ تھی کہ خدا مذہب سے ماوراء ہے، سرحد سے ماوراء ہے. نیلے آکاش کی سرحد دیکھی کبھی؟ یہ سرحد حدِ احساس سے ماوراء ہے ۔

میرے من نے سوال کردیا کہ مذہب ضروری ہے

میں نے جواباً کہا کہ منکر کون ہے؟



میں تو فقط یہ کہنا چاہتی تھی خدا کو سب نے اپنے دل سے پہچانا ہے ۔ جب پہچان لیا تو سرحد کا تعین ہو گیا

کیسی سرحد؟
شریعت کی

خداوندعالم نے اپنے بندوں کے دلوں رہتا ہے، اسی لئے ہم سب اپنے دل سے اسے پہچان لیتے ہیں۔جس وقت فطرت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو اس سے مراد اندرونی ادراک و احساس ہوتا ہے جس کے اوپر کسی عقلی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
اسلام انسان کو ایسی مخلوق قرار دیتا ہے جو جسم اور مادی بدن کے علاوہ ، غیر مادی روح کا بھی حامل ہے ۔ درحقیقت انسان کی اصل اور بنیاد اس کی روح ہے اور بدن ، صرف انسان کی ترقی وکمال کے لئے ، وسیلے کے طور پر روح کو عطا کیا گيا ہے کبھی انسان ، غفلت کی بناء پر اپنی حققیت سے ، جو روح ہے توجہ موڑکر ، جسم اور اس کی ضروریات اور خواہشات کی طرف کھینچا چلا جاتاہے اور یہی غفلت انسان کے حقیقی کمال تک رسائی میں مانع ہوتی ہے ۔
اللہ اس پر رحمت کرے جو یہ جان لے کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ وہ کہاں ہے۔اور کہاں جا رہا ہے۔
 
Top