دِل دھڑکتے کسی نے دیکھا ہے

دِل دھڑکتےکسی نےدیکھاہے
میں دِکھاتا ہوں لو ابھی دیکھو

کب تلک دید ہو گی یک طرفہ
آؤ تُم بھی ہمیں کبھی دیکھو

چاند چہرہ چکور پاگل سا
کتنی آساں ہے خُود کشی دیکھو

سب مہینے یہاں دسمبر ہیں
برف سینوں میں گر جمی دیکھو

دفن کر دے اُداسیاں عابی
خوبصورت ہے زندگی دیکھو
.........
عابی مکھنوی
 
Top