دل لگی نہیں کرنی عاشقی نہیں کرنی

دل لگی نہیں کرنی عاشقی نہیں کرنی
ہم نے سوچ رکھا تھا بے بسی نہیں کرنی
آپ کی اسیری میں ہم نے اس فقیری میں
وہ مزہ ہے پایا اب سروری نہیں کرنی
رخ پہ آپ کے رخ سے روشنی تھی قربت میں
آپ زلف سنبھالیں تیرگی نہیں کرنی
کام کوئی کرنا تھا سو یہ کام کرتے ہیں
عشق آپ سے کرنا نوکری نہیں کرنی
صبح سے ہیں آ بیٹھے آپ کی گلی میں ہم
دل پہ جبر کیا کرنا بے کسی نہیں کرنی
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
دل لگی نہیں کرنی عاشقی نہیں کرنی
ہم نے سوچ رکھا تھا بے بسی نہیں کرنی
÷÷ بے بسی کی نہیں جاتی، بے بس ہوا جاتا ہے یا دوسروں کو بے بس کیا جاتا ہے۔۔۔

آپ کی اسیری میں ہم نے اس فقیری میں
وہ مزہ ہے پایا اب سروری نہیں کرنی
۔۔۔ دوسرا مصرع کسی قدر پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، اس کی کمزوری دور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

رخ پہ آپ کے رخ سے روشنی تھی قربت میں
آپ زلف سنبھالیں تیرگی نہیں کرنی
۔۔۔ دوسرا مصرع وزن سے گر گیا۔۔۔ سم بھالیں ۔۔ ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔
کام کوئی کرنا تھا سو یہ کام کرتے ہیں
عشق آپ سے کرنا نوکری نہیں کرنی
۔۔۔ کمزور ۔۔۔
صبح سے ہیں آ بیٹھے آپ کی گلی میں ہم
دل پہ جبر کیا کرنا بے کسی نہیں کرنی
۔۔۔ بے کسی کا بھی وہی معاملہ ہے، جو بے بسی کا۔۔۔
 
Top