اقبال خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ

عاطف بٹ

محفلین
قلندروں کی اذاں لا الہ الا اللہ
سرودِ زندہ دلاں لا الہ الا اللہ

سکونِ قلب تپاں لا الہ الا اللہ
دوائے دردِ نہاں لا الہ الا اللہ

فروغِ کون و مکاں لا الہ الا اللہ
تجلیوں کا جہاں لا الہ الا اللہ

قرارِ ماہ و شاں لا الہ الا اللہ
پناہِ گلبدناں لا الہ الا اللہ

ہے بے نیازِ خزاں لا الہ الا اللہ
بہارِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

بتوں سے دے گا اماں لا الہ الا اللہ
بنا وظیفہ جاں لا الہ الا اللہ

وہ خود ہے جلوہ فشاں لا الہ الا اللہ
وجودِ غیر کہاں لا الہ الا اللہ

غریبِ شہر کے سینے میں ہے نہاں کوئی
فقیر کا ہے بیاں لا الہ الا اللہ

یہی ہے میرا پتہ لا الہ الا ہو
یہی ہے میرا نشاں لا الہ الا اللہ

جنوں مشاہدہ ذاتِ ذوالجلال میں ہے
خرد ہے وہم وگماں لا الہ الا اللہ

نظر اٹھا کہ جمودِ حیات بھی ٹوٹے
پکار زمزمہ خواں لا الہ الا اللہ

اسی لیے تو بتوں کی جبیں ہے خاک آلود
ہے میرے وردِ زباں لا الہ الا اللہ

ہے میرا نغمہ توحید لاشریک لہ
ہے میری تاب وتواں لا الہ الا اللہ

اسی سے میری محبت کی شام ہے رنگیں
میری سحر کی اذاں لا الہ الا اللہ

وہیں جمالِ رخِ یار کی تجلی ہے
جہاں ہ وجد کناں لا الہ الا اللہ

بہا کے آج لیے جا رہا ہے مظہر کو
برنگ سیل رواں لا الہ الا اللہ

(حافظ مظہر الدین)​
بہت عمدہ!
 

طارق شاہ

محفلین
خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ
علامہ اقبال (ر ع )

خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہٰ الا اللہ

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہٰ الا اللہ

کِیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں، لا الہٰ الا اللہ

یہ مال و دولتِ دُنیا، یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گماں، لا الہٰ الا اللہ

خِرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہٰ الا اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خِزاں، لا الہٰ الا اللہ

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہٰ الا اللہ

سر محمد اقبال

تشکّر عاطف صاحب!
علامہ کی کیا بات ہو صاحب
جب جب پڑھیں طبیعت سیراب ہو ، روح تک اثر جائے
پیش کرنے کے لئے تشکّر

بہت خوش رہیں ۔:):)
 

عاطف بٹ

محفلین
علامہ اقبال (ر ع )
خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہٰ الا اللہ

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہٰ الا اللہ

کِیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں، لا الہٰ الا اللہ

یہ مال و دولتِ دُنیا، یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گماں، لا الہٰ الا اللہ

خِرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہٰ الا اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خِزاں، لا الہٰ الا اللہ

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہٰ الا اللہ

سر محمد اقبال

تشکّر عاطف صاحب!
علامہ کی کیا بات ہو صاحب
جب جب پڑھیں طبیعت سیراب ہو ، روح تک اثر جائے
پیش کرنے کے لئے تشکّر

بہت خوش رہیں ۔:):)
بہت شکریہ سر۔ جزاک اللہ خیراً :)
 
Top