خلیل جبران

نیلم

محفلین
عربی زبان کے مشہور صاحب طرز ادیب ، جبران خلیل جبران 1883 ء میں پیدا ہوئے، مقام پیدائش بشریٰ ہے۔ جو لبنان کے مضافات میں الارزالخالد کے قریب واقع ہے۔ ابتدائی زندگی شمالی لبنان کی آزاد فضامیں گزری ۔ بارہ برس کی عمر میں ترک وطن کر کے ممالک متحدہ امریکہ چلے گئے۔ چند سال وہاں ٹھہر کر عربی زبان وادب کی تحصیل کیلئے بیروت آئے اورمدرسہ حکمت میں داخل ہو گئے.1903ء میں امریکہ واپس ہوئے اور پانچ برس تک وہاں رہے، اس عرصہ میں آپ کا زیادہ ترقیا م بو سٹن میں رہا ۔ جہاں آپ نے کچھ کتابیں عربی زبان میں تالیف کیں۔ 1908ء میں مصوری اور دیگر فنون لطیفہ کی تکمیل ، نیز یورپ کے بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کے لئے پیرس کا سفر کیا ۔ تین سال پیرس میں رہ کر جامعہ فنون فرانسیسی سے امتیازی سندحاصل کی اورمجلس فنون فرانسیسی کا رُکن مقرر کیا گیا۔
1912ء میں پھر امریکہ گیا اور نیویارک میں مستقل اقامت اختیار کرلی۔ یہاں آپ نے عربی اور انگریزی میں بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جن کی وجہ سے آپ ساری دنیا کے اہل فن کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ ان کتابوں کے علاوہ کچھ غیر فانی مقالات ہیں، جو مختلف اوقات میں شائع ہو کر یورپ کی اکثرزبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ”الرسوم العشرون“ کے نام سے ہے جو اس کے سحر آفریں موقلم کی اشاراتی تصویروں کا نادرِ روز گار مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی تھی۔ جبران کی انگریزی تالیفات دنیا کی اکثر زندہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
مسرت کا مقام ہے کہ اردو بھی جبران خلیل جبران کے افکار سے ناآشنا نہیں ۔ سب سے پہلے قاضی عبدالغفار ، مصنف ”لیلیٰ کے خطوط“ نے آپ کے انگریزی شاہکار ”النبی“کا ترجمہ” اُس نے کہا“کے نام سے کیا۔ پھر اسی کتاب کا دوسرا ترجمہ ”مسائل ِحیات“ لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ابوالعلاچشتی نے ” الارواح المتمردہ“ کو” سرکش روحیں “کے نام سے براہِ راست عربی سے اردو میں منتقل کیا۔ سب سے آخر میں بشیر ہندی نے ”پاگل “ملک کے سامنے پیش کی ،جو” المجنون“کے غالباً انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔

ترس کھا ایسی ملت پر
ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی
ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے
ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے
ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں
ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے
( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔انیس سو تینتیس )
 
ترس کھا ایسی ملت پر
ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی
ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے
ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے
ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں
ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے
( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔انیس سو تینتیس )
یہ سب انہوں نے پاکستان کے لیے کہا تھا شاید:rolleyes:
 
کَھپے ایسی ملت پر
کَھپے ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو
کَھپے ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی
کَھپے ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے
کَھپے ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو
کَھپے ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو
کَھپے ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے
کَھپے ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں
کَھپے ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے

منجانب: حکومت کَھپے کَھپے کَھپے



(معذرت کے ساتھ، نو آفنسس)
 

نیلم

محفلین
کَھپے ایسی ملت پر
کَھپے ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو
کَھپے ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی
کَھپے ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے
کَھپے ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو
کَھپے ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو
کَھپے ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے
کَھپے ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں
کَھپے ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے

منجانب: حکومت کَھپے کَھپے کَھپے



(معذرت کے ساتھ، نو آفنسس)
:)
 

نیلم

محفلین
ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺧﻠﻮﺹ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﮯ ﺩﺭﯾﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ
ﭼﺸﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺧﻠﻮﺹ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ
ﻭﺳﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ____ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ...ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﯿﮯ,ﺍﺗﻨﺎ ﻗﺮﯾﺐ
ﮐﮧ ﺧﻠﻮﺹ ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻧﻈﺮ
ﺁﺳﮑﯿﮟ____ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻠﻮﺹ ﮨﻮ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﻠﻮﺹ ﻣﻠﮯ
ﮔﺎ_

_ﺧﻠﯿﻞ ﺟﺒﺮﺍﻥ
 
Top