اقتباسات خطبات حکیم الامّت (مولانا اشرف علی تھانویؒ )

یاسر شاہ

محفلین
مرچوں کا فساد

کم کھانے والا گناہوں سے بسہولت بچ سکتا ہے جیسے بڈھا زنا سے آسانی کے ساتھ بچ سکتا ہے - غور سے دیکھا جائے تو سب گناہ زیادہ کھانے ہی کی طرف لوٹتے ہیں -جیسے مولوی سالار بخش صاحب وعظ میں گناہوں کی فہرست گنوا کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ سب فساد مرچوں کا ہے -ان کے نزدیک سب گناہ مرچوں ہی کی وجہ سے ہوتے تھے ،لوگ تو اس کو ہنسی میں اڑاتے ہیں مگر میں نے اس کلام کی یہ تاویل کی ہے کہ مرچ سے کھانا لذیذ ہو جاتا ہے اور لذّت کی وجہ سے بہت کھایا جاتا ہے اور بہت کھانا گناہوں کا سبب ہے-اس طرح مرچوں کو اس فساد میں دخل ہو گیا -
خیر مرچوں کا فساد ہو یا نہ ہو لیکن یہ کلام محقق ہے کہ اکثر گناہ زیادہ کھانے سے ہوتےہیں -یہ ساری باتیں مستی ہی میں سوجھتی ہیں کہ کسی کو گھور لیا ،کسی کو چھیڑ دیا -کسی کے عاشق ہوگئے -بھوکے کو یہ مستیاں نہیں سوجھتیں -جس کے گھر میں سال بھر کا غلہ بھرا ہوا ہو وہ تو عورتوں ہی کو گھورے گا اور کیا کرے گا کیونکہ معاش کی طرف سے بے فکری ہے ،کام کچھ ہے نہیں تو اب انھی قصوں میں وقت گزارتے ہیں، ہاں اگر کبھی ان مستوں پر مقدّمات ہو جاتے ہیں ،اس وقت ساری مستی نکل جاتی ہے ،اب نہ کسی کو گھورنے کی مہلت ہے، نہ عشق ظاہر کرنے کی ہمت ہے -ہر وقت مقدّمے کی فکر لگی رہتی ہے اور اس فکر میں کھانا پینا اور سونا بھی حرام ہو جاتا ہے -

اسی لیے بزرگوں نے لکھا ہے کہ انسان کو بے کار نہ رہنا چاہیے -کسی نہ کسی کام میں لگا رہنا چاہیے ،دین کا کام نہ ہو سکے تو دنیا ہی کے کسی مباح کام میں لگا رہے کیونکہ مشغولی میں نفس کو مستی نہیں سوجھتی ،توجہ کام کی طرف رہتی ہے اور بے کاری میں چاروں طرف ذہن دوڑتا ہے ،اس راز کو حکّام نے بھی سمجھا ہے -چنانچہ جو لوگ معطل و بیکار رہتے ہیں ،پولیس زیادہ تر انھی کی نگہداشت میں رہتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کا نام آوارہ گردوں میں لکھا رہتا ہے اور جب کوئی واردات ہوتی ہے ایسے ہی لوگوں کو پکڑا جاتا ہے تو گویا حکّام کے نزدیک بھی بے کاری بدمعاشی کا سبب ہے -اور ظاہر بات ہے کہ جس شخص کو کوئی دھندہ ہوگا وہ فضول پھندوں میں کیا خاک پھنسے گا -اسے اپنے کام ہی سے فرصت نہ ہوگی -جس کو ہر روز گھاس کھودنے کی فکر ہے وہ عورتوں کو کہاں گھورنے جائے گا اور یہاں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے ساتھ کسی فکر کا لگا ہونا بڑی نعمت ہے -یہ بہت سے گناہوں کا وقایہ ہے خواہ دنیا ہی کا فکر ہو -پس غریبوں کو اس نعمت پر شکر کرنا چاہیے کہ حق تعالیٰ نے ان کو بے فکری نہیں دی -امیروں کو دیکھ دیکھ کر غریبوں کی رال ٹپکتی ہے کہ ہائے ہم بھی ایسے ہی بے فکر ہوتے مگر یہ خبر نہیں کہ وہ اس بے فکری سے سینکڑوں گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں -اور تم روٹی کی فکر میں ہزاروں گناہوں سے بچے ہوئے ہو -
خوب کہا ہے :
آنکس کہ تو نگرت نمی گرداند
او مصلحت تو از تو بہتر داند
(جو ذات پاک تجھے امیر نہیں بناتی وہ تیری مصلحت کو تجھ سے زیادہ بہتر جانتی ہے )

زیادہ کھانے میں علاوہ اس نقصان کے کہ وہ گناہوں کا سبب ہوتا ہے اور بھی بہت نقصان ہیں ،چنانچہ اگر کوئی شخص ہمت کر کے گناہوں سے بچا بھی رہے تو یہ نقصان تو اسے بھی ہوگا کہ نیند زیادہ آئے گی -کم کھانے میں نیند کم آتی ہے -پیٹ تن کر جب سوؤ گے تو نیند بھی تن کر آئے گی اور کچھ بھوک رکھ کر کھاؤ گے تو رات میں دو تین دفعہ خود بخود آنکھ کھل جائے گی کیونکہ نیند سے وہ تھوڑا بہت کھانا بھی جو کھایا تھا جلدی ہضم ہو جائے گا پھر جب پیٹ کمر سے لگ جائے گا تو ایک کروٹ پر لیٹا نہ جائے گا-بار بار کروٹیں بدلو گے اور کئی بار آنکھ کھل کھل جائے گی پھر چونکہ یہ مسلمان ہے ،اس لیے ذکر الله میں لگ جائے گا اور سوچے گا کہ یہ وقت اور کسی کام کا تو ہے نہیں اور صبح ہونے میں دیر ہے تو بیکار کیوں جاگیں لاؤ کچھ الله الله ہی کر لو تو کم کھانے والے کو طاعات کی توفیق زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ کھانے والا تو صبح کو بھی مشکل سے اٹھے گا ،اس لیے اس شخص کی طاعات بہت کم ہوں گی اور اگر بہت کھانے والا اتفاق سے کسی رات کو جاگ بھی گیا تو کھانے کا کسل ایسا ہوتا ہے کہ اس کو چار پائی سے اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی اور اگر اٹھ بھی گیا اور وضو کر کے نماز یا ذکر میں لگ گیا تو تھوڑی دیر میں نیند کے جھونکے ایسے آئیں گے کہ سجدہ میں پڑ کر خبر بھی نہ رہے گی یا گردن جھکا کر سوتا رہے گا -

شیخ سعدی نے لکھا ہے کہ ایک نصرانی بادشاہ نے حضور صلّی الله علیہ وسلّم کی خدمت میں ایک طبیب کو بھیجا تھا کہ یہ مدینہ والوں کا علاج کیا کرے گا ،آپ نے طبیب کو واپس کر دیا اور فرمایا کہ ہم لوگ بغیر بھوک کے کھاتے نہیں ہیں اور بھوک رکھ کر کھانا چھوڑ دیتے ہیں اس لیے ہم کو طبیب کی ضرورت نہیں -

واقعی اس دستور العمل پر عمل کر کے دیکھیے سب بیماریاں خود ہی بھاگ جائیں گی ،کبھی اتفاقی طور پر بیماری آ جائے تو اور بات ہے لیکن مجموعہ امراض تو نہ ہوگا مگر آج کل لوگوں کی عادت یہ ہے کہ بھوک لگنے کا کھانا کھانے میں انتظار نہیں کرتے بلکہ اکثر وقت آنے کی رعایت سے کھاتے ہیں کہ کھانا گرم گرم ہے دیر میں کھائیں گے تو ٹھنڈا ہو جائے گا لاؤ ابھی کھا لیں -جی ہاں اس وقت کھانا تو گرم ہے مگر کھانے والا سرد ہی ہو جائے گا کیونکہ بے بھوک کھانے سے حرارت غریزیہ منتفی ہو جاتی ہے معدہ میں تداخل ہو جاتا ہے پہلا کھانا ابھی ہضم نہیں ہوا تھا کہ دوسرا اور پہنچ گیا اب معدہ پریشان ہوتا ہے کہ کسے ہضم کروں
اور خصوصا یہ امراء کے مشیر اپنے پیٹ بھرنے کے لیے انھیں رائے دیتے ہیں کہ نہیں حضور کچھ تو کھا لیجیے ،فاقہ کرنا اچھا نہیں ،تھوڑا بہت کھا کر نمک سلیمانی استعمال کر لیجیے گا یا سوڈے کی بوتل پی لیجیے گا سب ہضم ہو جائے گا -اس پر چاروں طرف سے تائید ہوتی ہے -کثرت رائے کے بعد وہ کھانا آتا ہے -رئیس صاحب تو دو چار ہی لقمے کھاتے ہیں باقی سب ان مشیروں کے پیٹوں میں اترتا ہے پھر اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ رئیس صاحب کا معدہ بھاڑے کا ٹٹو ہو جاتا ہے کہ بدون نمک سلیمانی یا سوڈے کی بوتل کے کھانا ہضم ہی نہیں کر سکتا -بعضے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ سالن میں لیموں نچوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں حضور اب کھائیے ،دیکھیے کیسا مزہ آ گیا ہے -لیموں نچوڑنے سے رئیس صاحب کی بھی رال ٹپک پڑتی ہے اور وہ جوں توں کھا لیتے ہیں -

لیموں نچوڑنے پر مجھے ایک لیموں نچوڑ کی حکایت یاد آئی ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ سرائے میں بیٹھا رہتا تھا اور دو تین لیموں اپنے پاس رکھتا تھا جب کوئی ذی ثروت مسافر سرائے میں کھانا کھانے بیٹھتا یہ جا کر اس کے پیالے میں لیموں نچوڑ دیتا کہ دیکھیے حضور اس سے سالن کیسا مزہ دار ہو گیا ہے اس کے بعد یا تو وہی ان کو بلا لیتا یا یہ خود ہی کھانے لگتے ،لوگ مروت سے کچھ نہ کہتے اور یہ مفت سفت پیٹ بھر لیا کرتا تھا ،ایک مرتبہ کوئی مسافر دل جلا بھی آ ٹھہرا اس کے پیالے میں جو اس نے لیموں نچوڑا اور ساتھ کھانا شروع کیا تو اس نے زور سے ایک دھپ رسید کیا تو یہ لیموں نچوڑ کیا کہتا ہے کہ میرے ابّا جان بھی مجھے یوں ہی مار مار کر کھلایا کرتے تھے ،آپ نے وہ زمانہ یاد دلا دیا اور بے حیا پھر بھی کھانے سے نہ رکا ،مسافر بھی خاموش ہورہا کہ جب اس نے مجھے باپ بنا لیا تو اب کیا کہوں -واقعی یہ پیٹ بھی سب کچھ کرا دیتا ہے ،کھانے کے حریص کو نہ حیا رہے نہ شرم -


خطبات حکیم الامّت؛ جلد ٣٠ (خیر الاعمال) وعظ :تقلیل الطعام بصورة الصیام ،صفحہ ٨٥
 

یاسر شاہ

محفلین
توبہ

ہمارے اعمال تو ایسے ہیں کہ ہم کو ایک ٹکڑا روٹی کا اور ایک گھونٹ پانی کا بھی نہ ملنا چاہیے اور بعض حضرات ایسے ہیں کہ جب کوئی گناہ ہوتا ہے تو شیطان پر لعنت کرتے ہیں -یہ صحیح ہے کہ شیطان بہکاتا ہے -یاد رکھو کہ چوری جب ہوتی ہے گھر کے بھیدی کے بھید دینے سے ہوتی ہے ،اسی طرح گناہ جب ہوگا تو آپ کے اندرونی دشمن کی سازش سے ہوگا -وہ کون ہے ؟نفس -میں قسمیہ کہتا ہوں کہ نفس ہمارا صلاحیت پر آ جائے تو اگر ساری دنیا بھی شیاطین سے پر ہو جائے تو کچھ ضرر نہیں ،اصلی دشمن تو یہ ہر وقت ہم سے گناہ کراتا رہتا ہے ،اس لیے ہر وقت توبہ کرنا ضروری ہے -
حضور صلّی الله علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کون ہوگا جن کی شان ہے : "لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ"(تاکہ ﷲ تمہاری اگلی پچھلی تمام کوتاہیوں کو معاف کردے)اور جن کو خطاب ہے :"وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْم"(اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں) باوجود اس عظمت اور علو مرتبہ کے آپ فرماتے ہیں :وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَسْتَغْ۔فِرُ اللّٰہُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِیْ الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً۔(مسند احمد: ۸۴۷۴) یعنی الله کی قسم ، بیشک میں ایک دن میں ستر سے زیادہ دفعہ الله تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں-اور ہم باوجود سر تاپا گناہوں میں غرق ہونے کے دن بھر میں ایک مرتبہ بھی توبہ نہیں کرتے اور اس کا ایک عجیب حیلہ یہ نکال رکھا ہے کہ توبہ اس لیے نہیں کرتے کہ پھر گناہ ہو جائے گا -صاحبو ! یہ شیطان کی شراب ہے کہ اس کو پلا کر اس نے ہم کو غفلت میں ڈال دیا اور اس کو ایک خصلت حمیدہ اور پختگی سمجھتے ہیں کہ گویا ان کے دل میں توبہ کی بڑی عظمت ہے کہ توبہ کر کے پھر گناہ کو پسند نہیں کرتے ہیں اس لیے کہ الله تعالیٰ فرمائیں گے کہ میاں توبہ ہی کہاں کی تھی سو یہ امر توبہ سے بڑا مانع ہے -اکثر لوگ اسی میں مبتلا ہیں -
چنانچہ کہتے ہیں کہ ہم دنیادار آدمی ہیں ،ہماری توبہ ہی کیا ہے اگر توبہ کر لی تو وہ ٹوٹ جائے گی ،جواب اس کا یہ ہے ٹوٹ جائے گی پھر توبہ کر لیجیو ،اگر کوئی کہے کہ پھر توبہ سے کیا فائدہ ؟-فائدہ یہ ہے کہ جن گناہوں سے توبہ کرتے جاؤ گے وہ تو صاف ہوتے جائیں گے ،جرائم کے اندر زیادتی تو نہ ہوگی ،دو شخصوں کی اگر پچاس پچاس برس کی عمر ہو اور دونوں نے برابر گناہ کیے ہوں مگر فرق یہ ہو کہ ایک تو برابر توبہ کرتا رہا اور دوسرے نے توبہ نہیں کی تو دونوں کے مواخذے میں فرقِ عظیم ہوگا -یہ فرق تو آخرت کے اعتبار سے ہے -اور ایک فائدہ عاجلہ بھی ہے وہ یہ کہ بار بار توبہ کرنے میں الله تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ چند روز میں بتدریج وہ گناہ چھوٹ جاتا ہے -پس یہ توبہ کی کی برکت ہے کہ اس سے تائب آخرِ کار متقی پرہیز گار ہو جاتا ہے -غرض اگر گناہ اور توبہ دونوں کے سلسلے برابر جاری رہیں تب بھی ان شاء الله تعالیٰ گناہ کا سلسلہ مٹ جائے گا اور توبہ کا سلسلہ بمقتضائے سبقت رحمتی علی غضبی (میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی )غالب آجائے گا جیسے سلیٹ کی لکھائی ہے کہ پانی سے مٹ جاتی ہے ،اسی طرح گناہ بھی آبِ رحمت سے مٹ جائیں گے -

جلد ۲۹ اصلاح باطن -از خطبہ: خواص الخشیہ
 

سیما علی

لائبریرین
دو شخصوں کی اگر پچاس پچاس برس کی عمر ہو اور دونوں نے برابر گناہ کیے ہوں مگر فرق یہ ہو کہ ایک تو برابر توبہ کرتا رہا اور دوسرے نے توبہ نہیں کی تو دونوں کے مواخذے میں فرقِ عظیم ہوگا -یہ فرق تو آخرت کے اعتبار سے ہے -اور ایک فائدہ عاجلہ بھی ہے وہ یہ کہ بار بار توبہ کرنے میں الله تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ چند روز میں بتدریج وہ گناہ چھوٹ جاتا ہے -
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ
ترجمہ : بےشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بے شک اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ہلاکت خیز پتھریلی زمین پر پڑاؤ کرے اس کے ساتھ اس کی سُواری بھی ہو جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان لَدا ہوا ہو پھر وہ سر رکھ کر سو جائے ، جب بیدار ہو تو اس کی سُواری جا چکی ہو تو وہ اسے تلاش کرے یہاں تک کہ گرمی اور شدتِ پیاس یا جس وجہ سے اللہ چاہے پریشا ن ہو کرکہے کہ میں اسی جگہ لوٹ جاتا ہوں جہاں سو رہا تھا پھر سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں پھر وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لئے سو جائے پھر جب بیدار ہو تو اس کے پاس اس کی سُواری موجود ہو اور اس پر اس کا توشہ بھی موجود ہو تو اللہ مومن بندے کی توبہ پر اس شخص کے اپنی سواری کے لوٹنے پر خوش ہونے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (مشکاۃ المصابیح ، جز2 ، ص728 ، حدیث : 2358 بحوالہ مسلم ، ص1126 ، حدیث : 6955)
توبہ نہایت عظیم عبادت اور قربِ خداوندی کا اعلیٰ ذریعہ ہے اس لئے نفس و شیطان انسان سے اپنی دشمنی ثابت کرتے ہوئے اسے توبہ سے دور رکھتے ہیں اور بہت سے حیلے بہانوں اور وسوسوں سے اسے توبہ سے محروم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں لوگ توبہ میں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں توبہ میں تاخیر سے دور کردے ..آمین
اس عظیم عبادت کا مسلسل عادی بنادے ۔۔۔اور ہم اپنے دانستہ و نادابستہ گناہوں پر توبہ کرتے رہیں اور ہر دم بارگاہ الہی میں معافی کے طبگار رہیں۔۔۔
 

یاسر شاہ

محفلین
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ
ترجمہ : بےشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بے شک اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ہلاکت خیز پتھریلی زمین پر پڑاؤ کرے اس کے ساتھ اس کی سُواری بھی ہو جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان لَدا ہوا ہو پھر وہ سر رکھ کر سو جائے ، جب بیدار ہو تو اس کی سُواری جا چکی ہو تو وہ اسے تلاش کرے یہاں تک کہ گرمی اور شدتِ پیاس یا جس وجہ سے اللہ چاہے پریشا ن ہو کرکہے کہ میں اسی جگہ لوٹ جاتا ہوں جہاں سو رہا تھا پھر سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں پھر وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لئے سو جائے پھر جب بیدار ہو تو اس کے پاس اس کی سُواری موجود ہو اور اس پر اس کا توشہ بھی موجود ہو تو اللہ مومن بندے کی توبہ پر اس شخص کے اپنی سواری کے لوٹنے پر خوش ہونے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (مشکاۃ المصابیح ، جز2 ، ص728 ، حدیث : 2358 بحوالہ مسلم ، ص1126 ، حدیث : 6955)
توبہ نہایت عظیم عبادت اور قربِ خداوندی کا اعلیٰ ذریعہ ہے اس لئے نفس و شیطان انسان سے اپنی دشمنی ثابت کرتے ہوئے اسے توبہ سے دور رکھتے ہیں اور بہت سے حیلے بہانوں اور وسوسوں سے اسے توبہ سے محروم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں لوگ توبہ میں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں توبہ میں تاخیر سے دور کردے ..آمین
اس عظیم عبادت کا مسلسل عادی بنادے ۔۔۔اور ہم اپنے دانستہ و نادابستہ گناہوں پر توبہ کرتے رہیں اور ہر دم بارگاہ الہی میں معافی کے طبگار رہیں۔۔۔
جزاک اللہ خیر خالہ!
 

یاسر شاہ

محفلین
مزاجوں کا اختلاف

ہر شخص کا مزاج جدا ہے ،ہم کو تو کھانے کپڑے وغیرہ کی تکلیف ہی سے رنج ہوتا ہے اور کسی بات سے نہیں ہوتا اور حضور صلّی الله علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ آپ کو بجز رضائے محبوب کے اور کسی چیز کی پروا نہ تھی -اسی لیے آپ کو صرف ناراضیِ حق کے وہم سے رنج ہوتا تھا جس کا علاج یہی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے احسانات یاد دلا کر تسلی فرماتے ہیں کہ ہم ناراض نہیں ہیں ،ہم تو آپ پر ہمیشہ عنایات کرتے رہتے ہیں -بھلا جس کا ایسا مزاج ہو اس کے رنج کو کون سمجھ سکتا ہے اور کسی کی عقل میں یہ بات کیسے آ سکتی ہے کہ احسانات یاد دلانے سے بھی رنج دور ہوا کرتا ہے -

مزاج کے مختلف ہونے پر مجھے ایک حکایت یاد آئی -ایک بادشاہ نے امتحانِ مذاق کے لیے چار سمت کی چار عورتیں اپنے نکاح میں جمع کی تھیں -حسن میں تو سب بے نظیر تھیں کیونکہ بادشاہ کے لیے انتخاب کی گئی تھیں مگر فہم سب کا مختلف -ایک دن بادشاہ نے ان کی عقل وفہم کا امتحاں کرنا چاہا کہ دیکھوں عقل و فہم میں بھی سب برابر ہیں یا کم و بیش ہیں تو اس نے ختمِ شب پر سب سے دریافت کیا کہ اب کیا وقت ہے ،سب نے بالاتفاق کہا کہ اب صبح ہو گئی ہے -بادشاہ نے ہر ایک سے دلیل پوچھی کہ تم کو محل کے اندر بیٹھے بیٹھے صبح کا ہونا کیسے معلوم ہوا تو ہر ایک نے مختلف دلائل بیان کیے -ایک نے کہا کہ شمع کی روشنی دھیمی پڑ گئی ہے اور واقعی صبح کے وقت چراغ کی روشنی ویسی تیز نہیں رہا کرتی جیسی رات کو تیز ہوا کرتی ہے -دوسری نے کہا کہ میری نتھ کے موتی ٹھنڈے ہو گئے ،اس سے میں سمجھی کہ صبح ہو گئی کیونکہ صبح کی ہوا میں رات کی ہوا سے فرق ہوا کرتا ہے -صبح کی ہوا میں خنکی زیادہ ہوتی ہے تو اس عورت نے بہت ہی لطیف دلیل بیان کی -تیسری نے کہا پان کا مزہ بدل گیا ہے اس نے بھی بہت لطیف بات کہی -چوتھی نے صبح ہونے کی دلیل بیان کی مجھے پاخانہ آ رہا ہے -کیونکہ اکثر صبح ہوتے ہی پاخانہ آیا کرتا ہے -اس جواب سے بادشاہ کو معلوم ہوا کہ اس کی طبیعت نہایت گندی اور بھدی ہے -صاحبو ! یہی حال ہمارا ہے کہ ہماری تو روٹیوں میں فرق آ جاوے تب ہی یہ گمان ہوتا ہے کہ ہائے ہم قہر میں مبتلا ہوگئے اور روٹیاں ملتی رہیں گو مقہور ہی ہوں -پروا بھی نہیں ہوتی -

سو حضور صلّی الله علیہ وسلم کے مزاج کو اپنے مزاج پر قیاس نہ کرو -کاملین کا تو رضائے محبوب کی فکر میں یہ حال ہوتا ہے :

با سایہ ترا نمی پسندم
عشق است و ہزار بد گمانی

ان کو تو عشق و معرفت کی وجہ سے قدم قدم پر اس وہم سے رنج پہنچتا ہے کہ کہیں حق تعالیٰ ناراض نہ ہو گئے ہوں بس اس کے سوا اور کوئی چیز ان کے لیے رنج دہ نہیں -ان کا مذاق یہ ہوتا ہے :


با تو دوزخ جنّت است اے جاں فزا
بے تو جنّت دوزخ است اے دلربا

(ترجمہ:اے محبوب تیرے ساتھ دوزخ بھی جنت ہے اور بغیر تیرے جنت بھی دوزخ ہے )

اور یہ شاعرانہ مبالغہ نہیں بلکہ صحیح مضمون ہے -دیکھیے حدیث میں آیا ہے کہ انبیاء علیھم السلام اور بہت سے مسلمان دوزخ میں سے گنہگاروں کو نکالنے جائیں گے تو گو وہ اس وقت دوزخ میں ہوں گے مگر چونکہ معیتِ حق ساتھ ہوگی اس لیے ان کے حق میں وہ دوزخ بھی جنت ہی ہوگی -

با تو دوزخ جنّت است اے جاں فزا

اور ابلیس کو جب مردود کیا گیا ،جنّت اسی وقت اس کے حق میں دوزخ ہوگئی تھی گو مردودیت کے بعد کچھ دیر وہ جنت میں رہا بھی تھا مگر معیتِ حق سلب ہو جانے کے بعد اس کا کچھ دیر جنّت میں رہنا دوزخ میں رہنے کے مشابہ تھا -یہی ہے :

بے تو جنّت دوزخ است اے دلربا

خطبات حکیم الامّت جلد ٣٠ خیر الاعمال -صفحہ ٣٢٥
 

یاسر شاہ

محفلین
حضورﷺ کی شانِ محبوبیت

ایک حدیث کے بعض الفاظ سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے کہ قبر میں بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی زیارت ہو گی ،وہ الفاظ نکیرین (منکر نکیر )کے سوال میں یہ ہیں "من ھٰذا الرجل؟ "(یہ شخص کون ہے ؟) اس سے اس طرح سمجھا ہے کہ "ھٰذا" کی اصل اشارہ حسیہ ہے تو مشار الیہ محسوس ہونا چاہیے بس اسی بھروسے پر دن گزار رہے ہیں ان شاء الله مر ہی کر آپ کو دیکھ لیں گے -

اس پر مولانا محمد یعقوب صاحب کی ایک لطیف بات یاد آئی -مولانا نے فرمایا حق تو یہ تھا کہ ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کے سامنے مرتے ،قدموں میں جاں نثار کرتے اور آپ ہمارے جنازہ کی نماز پڑھتے مگر بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ نہیں ہوا تو اب یہ تو ہوگا کہ بجائے جنازہ پر تشریف لانے کے حضورﷺ قبر میں ہی تشریف لائیں گے -پھر یہ شعر پڑھا -

کششے کہ عشق دارد نگزاردت بدیساں
بجنازہ گر نیائی بمزار خواہی آمد

عشق کی کشش آپ کو آنے کے بغیر نہ چھوڑے گی ،اگر جنازہ پر نہ آئے تو مزار پر آئیں گے -


یہ کسی کی بڑی اچھی غزل ہے ،اس میں ایک اور شعر بھی ہے جو حضور صلی الله علیہ وسلم کے شایان شان ہے :

ہمہ آہوان صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

تمام جنگل کے ہرنوں نے اپنا سر ہتھیلی پر رکھ لیا اس امید میں کسی دن تو شکار کو آئے گا -

حدیث میں آتا ہے کہ حجتہ الوداع میں حضورﷺ نے سو اونٹ قربان کیے تھے جن میں سے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر فرمائے تھے اور یہاں سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ فقیر و مفلس نہ تھے جیسا کہ بعض جاہل واعظ بیان کیا کرتے ہیں -آپﷺ سخی تھے کہ سخاوت کی وجہ سے گھر میں کچھ رکھتے نہ تھے -مفلس نہ تھے ورنہ کہیں غریب و مفلس بھی سو اونٹ کی قربانی کیا کرتے ہیں -آپ ﷺکا فقر اضطراری نہ تھا، اختیاری تھا -اسخیا کو مفلس و غریب کون کہہ سکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے ہاتھ میں قوت کس درجہ تھی کہ تریسٹھ اونٹوں کی قربانی تنہا اپنے ہاتھ سے فرمائی -ہم سے تو ایک چڑیا بھی نہ کٹے -
کانپور میں ایک اونٹ کو تیرہ چودہ آدمیوں نے مل کر قربان کیا تھا پھر بھی دقت سے قابو میں آیا اور حضورﷺ نے لٹا کر ذبح نہ کیا تھا بلکہ ایک پیر کو تسمہ بندھوا کر کھڑا کر کے سب کو نحر کیا تھا -تو حدیث میں آتا ہے -"کلھن یزدلفن الیہ " کہ ذبح کے وقت ہر اونٹ آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر اپنی گردن کو آپ کے برچھے کی طرف بڑھاتا تھا کہ پہلے مجھے نحر فرمائیے -سبحان الله کیا شانِ محبوبیت تھی کہ جانور عاشق تھے اور آپ کے ہاتھ سے سب سے اول ذبح ہونا چاہتے تھے -بس اس وقت ان کی یہ حالت تھی -

ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ بر کف
بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

تمام جنگل کے ہرنوں نے اپنا سر ہتھیلی پر رکھ لیا اس امید میں کسی دن تو شکار کو آئے گا -

اور یہ حالت تھی :

سر بوقتِ ذبح اپنا اس کے زیر پائے ہے
کیا نصیب الله اکبر لوٹنے کی جائے ہے


خطبات حکیم الامت جلد :٥-خطبہ : نور النور صفحہ ١٨٥
 

سیما علی

لائبریرین
سو حضور صلّی الله علیہ وسلم کے مزاج کو اپنے مزاج پر قیاس نہ کرو -
بے شک ایسا ہی ہے ۔۔۔کجا کہ نعوذ باللہ یہ کہنا وہ ہمارے جیسے تھے ۔۔۔۔اللہ پاک ہدایت عطا فرمائیں ۔۔آمین ۔۔۔۔ہمارا مزاج تو آپ ﷺ کے غلاموں کی خاک پا سے بھی بتر ہے ۔۔۔۔
 

یاسر شاہ

محفلین
نعتوں میں شعرا کی بے ادبیاں

یہیں کا قصّہ ہے کہ ایک جگہ میلاد ہوا اور اس سے اگلے ہی دن وہیں ناچ ہوا -شادی تھی ایک صاحب کے یہاں جس میں ناچ کی دعوت بھی کی گئی تھی ،بعض ان کے دوستوں میں ثقہ بھی تھے انھوں نے انکار کیا بس ان کی ضرورت سے یہ محفل کی تھی مگر دوسرے ہی دن وہیں ناچ کی محفل کرا دی جو ان کا اصلی مقصود تھا -یہ حالت ہے اور بعض جگہ اگر کوئی ایسا امرِ منکر بھی نہیں ہوتا تو ،تب بھی سب سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ روایات میں اس قدر بے اعتدالی کرتے ہیں کہ جن کا سر نہ پاؤں -قصیدے اس قسم کے پڑھتے ہیں کہ الله تعالیٰ کی شان میں گستاخی ،خود رسولﷺ کی شان میں گستاخی ہو جاتی ہے -ایک قصیدے میں شاعر کہتا ہے :

طوافِ کعبہ مشتاقِ زیارت کو بہانہ ہے
کوئی ڈھب چاہیے آخر رقیبوں کی خوشامد کا

یعنی اصل زیارت مدینہ کی ہے ،حج مقصود نہیں ہے ،حج محض ایک مصلحت سے کرتے ہیں اور وہ مصلحت یہ ہے کہ الله میاں (نعوذ بالله )عاشق ہیں حضور ﷺ کے اور ہم بھی عاشق ،اس لیے حضورﷺ کی زیارت کو چلے ،اور محبوب کے دو عاشق آپس میں رقیب کہلاتے ہیں تو گویا الله میاں (نعوذ بالله ) ان کے رقیب ہوئے اور راستے میں گھر پڑتا ہے رقیب کا جو قادر ہے ،شاید جانے نہ دے اس لیے حج کر کے ان کی خوشامد کر لینی چاہیے -اس سبب سے پہلے طواف کعبہ کرتے ہیں کہ خوش رہیں اور کچھ کھنڈت نہ ڈال دیں (نعوذ بالله )

اور لیجیے :

پئے تسکینِ خاطر صورتِ پیراہنِ یوسف
محمد کو جو بھیجا حق نے سایہ رکھ لیا قد کا


یہ جو مشہور ہے کہ سایہ نہ تھا حضورﷺ کا تو یہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے گو وہ ضعیف ہیں مگر فضائل میں متمسک بہ ہوسکتی ہیں -سو شاعر صاحب اس کا نکتہ بیان کرتے ہیں کہ سایہ کیوں نہ تھا تو وہ نکتہ یہ ہوا کہ یعقوب علیہ السلام نے جس طرح یوسف علیہ السلام کو رخصت کرتے وقت یہ سوچ کر کہ یوسف علیہ السلام مجھ سے جدا ہوتے ہیں ،میرے دل کو تسلی کیسے ہوگی پیراہن رکھ لیا کہ اسی کو دیکھ لیا کروں گا -اسی طرح نعوذ بالله الله تعالیٰ نے حضرت رسول ﷺ خدا کو بھیجنا چاہا تو سوچ ہوئی کہ میں کاہے سے تسلّی حاصل کروں گا -اسی لیے سایہ کو رکھ لیا کہ اس سے تسلی تو ہو جایا کرے گی -

الہی توبہ ! الہی توبہ ! انصاف سے کہیے کہ ان مضامین کے بعد ایمان باقی رہ سکتا ہے ،اس شعر میں حق تعالیٰ کے لیے بے چینی ثابت کی ہے -پھر بصیر ہونے کا انکار کیا ہے ورنہ الله تعالیٰ جب بصیر و خبیر ہیں تو پھر کیا الله تعالیٰ کو نعوذ باللہ دکھائی نہیں دیتا تھا کہ خود حضور کو دیکھ لیا کرتے پھر سایہ رکھنے کی ضرورت نہ ہوتی -کیا ایسی محفل کرنے سے پکڑ دھکڑ نہ ہوگی -بانیِ مجلس پر مواخذہ نہ ہوگا -اگر دین ایسا ستا ہے کہ کہیں سے بھی نہیں جاتا تب تو خیر گستاخی بھی کوئی چیز نہیں مگر دین تو ایسا سستا نہیں ہے -کیا دین کے یہ معنی ہیں کہ سب کچھ کیے جاؤ اور وہ نہ جائے -

یہ تو الله میاں کی شان میں سوئے ادب تھا اب انبیاء علیہم السلام کی شان میں دیکھیے ،ایک شاعر صاحب کہتے ہیں :

بر آسمان چہارم مسیح بیمار است
تبسمِ تو برائے علاج در کار است
(حضرت مسیح موعود چوتھے آسماں پر بیمار ہیں اور آپ کی مسکراہٹ علاج کے لیے درکار ہے۔)

سچ بتلائیے کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیمار ہیں -حضورﷺ کے تبسّم سے وہ اچھے ہو جائیں گے اور حقیقت میں اسی میں حضورﷺ کو بھی ناراض کرنا ہے -یہ سمجھنا چاہیے کہ کیا حضورﷺ ایسی بات سے خوش ہوں گے جس میں دوسرے نبی کی توہین ہوتی ہو -

آپ سمجھیے کہ اگر آپ کا کوئی بھائی حقیقی ہو اور اس کے ایک بیٹا ہو اور وہ آپ کی شان میں گستاخی کرے ،تو کیا بھائی کو یہ بات پسند ہو گی -اسی طرح انبیاء آپس میں بھائی ہیں اور حضور پرنورﷺ سب میں بڑے ہیں اگر آپ نے کسی نبی کی توہین اور ان کی شان میں گستاخی کی تو کیا حضورﷺ اس سے خوش ہونگے -
ایک شاعر صاحب ہیں کہ انھوں نے نعت لکھنے کے لیے روشنائی تجویز کی ہے اور یعقوب علیہ السلام کی آنکھ کو اس روشنائی کے حل کرنے کے لیے کھرل قرار دیا ہے -وہ شعر اس وقت مجھ کو یاد نہیں رہا -سچ بتلائیے ایمان سے اگر ہم انبیاء علیہم السلام کو کسی موقع پر مجتمع پائیں اور وہاں حضور ﷺ بھی تشریف فرما ہوں تو کیا اس مجمع میں ہم ان اشعار کو تکرار کر سکتے ہیں -کیا یعقوب علیہ السلام کی آنکھ میں روشنائی پیس سکتے ہیں یا ان کے منھ پر ایسی بات کہہ سکتے ہیں -جو بات منھ پر کہنا بے ادبی قرار دی جائے ،کیا پیچھے کہنا گستاخی نہ ہوگی -

سو آدمی پیچھے وہ معاملہ کرے جو سامنے کر سکتا ہو -پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پیچھے کیوں ایسا معاملہ کیا جاتا ہے جو سامنے نہیں کر سکتے -کسی نے خوب رد کیا ہے اس شعر کا (جس میں دیدۂ یعقوب کو کھرل بنایا تھا ) وہ یہ ہے -

ابھی اس آنکھ کو ڈالے کوئی پتھر سے کچل
نظر آتا ہے جسے دیدۂ یعقوب کھرل
توبہ ہے یوں ہو کہیں چشمِ نبی مستعمل
کوئی تشبیہ نہ تھی اور نصیبِ اجہل

انبیاء کی شان میں تو ایسے اشعار بطور نقل بھی کہتے ہوئے پریشانی ہوتی ہے -


خطبات حکیم الامّت جلد ٥ :میلاد النبی: صفحہ :٣٢٨
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
سر بوقتِ ذبح اپنا اس کے زیر پائے ہے
کیا نصیب الله اکبر لوٹنے کی جائے ہے
بعد رب کے معتبر ہے سب سے قال مصطفیٰﷺ
اس سے ظاہر صاف ہے بے شک کمال مصطفیٰﷺ

سن کے مل جاتی ہے قلب و روح کو تابندگی
جب بیاں کرتا ہے کوئی شخص حالِ مصطفیٰﷺ
 

سیما علی

لائبریرین
شیخ سعدی نے لکھا ہے کہ ایک نصرانی بادشاہ نے حضور صلّی الله علیہ وسلّم کی خدمت میں ایک طبیب کو بھیجا تھا کہ یہ مدینہ والوں کا علاج کیا کرے گا ،آپ نے طبیب کو واپس کر دیا اور فرمایا کہ ہم لوگ بغیر بھوک کے کھاتے نہیں ہیں اور بھوک رکھ کر کھانا چھوڑ دیتے ہیں اس لیے ہم کو طبیب کی ضرورت نہیں -
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:کھانے سے پہلے بھوک لگی ہوناضَروری ہے،جو کوئی کھانا شروع کرتے وقت بھی بھوکا ہو اور ابھی بھوک باقی ہو اور ہاتھ کھینچ لے وہ ہرگز طبیب کا مُحتاج نہ ہو گا۔(اِحْیاء ُ الْعُلوم،۲/۵)٭
 

یاسر شاہ

محفلین
عملی کوتاہی

ہماری کوتاہی یہ ہے کہ آخرت کے لیے کوشش نہیں کرتے بس بڑی کوشش یہ ہوگی کہ بیٹھ کر دو آنسو بہا لیے -گویا اللّہ میاں کی نہر میں پانی کم ہوگیا تھا -دو آنسو بہا کر الله میاں پر احسان کیا -بس ان کے نزدیک دو آنسو بہانے سے سارے گناہ ان کے واسطے جائز ہو گئے -یہ سب کا کفارہ ہوگیا -بات یہ ہے کہ آنسو بہانے میں کوئی دقت نہیں ،کچھ کرنا نہیں پڑتا ،اس لیے رونا اختیار کر لیا -جیسے ایک بدوی کے ساتھ سفر میں ایک کتا تھا -وہ راستے میں مرنے لگا اور بدوی رونے لگا -ایک مسافر نے رونے کا سبب پوچھا -کہا یہ کتا میرا رفیق ہے اور آج مر رہا ہے -اس واسطے رو رہا ہوں -کہا اس کو مرض کیا ہے ؟کہا بھوک سے مر رہا ہے ، مسافر نے دیکھا کہ ایک طرف پوٹلا بندھا رکھا ہے -پوچھا اس میں کیا ہے ؟کہا،روٹی کے سوکھے ٹکڑے ہیں ،کہا، پھر کتے کو کیوں نہ کھلا دیے جس سے تجھ کو اس قدر محبّت ہے -کہنے لگا مجھے ایسی محبّت نہیں کہ رقم کی چیز اس کو کھلا دوں اور رونے کا کیا مفت کے آنسو ہیں ،دو گھڑی بہا لوں گا -

یہی حال ہمارا ہے کہ ایسے مواقع پر ہم نے صرف رونا سیکھا ہے جس میں کچھ خرچ نہیں -صاحبو !بقسم بتاؤ کہ جتنی کوشش تم بھوک کے وقت غلہ لانے اور آٹا پسوانے، روٹی پکوانے میں کرتے ہو کیا آخرت کے واسطے بھی کبھی اتنی کوشش کی ہے ،ہرگز نہیں اور اگر کوئی نصیحت کرتا ہے تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ الله تعالیٰ توفیق دیں گے تو آخرت کا سامان کریں گے -گویا اس میں بھی نعوذ باللہ الله تعالیٰ کی خطا ہے ،ان کی کچھ خطا نہیں ہے -کبھی کہتے ہیں کہ ہماری تو قسمت پھوٹی ہوئی ہے -ہمیں دنیا کے دھندوں سے کہاں فرصت ہے ،اس میں بھی الله تعالیٰ ہی کی خطا بتائی جاتی ہے -انا للّہ و انا الیہ راجعون -یہ کیا دین ہے ! اور جو بڑا خیال آخرت کا ہوا تو بزرگوں سے دعا کرنے کی درخواست کی جاتی ہے -

جیسے ہمارے حضرت حاجی صاحب سے ایک سوداگر نے بمبئی میں کہا تھا کہ حضرت دعا فرمائیے مجھے بھی حج کی توفیق ہو جائے -فرمایا ،ہاں ہم دعا کریں گے اور ایک کام تم کرو کہ جہاز کی روانگی کے دن مجھے اپنی ذات پر پورا اختیار دے دو کہ جو میں کہوں اس کے خلاف نہ کرو ،کہا ،حضرت اختیار لے کر کیا کریں گے -فرمایا ،جس وقت جہاز روانہ ہوگا تم کو پکڑ کر جہاز میں سوار کر دوں گا -وہ حیلے حوالے کرنے لگا تو حضرت نے فرمایا ،پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ تم بیوی کی بغل میں رہو اور رات دن گلچھڑے اڑاؤ اور ہم دعا کے ہو رہیں -

یہی حال ہمارا ہے کہ خود کچھ نہ کریں گے ہاں ناصحین سے کہیں گے کہ آپ دعا کریں -خصوصاً ان بوڑھی عورتوں کا تو یہ حال ہے کہ دین کا کوئی کام ہو تو سب سے کم ہمت اور دنیا کا کام ہو تو یہ شیطان کی خالہ سب سے پہلے اس کام کو کریں گی -اس میں سب سے زیادہ با ہمت ہو جائیں گی -الله میاں کا دھیان بھی نہیں آتا -ہاں بہو بیٹیوں کے لیے زیور کپڑے کا رات دن تقاضا ہے -ہم تو ان کو کم ہمت اس وقت سمجھتے کہ یہ دنیا کے کاموں میں بھی کم ہمت ہوتیں -حالانکہ خود دنیا کی یہ حالت ہے کہ کوشش سے کبھی تو حاصل ہوتی ہے اور کبھی کوشش ناکام ہو جاتی ہے -اور آخرت کے لیے سعی کسی حال میں ناکام نہیں -اگر کوئی شخص کسی عمل آخرت کا اہتمام کرے اور وہ حاصل بھی نہ ہو یا پورا نہ ہو جب بھی اس کا ثواب ملتا ہے -

صاحبو !اگر وصول الیٰ کمال العمل نہ ہو تو ثواب و قرب تو وصول الیٰ المقصود ہو جائے گا -اگر تم نے قرآن صحیح کرنے کی کوشش کی اور نہ ہوا تو کیا حرج ہے خدا تو راضی ہوگیا -ہمارے ایک مجمع نے ایک موقعہ پر ایک دینی کام کے لیے کوشش کی تھی اور ناکام رہے تو ایک بد دین نے اعتراض کیا کہ ان لوگوں کو کیا حاصل ہوا -ایک الله کے بندے نے جھلا کر جواب دیا :

سوؔدا قمارِ عشق میں شیریں سے کوہکن
بازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا
کس منھ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا


خطبات حکیم الامت جلد ١ :دنیا و آخرت صفحہ ١٧٧
 

یاسر شاہ

محفلین
اخلاق کے متعلق غلط فہمی

بہت لوگوں کو اس کا پتا نہیں کہ اخلاق دینی مصلحت سے ضروری ہیں یا دنیوی مصلحت سے -بس جیسا رواج ہوگیا اسی کو اخلاق سمجھ لیا اور اس میں اپنی رائے کو مختار سمجھتے ہیں -چنانچہ آجکل کے رواج کے مطابق اخلاق کا خلاصہ یہ ہے کہ ذرا نرمی سے بولنا ،جھک کر سلام کر لینا ،عطر پان حقہ پیش کر دینا ،اچھی جگہ بٹھانا وغیرہ -سبحان الله کیا خلاصہ نکالا ہے اخلاق کا ،جیسے ایک گاڑی بان نے اپنا قصہ مجھ سے بیان کیا کہ وہ بچپن میں مکتب میں کریما پڑھتا تھا ،اس کا یہ سبق تھا"در صفتِ تواضع "-استاد نے سبق خوب سمجھا دیا ،اگلے دن سبق سننے بیٹھے تو پوچھا تواضع کسے کہتے ہیں -اس نے کہا یہی حقہ بھر دینا ،پان کھلا دینا وغیرہ یہ سن کر استاد نے قمچی تواضع کرنا شروع کردی ،یہ بھاگا اور پھر مکتب نہیں گیا اور گاڑی چلانے لگا -ایک مرتبہ ان ہی کے صاحب نے پوچھا ارے تواضع بھی یاد ہے ،کہنے لگا مولوی صاحب خوب یاد ہے -اسی تواضع کی بدولت مجھ کو گاڑی کے جوے پر بیٹھنا پڑا مگر اتفاقاً اس کو تو بے سمجھے ہی تواضع نصیب ہو گئی -گاڑی ہانکنا بھی تواضع کی ایک فرد تو ضرور ہے -

اسی طرح ایک درزی نے ایک فارسی شعر کے عجیب معنی گھڑے تھے -اس نے شادی کی تھی ،اس کی بیوی بھی گو درزن ہی تھی مگر کچھ فارسی اردو پڑھی ہوئی تھی -جب رخصت ہو کر آئی اور تکلف رخصت ہوا اور دونوں میں بے تکلفی ہو گئی تو بیوی نے میاں سے پوچھا کہ کچھ فارسی بھی پڑھے ہو ،اس نے کچھ پڑھا تو تھا نہیں مگر اس خیال سے کہ بیوی کے دل میں انکار سے وقعت نہ ہوگی کہہ دیا کہ ہاں پڑھی ہے -اس نے کہا اچھا بتاؤ اس شعر کے معنی کیا ہیں :

الا یا ایہاالساقی ادر کاساً و ناولہا ---------------- کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکل ہا

اس نے کہا بی ! اس کے یہ معنی ہیں کہ تم میرے پاس رہو گی نہیں -واقعی کہا تو ٹھیک کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آسان سمجھ کر اگرچہ نکاح تو کر لیا مگر نباہ کیسے ہوگا ،یہ سخت مشکل ہے -شعر سے بھی اتفاقاً یہ مطلب کچھ کچھ سمجھا جاتا ہے گو اس نے یہ سمجھ کر جواب نہ دیا تھا تو جیسے تواضع کے معنی گاڑی بان نے سمجھے اور اس شعر کے معنی درزی نے سمجھے ویسے ہی آجکل لوگوں نے اخلاق کو سمجھ رکھا ہے کہ نرم اور شیریں الفاظ سے بول لو خواہ دل میں کینہ بھرا ہو ،حسد ہو ،تفاخر ہو ،ایذا رسانی کی پروا نہ ہو ،یہ کچھ خلاف اخلاق نہیں بس نرمی سے بولو اور جھک کر سلام کر لو ،خواہ یہ سب باتیں پالیسی ہی سے ہوں مگر اس کی وہی مثال ہوگی :


از بروں چوں گورِ کافر پر حلل
و اندروں قہرِ خدائے عز و جل

(باہر سے تو تم کافر کی قبر کی طرح آراستہ و پیراستہ ہو اور اندر خدائے عز و جل کا قہر و غضب نازل ہے )

از بروں طعنہ زنی بر بایزیدؒ
و از درونت ننگ میدارد یزید

(بظاہر تو تم بایزید بسطامیؒ پر طعنہ زن ہو اور تمھاری اندر کی حالت یہ ہے کہ جسے یزید دیکھ لے تو شرما جائے )


یہ حالت ہے ہمارے اخلاق کی -ہمارےحضرت استادؒ نے تواضع کی یہ تعریف کی ہے کہ دل میں اپنے کو پست سمجھے اور یہ بھی فرمایا کہ اکثر جو لوگ تواضع کرتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ شرعاً یہ پستی مطلوب ہے بلکہ اس لیے کہ وہ عرفاً محمود ہے ،لوگوں میں اس سے وقعت ہوتی ہے تو واقع میں یہ تواضع کبر ہے کیونکہ اس نے بڑا بننے کے واسطے تواضع کو اختیار کیا ہے -


خطبات حکیم الامت جلد ٢٧:فضائل علم صفحہ :٢٣٩
 

یاسر شاہ

محفلین
سیرت کے آئینے میں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ جب آپ کے ساتھ راستے میں کچھ صحابہ ہو جاتے تو آپ بعض کو آگے کر دیتے اور بعض کو پیچھے ، آپ سب کے آگے نہ چلتے تھے- اسی طرح مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جگہ پاتے وہیں بیٹھ جاتے- آپ کی نشست کے لیے کوئی ممتاز جگہ نہ تھی حتی کہ باہر سے آنے والوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مجمع میں کون سے ہیں جب تک کہ وہ خود یہ سوال نہ کرتا "من محمد فیکم ؟ "کہ تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کون سے ہیں؟- صحابہ اس کے جواب میں فرماتے "ھٰذا الابیض المتکئی" یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہیں گورے چٹے جو سہارا لگائے بیٹھے ہیں -
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچے تو مدینہ والے شہر سے باہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے حاضر ہوئے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور حضرت ابوبکر کی عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دو اڑھائی برس ہی کم تھی مگر ان کے قویٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نہ تھے اسی لیے وہ باوجود چھوٹے ہونے کے دیکھنے میں بڑے معلوم ہوتے تھے کیونکہ ان کے بال زیادہ سفید ہو گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قویٰ نہایت اچھے تھے اس وقت آپ کا ایک بال بھی غالبا سفید نہ ہوگا کیونکہ وصال کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند گنتی کے بال سفید تھے اور ہجرت کا واقعہ وصال سے دس برس پہلے کا ہے تو اس وقت ایک بال بھی شاید آپ کا سفید نہ ہوگا اس لیے اکثر لوگ حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے پس سب لوگ حضرت ابوبکر سے آکر مصافحہ کرتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مصافحہ نہ کرتا مگر اللہ رے تواضع کہ نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے خود یہ فرمایا کہ مجھ سے مصافحہ کرو میں محمد رسول اللہ ہوں اور حضرت ابوبکر کی سادگی کہ انھوں نے مصافحہ سے انکار نہ کیا جو کوئی ان سے مصافحہ کرتا بے تکلف ہاتھ بڑھا دیتے انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راحت کا خیال کیا ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی بھی تکلیف کیوں دیں الغرض دیر تک لوگ حضرت ابوبکر ہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے رہے تھوڑی دیر میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ آنے لگی اس وقت صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنے چادرہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کرنے لگے جب سب کو معلوم ہوا کہ یہ خادم ہے جن سے ہم نے مصافحہ کیا تھا اور دوسرے مخدوم ہیں -بھلا کچھ حد ہے اس تواضع اور سادگی کی-


مگر اج کل تو لوگ خود بڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کوئی کوشش بھی نہ کرے تو عوام کے مصافحہ اور ہاتھ پیر چومنے سے اس کو شبہ ہوتا ہے کہ میں ضرور کچھ ہوں جبھی تو یہ لوگ میری اس قدر تعظیم کرتے ہیں عجیب بات ہے کہ انسان کو اپنے عیوب و حالات خوب معلوم ہوتے ہیں جن کو دوسرے نہیں جانتے تو گویا دوسرے لوگ اس کے عیوب سے جاہل ہیں مگر یہ شخص ان جاہلوں کی تعظیم و تکریم سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں واقع میں اس قابل ہوں اور جو عیوب اسے یقینا اپنے اندر معلوم ہوتے ہیں، ان سے قطع نظر کر لیتا ہے بلکہ ان کو بھول جاتا ہے جیسے حکایت ہے کہ ایک نائن نے ایک بی بی کو نتھ اتار کر منہ دھوتے دیکھا- نتھ اتارنے سے سمجھی کہ بیوہ ہو گئی -دوڑی ہوئی اپنے شوہر کے پاس آئی کہ کیا بیٹھا ہے، فلانے کے پاس جا یعنی اس بی بی کے شوہر کے پاس دوڑ اور خبر کر کے تمھاری بیوی بیوہ ہو گئی بس یہ خبر سن کر شوہر نے رونا پیٹنا شروع کر دیا- ایک دوست ان سے ملنے آئے پوچھا خیر تو ہے یہ رونا پیٹنا کیوں ہو رہا ہے ؟،کہنے لگے کہ میری بیوی بیوہ ہو گئی ہے- اس نے کہا خدا کے بندے حواس سے کام لے، جب تو زندہ سلامت موجود ہے تو بیوی کیوں کر بیوہ ہو گئی تو آپ جواب میں کہتے ہیں کہ یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں مگر گھر سے آیا ہے معتبر نائی بس یہ حالت آج کل اکثر لوگوں کی ہو رہی ہے کہ وہ اپنے عیوب کو اچھی طرح جانتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں کہ ہم کسی قابل نہیں ہیں مگر لوگوں کی تعظیم و تکریم سے خیال کرتے ہیں کہ معتبر لوگ میرے معتقد ہیں ،شاید ان لوگوں کو میری حالت مجھ سے زیادہ معلوم ہو اور میرے اندر وہ عیوب بھی شاید نہ ہوں جو مجھ کو معلوم ہوتے ہیں بس وہی قصہ ہو رہا ہے کہ گھر سے آیا ہے معتبر نائی-

ایک میاں جی لڑکوں کو پڑھایا کرتے تھے ایک دن لڑکوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ آج کسی طرح چھٹی لینی چاہیے- سب کے اتفاق سے یہ بات قرار پائی کہ جب میاں جی آئیں تو ایک لڑکا غمگین صورت بنا کر ان سے یہ کہے کہ حضور خیر تو ہے آج آپ کا چہرہ کچھ اترا ہوا ہے پھر سب لڑکے ایک ایک کر کے یہی کہیں گے چنانچہ میاں جی آئے اور ایک لڑکا منہ بنا کر ان کے پاس گیا اور کہا حضور مزاج کیسا ہے ؟،خیر تو ہے؟، کچھ چہرہ اترا اترا معلوم ہوتا ہے- میاں جی نے اس کو ڈانٹ دیا کہ جا بیٹھ کام کر ،میں تو اچھا خاصا ہوں ابھی ابھی پیٹ بھر کے کھانا کھا کر آیا ہوں ،وہ تو بیٹھ گیا ،دوسرا پہنچا- میاں جی نے اسے بھی دھتکار دیا، تیسرا پہنچا میاں جی کو وہم ہونا شروع ہوا ،اسے بھی ٹال دیا مگر نرمی سے ،اب وہ تیزی نہ رہی تھی- چوتھا پہنچا اب تو میاں جی کو بھی شبہ ہو گیا کہ واقعی میرا چہرہ اتر رہا ہوگا جبھی تو یہ سب کے سب مزاج پرسی کر رہے ہیں اس کے بعد ایک اور آیا بس اب تو ان کو خاصا بخار ہو گیا اور کپڑا اوڑھ کر گھر چل دیے اور مکتب بند کر دیا لڑکوں کو چھٹی مل گئی اب ملا جی گھر میں پہنچے آہ آہ کرتے ہوئے -بیوی نے کہا کہ کیا ہوا، ابھی تو یہاں سے اچھے خاصے گئے تھے -ملا جی ڈنڈا لے کر اس کے سر ہو گئے کہ تو تو یہی چاہتی ہے کہ میں مر جاؤں اور تو دوسرا نکاح کرے ،یوں کہہ رہی ہے کہ تم تو تب ہی اچھے خاصے گئے تھے ،میں اچھا خاصا گیا تھا؟- اسی وقت میرا چہرہ اترا ہوا تھا لڑکوں کو معلوم ہو گیا اور تجھے نہ معلوم ہوا کہ میں بیمار ہوں غرض اس قصہ میں آس پاس کے بھی آگئے اور پوچھنے لگے کہ ملا جی کیوں غصہ ہو رہے ہو؟، ملا جی نے بیوی کی شکایت کی، جب ایک شخص نے کہا کہ میاں جی تمھاری عقل کہاں ہے، یہ تو لڑکوں کی ایک شرارت تھی وہ تم سے چھٹی لینا چاہتے تھے اور وہ ابھی راستے میں کہتے جا رہے تھے کہ آج ہم نے خوب چھٹی لی، تم بے وقوف تھے ان کے بہکانے میں آگئے -تب ذرا ملا جی کے حواس درست ہوئے- صاحبو! اس حکایت میں تو ہر شخص اس ملا کو بیوقوف بتانے کو تیار ہوگا مگر اس کی خبر نہیں کہ اس بے وقوفی میں ہم سب مبتلا ہیں کہ جہاں چار آدمیوں نے ہمارے ہاتھ پیر چومنے شروع کیے اور ہم کو سچ مچ اپنی بزرگی کا وہم ہونے لگا-


خطبات حکیم الامّت جلد ٢ -(علم و عمل) صفحہ ١٦٨
 
Top