جنہیں نہ ڈوبنا ہو وہ کنارا ڈھونڈ لیتے ہیں غزل نمبر 19 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
محترم اساتذہ کرام جناب الف عین،
سید عاطف علی
محمد احسن سمیع: راحل​
جنہیں نہ ڈوبنا ہو وہ کنارا ڈھونڈ لیتے ہیں
جو ہیں منزل کے متلاشی ستارا ڈھونڈ لیتے ہیں

جہاں میں راز کی باتیں چھپی رہ جائے ناممکن
یہاں جو عقل رکھتے ہیں اشارا ڈھونڈ لیتے ہیں

سنو مایوس ہونا بھی کفر ہے اور حماقت ہے
جنہیں جینے کی چاہت ہو سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں

کبھی تم ہار نہ مانو بہادر لوگ منزل کو
اگر اک بار کھو جائے دوبارا ڈھونڈ لیتے ہیں

ہمیں ان کی چھپائی شے ذرا ملتی نہیں اور وہ
بڑے چالاک ہیں سارے کا سارا ڈھونڈ لیتے ہیں

ہمیں قسمت کے خطروں سےڈرانا مت کبھی کہ ہم
نجومی لوگ ہیں قسمت کا تارا ڈھونڈ لیتے ہیں

دلوں کا روح کا رشتہ فنا ہوتا نہیں اے دل
جو سچا پیار کرتے ہیں وہ پیارا ڈھونڈ لیتے ہیں

کبھی غم بوجھ ہو دل پر تو بہلے جس سے دل ایسا
یہی زندہ دلی ہے وہ نظارا ڈھونڈ لیتے ہیں

جنہیں ملتا نہیں شارؔق دیا کوئی جلانے کو
جلانے کے لئے وہ دل ہمارا ڈھونڈ لیتے ہیں​
 
جنہیں نہ ڈوبنا ہو وہ کنارا ڈھونڈ لیتے ہیں
جو ہیں منزل کے متلاشی ستارا ڈھونڈ لیتے ہیں
نہ کو دوحرفی (یعنی لمبی آواز، نا) باندھنا اچھا نہیں ہوتا.
دوسرے مصرعے میں "جو ہیں" کے بجائے "جو ہوں" کر دیں.
متلاشی کا تلفظ ٹھیک ہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مصرعہ ناقص الوزن ہو رہا ہے. متلاشی میں ت ساکن نہیں، مفتوح ہوتی ہے.

جہاں میں راز کی باتیں چھپی رہ جائے ناممکن
یہاں جو عقل رکھتے ہیں اشارا ڈھونڈ لیتے ہیں
باتیں کیونکہ جمع ہے، تو اس کے ساتھ رہ جائے نہیں، رہ جائیں کہا جائے گا.
اس کے علاوہ، ستارہ، اشارہ وغیرہ کا املا تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں. ان کو ہائے خفی کے ساتھ ہی لکھیں.

سنو مایوس ہونا بھی کفر ہے اور حماقت ہے
جنہیں جینے کی چاہت ہو سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں
کون سنے؟ شعر میں مخاطب کا تذکرہ ہے نہ اس کی جانب کوئی اشارہ سو ایسے میں یہ "سنو" بھرتی کا لفط کہلائے گا.
کفر کا تلفظ غلط کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے.

ہمیں ان کی چھپائی شے ذرا ملتی نہیں اور وہ
بڑے چالاک ہیں سارے کا سارا ڈھونڈ لیتے ہی
بھرتی کا شعر ہے.

؛
ہمیں قسمت کے خطروں سےڈرانا مت کبھی کہ ہم
نجومی لوگ ہیں قسمت کا تارا ڈھونڈ لیتے ہیں
"کہ" کو آپ نے دوحرفی باندھا ہے، جو کہ غلط ہے.
"نجومی لوگ" کیا ہوتا ہے؟؟؟ صرف نجومی کہیں، بلاوجہ لوگ کیوں بھرتی کر رہے ہیں.

دلوں کا روح کا رشتہ فنا ہوتا نہیں اے دل
جو سچا پیار کرتے ہیں وہ پیارا ڈھونڈ لیتے ہیں
پہلے مصرعے میں اے دل کے بجائے ہمدم بھی تو کہا جا سکتا ہے... بلکہ کہنا چاہیے کیونکہ خود دل کو دل کے رشتے کے بارے میں سمجھانے کی کیا معنویت ہوئی؟
پیارا ملے گا تو سچا پیار کیا جائے گا نا! بغیر پیارا ڈھونڈے محض ہوا میں سچا پیار تو نہیں کیا جاسکتا. آپ کے مصرعے میں ترتیب ہی الٹی ہے.

کبھی غم بوجھ ہو دل پر تو بہلے جس سے دل ایسا
یہی زندہ دلی ہے وہ نظارا ڈھونڈ لیتے ہیں
انتہائی گنجلگ بنت ہے دونوں مصرعوں کی. بلا کی تعقید ہے.
کون ڈھونڈ لیتے ہیں؟ فاعل کا تذکرہ ہے نہ اشارہ

جنہیں ملتا نہیں شارؔق دیا کوئی جلانے کو
جلانے کے لئے وہ دل ہمارا ڈھونڈ لیتے ہیں
درست ... البتہ پہلے مصرعے میں جنہیں کے بجائے اُنہیں کردیں تو زیادہ بہتر رہے گا.
 

امین شارق

محفلین
نہ کو دوحرفی (یعنی لمبی آواز، نا) باندھنا اچھا نہیں ہوتا.
دوسرے مصرعے میں "جو ہیں" کے بجائے "جو ہوں" کر دیں.
متلاشی کا تلفظ ٹھیک ہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مصرعہ ناقص الوزن ہو رہا ہے. متلاشی میں ت ساکن نہیں، مفتوح ہوتی ہے.


باتیں کیونکہ جمع ہے، تو اس کے ساتھ رہ جائے نہیں، رہ جائیں کہا جائے گا.
اس کے علاوہ، ستارہ، اشارہ وغیرہ کا املا تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں. ان کو ہائے خفی کے ساتھ ہی لکھیں.


کون سنے؟ شعر میں مخاطب کا تذکرہ ہے نہ اس کی جانب کوئی اشارہ سو ایسے میں یہ "سنو" بھرتی کا لفط کہلائے گا.
کفر کا تلفظ غلط کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے.


بھرتی کا شعر ہے.

؛

"کہ" کو آپ نے دوحرفی باندھا ہے، جو کہ غلط ہے.
"نجومی لوگ" کیا ہوتا ہے؟؟؟ صرف نجومی کہیں، بلاوجہ لوگ کیوں بھرتی کر رہے ہیں.


پہلے مصرعے میں اے دل کے بجائے ہمدم بھی تو کہا جا سکتا ہے... بلکہ کہنا چاہیے کیونکہ خود دل کو دل کے رشتے کے بارے میں سمجھانے کی کیا معنویت ہوئی؟
پیارا ملے گا تو سچا پیار کیا جائے گا نا! بغیر پیارا ڈھونڈے محض ہوا میں سچا پیار تو نہیں کیا جاسکتا. آپ کے مصرعے میں ترتیب ہی الٹی ہے.


انتہائی گنجلگ بنت ہے دونوں مصرعوں کی. بلا کی تعقید ہے.
کون ڈھونڈ لیتے ہیں؟ فاعل کا تذکرہ ہے نہ اشارہ


درست ... البتہ پہلے مصرعے میں جنہیں کے بجائے اُنہیں کردیں تو زیادہ بہتر رہے گا.
بہت شکریہ راحل بھائی حوصلہ افزائی کے لئے آپ نے جن غلطیوں کی نشاندہی کی ہے وہ میں نے نوٹ کرلی ہے
 
Top