تختی مرے مکاں پہ مرے نام کی لگی - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
تختی مرے مکاں پہ مرے نام کی لگی​
پھر ایسی بھیڑ گردشِ ایام کی لگی​
​
اُس کی نگاہِ برق سے بھڑکی جو سینے میں​
وہ آگ صبح تک نہ بجھی شام کی لگی​
​
مجھ کو کوئی بلاتا نہیں میرے نام سے​
تہمت عجیب مجھ پہ ترے نام کی لگی​
​
اُس شخص سے بچھڑ کے کئی روز تک مجھے​
صورت عجیب اپنے در و بام کی لگی​
​
دینا نہ دل کسی کو، کہ جاں سے بھی جاؤ گے​
درویش کی یہ بات بڑے کام کی لگی​
​
جو چاہے جب، خرید لے دل ایسا ہو گیا​
یہ جنس بھی ہمیں یہاں نیلام کی لگی​
​
ہے ترک کچھ دنوں سے جو کارِ سخنوری​
ریحان تم کو لت ہے یہ آرام کی لگی​
​
(ریحان اعظمی)​
 

سید زبیر

محفلین
جو چاہے جب، خرید لے دل ایسا ہو گیا
یہ جنس بھی ہمیں یہاں نیلام کی لگی
واہ ۔۔ نہائت عمدہ کلام شریک محفل کرنے کا شکریہ ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top