تازہ بہ تازہ نو بہ نو ( شعرائے اردو محفل کے اشعار)

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
مدنی نام بس مدینے کا ہے
ڈھنگ ان میں کہاں وہ جینے کا ہے

ہو مبارک ربیع الاول انھیں
عشق جن کا فقط مہینے کا ہے

میٹھے بھائی کی لاکھ میٹھی ہو بات
یہ وہ شربت نہیں جو پینے کا ہے
بالکل درست اور برمحل بات کی۔ بہت خوب
محبت کسی عام سے عام انسان سے بھی ہو جب وہ کسی خاص وقت میں مقید ہو کر رہ جائے تو ایسی جزوی محبت تو محبت کہلانے کی حقدار ہی نہیں ہے۔ اور اگر محبت کا دعویٰ "انک لعلیٰ خُلق عظیم" سے ہو تو اس کی شدت، گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہی لگا لیا جائے۔
 

سیما علی

لائبریرین
بالکل درست اور برمحل بات کی۔ بہت خوب
محبت کسی عام سے عام انسان سے بھی ہو جب وہ کسی خاص وقت میں مقید ہو کر رہ جائے تو ایسی جزوی محبت تو محبت کہلانے کی حقدار ہی نہیں ہے۔ اور اگر محبت کا دعویٰ "انک لعلیٰ خُلق عظیم" سے ہو تو اس کی شدت، گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہی لگا لیا جائے۔
لَوْکَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَاَطَعْتَه
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيْعٌ
’’اگر تیرے اندر محبوب کی محبت کا سچا جذبہ موجود ہے تو پھر اس کی اطاعت کرے گا اس لئے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کا تابع فرمان ہوتا ہے‘‘۔

نیز اتباع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبت الہٰی کا سبب بنتی ہے کیونکہ اسی خالق لم یزل کا ارشاد ہے :

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ.
(آل عمران : 31)

’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں : اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔

ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں فرمایا :
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا.
(الحشر، 59 : 7)
اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو‘‘۔

اور یہ بھی ایک کلی اصول اور قاعدہ ہے کہ کسی کی کامل اتباع اس سے محبت کئے بغیر نہیں ہوسکتی تو اس سے سرکار علیہ الصلوۃ والسلام سے اس درجہ کی محبت ہوجائے۔۔۔
 

یاسر شاہ

محفلین
جزاکم اللہ خیر روفی بھائی اور سیما خالہ
بالکل درست اور برمحل بات کی۔ بہت خوب
محبت کسی عام سے عام انسان سے بھی ہو جب وہ کسی خاص وقت میں مقید ہو کر رہ جائے تو ایسی جزوی محبت تو محبت کہلانے کی حقدار ہی نہیں ہے۔
کیلے کو فرج میں رکھتے ہوئے قبلہ رخ رکھیں۔
 
Top