بی بی سی سیربین: حکومتِ پاکستان صحافتی فیصلوں میں مداخلت نہ کرے، آر ایس ایف کا بیان

بی بی سی سیربین: حکومتِ پاکستان صحافتی فیصلوں میں مداخلت نہ کرے، آر ایس ایف کا بیان
2 گھنٹے قبل
_116670546_an2.jpg

آزادیِ صحافت کے حوالے سے عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے ایشیا پیسیفک کے سربراہ ڈینیئل باسٹرڈ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ میڈیا کے صحافتی فیصلوں میں مداخلت نہ کرے اور ایسا کرنا بنیادی طور پر جمہوریت مخالف ہیں اور ’پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے بدترین سالوں کی یاد تازہ کرتی ہیں۔‘

انھوں نے یہ بات پیر کے روز جاری ایک اعلامیہ میں کی ہے جو کہ پاکستان میں بی بی سی اردو کی جانب سے آج ٹی وی پر اپنا حالاتِ حاضرہ کا پروگرام ’سیربین‘ بند کرنے کے تناظر میں شائع کیا گیا ہے۔

ڈینیئل باسٹرڈ کا کہنا تھا کہ بی بی سی نے آج ٹی وی کے ساتھ اپنی شراکت داری ختم کر کے پاکستانی حکام کی میڈیا پر لگائی گئی بندشوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔

دوسری طرف حکمراں جماعت کے سینیٹر فیصل جاوید نے اس کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کی سنسرشپ نہیں ہے اور پاکستان کی تاریخ میں 'آج میڈیا سب سے زیادہ آزاد ہے۔'


یاد رہے کہ 15 جنوری کو بی بی سی کی عالمی سروس نے بی بی سی اردو کے ٹی وی پروگرام 'سیربین' کی پاکستانی ٹی وی چینل 'آج' پر نشریات کا سلسلہ ختم کر دیا تھا۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکام ٹی وی چینلز کو سنسر کرنے میں ہچکچاتے ہیں جب ان پر نشر کیا جانے والا مواد سویلین یا ملٹری حکام کی رائے کی عکاسی نہ کرتا ہو۔

تاہم حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیصل جاوید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان میں کسی قسم کی سنسرشپ ہے۔ 'آج میڈیا جتنا آزاد ہے، چاہے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی، اس سے پہلے اتنا آزاد نہیں تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات یہ واقعات ان کے سامنے نہیں آئے اور انھیں اس کی پیچیدگیاں معلوم نہیں ہیں کہ بی بی سی کا سیربین کیوں بند ہوا یا وائس آف امریکہ کو کس نوعیت کے ادارتی دباؤ کا سامنا ہے۔

'میرے پاس اگر یہ بات لکھی ہوئی آتی ہے تو میں اس کی تحقیقات ضرور کروں گا اور وزارت سے ضرور پوچھوں گا۔۔۔ ہم اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔'

بی بی سی ورلڈ سروس کے ڈائریکٹر جیمی اینگس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ہمارے پروگراموں میں کسی قسم کی مداخلت ہمارے اور ہمارے ناظرین کے درمیان اعتماد کی خلاف ورزی ہے، جس کی ہم اجازت نہیں دے سکتے۔'

'ہم سنہ 2020 اکتوبر سے اپنے نیوز بلیٹنز میں مداخلت دیکھ رہے تھے اور ہم نے 'آج' ٹی وی کو پروگرام کو دوبارہ آن ایئر کرنے کے لیے مناسب وقت دیا تھا۔

’لیکن مداخلت جاری رہنے کی وجہ سے دونوں جانب سے نیک نیتی سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود بی بی سی سیربین کی نشریات کو شروع نہیں کیا جا سکا ہے لہٰذا اب بی بی سی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ آج ٹی وی سے اپنی شراکت کو فوری طور پر ختم کر دے۔'

یاد رہے کہ بی بی سی اردو نے پاکستان کے نجی چینل 'آج' ٹی وی کے ساتھ سنہ 2014 میں ایک شراکت داری کے معاہدے کی بنیاد پر اپنے پروگرام 'سیربین' کی نشریات شروع کی تھیں۔

اس معاہدے میں، جو کہ بی بی سی دیگر ممالک کے ساتھ معاہدوں کی پالیسی کے عین مطابق تھا، بی بی سی مقامی زبان اور مقامی آڈینس کے لحاظ سے اپنا پروگرام آزادانہ ادارتی پالیسی کے تحت تشکیل دیتا ہے اور مقامی ٹی وی چینل اُس پروگرام کو نشر کرتا ہے۔

آر ایس ایف کی آزادیِ صحافی کی درجہ بندی میں پاکستان کا 180 ممالک میں 145واں درجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی اردو کا پروگرام ’سیربین‘ ٹی وی چینل ’آج نیوز‘ پر نشر نہیں ہو گا

کیا انڈیا اور پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟

’سچ لکھنے کی سزا ملی اور یہ معجزہ ہے کہ آج زندہ ہوں‘

انڈیا میں ’لفافہ صحافت‘ بڑے پیمانے پر قابل قبول


 

جاسم محمد

محفلین
ہم سنہ 2020 اکتوبر سے اپنے نیوز بلیٹنز میں مداخلت دیکھ رہے تھے اور ہم نے 'آج' ٹی وی کو پروگرام کو دوبارہ آن ایئر کرنے کے لیے مناسب وقت دیا تھا۔
بی بی سی اردو اکتوبر ۲۰۲۰ سے پی ڈی ایم کا ترجمان بنا ہوا ہے۔ پی ڈی ایم کا سرغنہ ایک سزا یافتہ مجرم، اشتہاری نواز شریف ہے جس کی تقاریر نشر کرنے پر پاکستانی عدالتوں نے پابندی لگا رکھی ہے۔ لیکن بی بی سی اردو یہ تقاریر حرف با حرف شائع کر رہا ہے۔
جو نشریاتی ادارہ پاکستانی عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتا وہ کس منہ سے اپنے پروگرام سیر بین میں مداخلت کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے؟ جس دن سزا یافتہ مجرم نواز شریف ملک کی عدالتوں میں خود کو سرنڈر کرے گا، وہاں سے قانونا ریلیف لے گا تب ہی اس کی تقاریر ٹی وی چینلز پر دکھائی جا سکتی ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ حکومت اور عدالتوں سے جھوٹ بول کر اپنی بیماری کا ڈرامہ کر کے لندن بھاگ جائے اور جب عدالتیں اس کی تقاریر نشر کرنے سے روکیں تو ایک غیر ملکی نشریاتی ادارہ اس کا ترجمان بن کر پراپگنڈہ شروع کردے کہ ملک میں صحافت آزاد نہیں۔
 
Top