بھلا لگتا ہوں میں سب کو مجھے تم اچھی لگتی ہو - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
بھلا لگتا ہوں میں سب کو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
جو ہونا ہے سو اب وہ ہو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
کبھی بھی جاگتے فتنے مجھے اچھے نہیں لگتے​
مگر تم سوؤ یا جاگو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
تمہارے گھر جو آئے ہیں تمہارا مانگنے رشتہ​
ذرا تم ہی انہیں کہہ دو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
زباں کھولی اگر میں نے تو رسوائی کا خدشہ ہے​
تمہی دنیا کو بتلا دو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
یہ مانا غیر ممکن ہے ملن تیرا مرا جاناں​
مگر میں کیا کروں بولو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
نہیں ہے گر یقیں تم کو مری باتوں کا میری جاں​
میرے احباب سے پوچھو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
اگر میری صداقت کا یقیں پھر بھی نہیں آئے​
مرا دل چیر کے دیکھو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
مرے خوابوں میں خیالوں میں تمہاری ہی ادائیں ہیں​
کوئی رُت کوئی موسم ہو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
زباں سے کہہ نہیں سکتے اگر ریحان تو اک دن​
کبھی خط میں اُسے لکھو مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
(ریحان اعظمی)​
 

طارق شاہ

محفلین
نہیں ہے، گر یقیں تم کو مِری باتوں کا میری جاں!​
مِرے احباب سے پوچھو، مجھے تم اچھی لگتی ہو​
​
مِرے خوابوں، خیالوں میں، تمہاری ہی ادائیں ہیں!​
کوئی رُت، کوئی موسم ہو، مجھے تم اچھی لگتی ہو​
بہت خوب!​
بہت عمدہ شیئرنگ​
تشکّر​
بہت خوش رہیں​
​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top