برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح

مانی عباسی

محفلین
جب تجلی انکی ہر سو دیکھیں
کیوں لب و رخسار و گیسو دیکھیں

وہ گزرتے جا رہے ہیں اور ہم
دہر کو مدہوشِ خوشبو دیکھیں

بے ٹھکانہ ہے صنم تو دل لے
آ سخنور حسن کی خو دیکھیں

بستیِ غم کا سفر یاد آئے
"تم" کو ہوتے جب کبھی "تو" دیکھیں

چشمِ ریگِ کوچہِ مجنوں میں
نامِ قیس آتے ہی آنسو دیکھیں
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب کہا ہے
چشمِ ریگِ کوچہِ مجنوں میں
نامِ قیس آتے ہی آنسو دیکھیں
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
بحر کی پابندی نہ ہوئی۔ اصلاح کی کوشش کی تو غزل نئے سرے سے لکھنی پڑے گی۔ مدد کے لیے مطلع کی نئی شکل بنا رہا ہوں ۔ بہتر ہو گا کہ اس کے مطابق غزل پھر سے لکھیں:

جلوہ اس کا ہی جو ہر سو دیکھیں
کیوں لب و عارض و گیسو دیکھیں​
بحر بنی: فاعلاتن فعلاتن فعلن​
 

مانی عباسی

محفلین
بحر کی پابندی نہ ہوئی۔ اصلاح کی کوشش کی تو غزل نئے سرے سے لکھنی پڑے گی۔ مدد کے لیے مطلع کی نئی شکل بنا رہا ہوں ۔ بہتر ہو گا کہ اس کے مطابق غزل پھر سے لکھیں:

جلوہ اس کا ہی جو ہر سو دیکھیں​
کیوں لب و عارض و گیسو دیکھیں​
بحر بنی: فاعلاتن فعلاتن فعلن​

اب صحیح ہے نا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


جب تجلی تری ہر سو دیکھیں
کیوں لب و عارض و گیسو دیکھیں

وہ جو گزریں تو گل و گلشن بھی
دہر کو ساقطِ خوشبو دیکھیں

بے ٹھکانہ ہے صنم تو دل لے
آ چلیں حسن کی پھر خو دیکھیں

وادیِ غم کا سفر یاد آئے
"تم" کو ہوتے کبھی جو "تو" دیکھیں

چشمِ ریگِ نگرِ مجنوں میں
نامِ قیس آتے ہی آنسو دیکھیں
 
Top