بحر ہندی سے متعلق چند سوالات

میر کا ایک شعر نظر سے گزرا ہے جہاں وتد مجموع درمیان میں آیا ہے

آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں

فعلن فعل فعولن فعلن فعَل فعَل فعِلن فعلن

جناب فاتح کی غزل میں بھی ایسا ہی ہے

فاتح عالم پڑی ہوئی تهی ہوس بهی سالی جهولی میں

فعل فعولن فعَل فعولن فعل فعولن فعلن فع

یہ اوزان بھی تسکین اوسط سے تو حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

یعنی یا تو یہ مصرعے مزمل شیخ بسمل بھائی کے فارمولے کے حساب سے غیر موزوں ہیں یا پھر عروض بحر ہندی کو سنبھال نہیں سکتا۔

کوئی رہنمائی کر دے تو شکر گزار ہوں گا۔

محمد وارث
الف عین
 

محمد وارث

لائبریرین
جی میں بھی اس مصرعے کو سمجھنے سے قاصر ہوں،ہاں اگر خدا خدا کا دونوں جگہ الف گرایا جائے تو شاید اس بحر میں فِٹ ہوتا ہے۔
 
جہاں دو وتد ہائے مجموع اکٹھے آ جائیں بحرِ ہندی میں ان کے شمار کا میرا ذاتی قاعدہ یہ ہے کہ پہلے وتدِ مجموع کا پہلا حرف متحرک، دوسرا ساکن اور تیسرا متحرک قیاس کیا جائے اور دوسرے وتد کا پہلا حرف ساکن، دوسرا متحرک اور تیسرا ساکن محسوب ہو۔
یعنی فَعَل فَعَل کو فَعلَف عَل پڑھا جائے گا۔
خدا خدا کی تقطیع اس طرح کی جا سکتی ہے:
خُد اَخ دَا
پڑی ہوئی کو یوں سمجھا جا سکتا ہے:
پَڑ اِہ وِی
دراصل ہندوستانی نظامِ آہنگ اور عروض دونوں کا مدار لہجے اور تلفظ پر ہے۔ مسئلہ صرف اس قدر ہے کہ عروض میں اس قسم کا کوئی زحاف ایجاد نہیں ہوا جو تسکینِ اوسط سے ملتے جلتے کسی قاعدے پر دو اوتادِ مقرون کو تین اسباب کے وزن پر لے آئے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صورت نہ صرف موزوں ہے بلکہ ہمارے لہجے کے عین موافق بھی ہے۔
 
در اصل میر کی ہندی بحر کے حوالے سے جومیں نے کلیہ اپنے مضمون میں بیان کیا تھا اسکے حوالے سے دو گزارشات ہیں:
پہلی یہ کہ یہ کلیہ اجمالی طور پر تمام اوزان کو تقریباً احاطے میں لے لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اساتذہ کی ایسی بندشیں جو کہ اس قاعدہ پر پوری نہیں اترتیں انکی تعداد بہت ہی محدود ہے۔
اس بحر کے تمام اوزان کی تعداد نکالی جائے تو دو سو چھپن (256) صورتیں بنتی ہیں جو کہ جمہور اساتذہ کے کلام میں کہیں نہ کہیں مل جاتی ہیں۔ جو بچ جاتی ہیں ان کو استثنا ہے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایسی استثنائی تراکیب میں کلام موزوں کرنا کوئی فرض یا واجب ہو۔
دوسری بات یہ کہ اس بحر کے حوالے سے میں نے عروض اور پنگل کی دسیوں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، اور اس دوران میر کا مذکورہ مصرع میرے زیرِغور تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ جو قوانین ہمیں ہمارے روایتی عروض میں حاصل ہوتے ہیں، پنگل یا چھند شاستر میں اس سے الگ کوئی بھی ایسا قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت مذکورہ مصرع کی اصولی تقطیع کی جاسکے۔
اب دو ہی صورتیں ہیں۔یا تو آپ اسے ہر قانون سے آزاد کردیں اور موزوں طبع شاعر کو کھلی چھوٹ دے دیجیےکہ وہ اپنے حسنِ ظن سے "بحرِ ہندی" میں مصرع موزوں کردے۔ یا پھر اسے ایک کلیہ دے دیجیے جس میں اس بحر کے جمہور مسائل حل ہو جاتے ہوں۔ اور میں نے یہ دوسرا کام ہی کیا ہے۔ :)
 
آخری تدوین:
Top