بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟۔ فاخرہ بتول

عمر سیف

محفلین
بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟
کہا ،کر کے وفا کا خون آخر بے وفا ٹھہرا
​
​
بھلا پھولوں سے بھنورے کس زباں میں بات کرتے ہیں؟
کہا، خوشبو سے خوشبو کا انوکھا رابطہ ٹھہرا
​
​
ذرا بتلاؤ اِک انجان پر اتنی عنایت کیوں؟
کہا، دل کے صحیفے میں یہی تو معجزہ ٹھہرا
​
​
سنو کیسا لگا اس شخص سے ملنا ، بچھڑ جانا؟
ملا تو اجنبی تھا وہ ، بچھڑ کر آشنا ٹھہرا
​
​
بھلا محبوب سو پردوں میں بھی کیونکر نمایاں ہے ؟
ازل سے تا ابد دل کے ، وہ کعبے کا خدا ٹھہرا
​
​
پلٹ کر ہر طرف سے کیوں نظر اس شخص پر ٹھہری؟
وفا کے سلسلوں کی وہ ، مسلسل انتہا ٹھہرا
​
​
فاخرہ بتول​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top