اقتباسات اے ابن آدم ابھی تو جانتا نہیں میں کون ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زریاب شیخ

یوسف سلطان

محفلین
وہ بڑا حیران تھا کہ اتنی عبادت کرنے کے باوجود جو مقام اسے ملنا چاہیئے تھا وہ ایک مٹی سے بنے انسان کو مل گیا ، اس کی آنکھیں غصہ سے سرخ ہو رہی تھیں نفرت اور انتقام اس میں بڑھتا جا رہا تھا اور اس نے پھر یہ نہیں سوچا کہ وہ جو کرنے جا رہا ہے اس کا انجام کیا ہوگا اور بولا میں اس مٹی کے بنے انسان کو سجدہ نہیں کروں گا اور یہ الفاظ ادا کرتے ہی ایک دم سے اس کے اندر سے ایمان نکل گیا جو علم اور حکمت اس نے سیکھی تھی وہ سب کی سب ختم ہوگئی اور اس کے اندر ایک اندھیرا سا ہوگیا ، پہلے جس نور نے اس کو اعلیٰ مقام دیا تھا اس کے تکبر نے وہ نور ختم کرکے اس کے اندر اندھیرا ہی اندھیرا کردیا تھا اس کی انا نے اس کو چین نہیں لینے دیا اور وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگیا، اس ہستی کے سامنے جس نے اسے بنایا جس نے اسے اتنا کچھ سکھایا جس نے اس کو ہر تکلیف میں اکیلا نہیں چھوڑا اور آج وہ محض اپنے علم کےتکبر کی وجہ سے اس ہستی کے سامنے کھڑا ہوگیا ، اس نے کہا کہ میں اس مٹی کے انسان سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے بنایا ہے، جس پر اللہ نے جواب دیا کہ نکل جا یہاں سے تیرا کیا حق ہے کہ تو یہاں رہ کر اکڑے اور غرور کرے،نکل یہاں سے کہ تو ذلیل ہے، وہ تب بھی نہ گھبرایا کیوں کہ اس کے اندر آگ بھری تھی اور تیز ہو گئی تھی وہ غصے سے قسم کھا کر بولا کہ میں سیدھے راستے پر بیٹھ جاؤں گا اور تیرے بندوں کو چاروں طرف سے گھیر لوں گا۔ اُن پر سامنے سے بھی حملہ کروں گا، پیچھے سے بھی، دائیں اور بائیں سے بھی پر حملہ آور ہوں گا اور چاروں طرف سے گھیر کر ان کو اپنا ساتھی بناؤں گا، انہیں تیرے شکر گزار بندے نہ رہنے دوں گا، لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہےوہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے شیطان کے ہاتھوں لٹیں ، بندے اُس چور سے بچنے کی ذرا سی بھی کوشش کریں تو وہ خوش ہوتا ہے ، ایک نیکی کے بدلے دس کا ثواب دیتا ہے اور بندہ خوابِ غفلت سے جس وقت بھی بیدار ہو جائے تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔ حتّیٰ کہ مرتے وقت بھی اگر اُس کی آنکھ کھُل جائے تو خدا تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اُسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے لیکن جو سوتے سوتے ہی ہمیشہ کے لئے سو جائیں تو سمجھ لیجئے کہ اُن کی قسمت ہی سو گئی، اللہ سے دعا ہے کہ علم دے تو تکبر اور حسد کبھی نہ دے کیوں کہ ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں جو آپ کی نجات کی بجائے آپ کیلئے وبال بن جائے۔
پرنس کی کتاب"میں ہوں شیطان" سے اقتباس
 
Top