اکبر حیدرآبادی : بدن سے رشتہ جاں معتبر نہ تھا مرا

سید زبیر

محفلین
​
بدن سے رشتہ جاں معتبر نہ تھا مرا​
​
میں جس میں رہتا تھا شاید وہ گھر نہ تھا میرا​
قریب ہی سے وہ گزرا مگر خبر نہ ہوئی​
دل اس طرح تو کبھی بے خبر نہ تھا میرا​
میں مثل سبز ۂ بیگانہ جس چمن میں رہا ​
وہاں کے گل نہ تھے میرے ' ثمر نہ تھا میرا ​
نہ روشنی نہ حرارت ہی دے سکا مجھ کو ​
پرائی آگ میں کوئی شرر نہ تھا میرا​
زمیں کو رو کش افلاک کردیا جس نے ​
ہنر تھا کس کا ' اگر وہ ہنر نہ تھا میرا​
کچھ اور تھا میری تشکیل و ارتقا کا سبب ​
مدار صرف ہواؤں پہ گر نہ تھا میرا​
جو دھوپ دے گیا مجھ کو وہ میرا سورج تھا ​
جو چھاؤں دے نہ سکا مجھ کو وہ شجر نہ تھا میرا ​
نہیں کہ مجھ سے مرے دل نے بیوفائی کی ​
لہو سے ربط ہی کچھ معتبر نہ تھا میرا​
پہنچ کے جو سر منزل بچھڑ گیا مجھ سے ​
وہ ہمسفر تھا مگر ہم نظر نہ تھا میرا​
اک آنے والے کا میں منتظر تو تھا اکبر​
ہر آنے والا مگر منتظر نہ تھا میرا ​
(اکبر حیدر آبادی)​
​
 

فرحت کیانی

لائبریرین
زمیں کو رو کش افلاک کردیا جس نے​
ہنر تھا کس کا ' اگر وہ ہنر نہ تھا میرا​
کچھ اور تھا میری تشکیل و ارتقا کا سبب​
مدار صرف ہواؤں پہ گر نہ تھا میرا​
واہ۔ بہت خوب۔ عمدہ انتخاب کے لئے بہت شکریہ سید زبیر انکل! :)​
 

بھلکڑ

لائبریرین
جو دھوپ دے گیا مجھ کو وہ میرا سورج تھا
جو چھاؤں دے نہ سکا مجھ کو وہ شجر نہ تھا میرا
واہ ۔شاندار انتخاب ہے بھائی۔۔۔۔ ​
 

باباجی

محفلین
واہ بہت کلام
بہت شکریہ شاہ جی
​
کچھ اور تھا میری تشکیل و ارتقا کا سبب ​
مدار صرف ہواؤں پہ گر نہ تھا میرا​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top