افغانستان میں بھارت سمیت 6 ممالک کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کا اجلاس،بلوچستان اور

فاروقی

معطل
کراچی (رپورٹ:- جاوید رشید) پاکستان کیخلاف پہلی مرتبہ چھ ممالک امریکا، بھارت، برطانیہ، روس، جرمنی اور فرانس کے انٹیلی جنس سربراہان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمع ہوئے ہیں۔ جنگ کو اپنے خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ برطانوی نژاد اسرائیلی انٹیلی جنس کے سربراہ برطانوی کاغذات پر اجلاس میں شرکت کیلئے 4/اکتوبر کو خصوصی طیارے سے کابل آئے ہیں معلوم ہوا ہے کہ پیر کے روز سے شروع ہونے والے اجلاس میں افغان انٹیلی جنس کے ساتھ ملکر ازبک اور تاجک لیڈروں اور ہرات اور قندھار کے قبائل کو مضبوط کر کے پاکستان کے صوبے بلوچستان اور سرحد کے اندر شورش کو بڑھائے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی سی آئی اے کے چیف گزشتہ دنوں طالبان سعودی عربیہ مذاکرات اور افغان لیڈروں کی بات چیت کا مکمل متن حاصل کر کے کابل آئے ہیں۔ برطانوری انٹیلیجنس افغانستان کے اندر استحکام کے لئے نیا فارمولا سامنے لانے والی ہے۔ انڈین انٹلیجنس کو امریکا، برطانیہ، اسرائیل اور روس کی آشیرباد سے مستحکم افغانستان کے لئے مضبوط کرنے اور بھارت کو اس کیلئے ڈیڑھ سو کروڑ ڈالر چھ اقساط میں فراہم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ جرمن انٹیلیجنس نے القاعدہ کے اصل افراد کو تلاش کر کے ان سے رابطے کا عندیہ دیا ہے جبکہ فرانس کی انٹیلیجنس افغانستان میں امن کیلئے تمام وسائل مہیا کرے گی ۔ افغان انٹیلیجنس کی ازسر نو تشکیل کرے گی ،اسے افغانستان کی فورسز کے اندر سے پاکستانی اثرات کو ختم کرانے میں افغان حکومت کی حمایت حاصل ہوگی۔
 

امکانات

محفلین
[کراچی ([رپورٹ:- جاوید رشید"]
جاوید رشید جنگ کے سینئر رپورٹر ہیں ان کی خبریں بھارتی را اور پاکستانی سیکورٹی کو چونکا دینے والی ہوتی یہ روزنامہ جنگ کے لیے انڈین ڈیسک پر کام کرتے ہیں آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ان کا خاص موضوع بھارت پاک بھارت تعلقات اور مقبوضہ کشمیر ہے یہ بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہین اپوزیشن ہو یا حکومت یہ بھارتی حکمرانوں سے رابطے میں رہتے ہیں ان کی معلومات کے ذرائع کیا ہوتے ہیں یہ میں کھل کر نہیں بتا سکتا ان سے میری راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشن پر ملاقات ہو ئی تھی وہ بھی کراچی کی ٹکٹ والی قطار میں تھے اور میں بھی میرے برابر کھڑے تھے میرے پاس ریلوے کا مخصوص کارڈ تھا جو خاص صحافیوں کو دیا جاتا ہے مین نے ان سے پوچھا یا انہوں نے خیر بات چل نکلی انہون نے ریلوے کارڈ کے باوجود لائن میں کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی میں نے اسے راواپندی کے صحافیون کی سستی قراردیا ان کے کہنے کا مقصد تھا کہ اس کے لیے تو مخصوص لائن ہونے چاہیے جہاں جلدی سے ٹکٹ بن جائے میرا تو ان کو پتہ چل گیا تھا کہ میں کوں ہوں میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میرا ساتھ انتہائی شرافت اور شہری معصومیت سے کھڑا یہ شخص صحافی بھی ہو سکتا ہے لائن لمبی تھی میں اپنے راویتی رعب سے ان سے پوچھ لیا تو انہون نے جنگ کا نام لیا اس بات پر میں نے انہیں ایک بار اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھا سچی بات ہے میں نے دل میں سوچا کہ زیادہ سے زیادہ کلرک ہونگے شعبہ کا پوچھا تو جب انہون نے رپورٹر کہا تو ایک جھٹکا مجھے اور لگا بیٹ پوچھی اور نام پوچھا تو ایک بار پھر میں نے انکا جائزہ لیا یہ نام کم ازکم میرےلیے بڑا تھا کہ میں انکی رپورٹیں پڑھتا تھا اتنے بڑے رپورٹر کی سادگی پر مجھے تعجب ہوا تو میں نے کہا --را-- اور (فلان فلان)کو تگنی کا ناچ نچوانے والا انتا سادہ ہوگا میں سوچ بھی نہں سکتا انہوں نے کہا ہم بھی تو عام شہری ہیں سادگی اچھی چیز ہے وہ لوگ جنکا چہرہ آسانی سے نہ پڑھا جاسکے قومی سلامتی کے امور میں خاصے کامیاب ہوتے ہیں ان کی اس خبر کو اس پس منظر کے ساتھ پڑھا جائے تو آسانی سے سچائی سمجھ میں آسکتی ہے [/size]
 
Top